جھنگ کی تباہی کا زمہ دار کون چشم کشا کالم علی امجد چوہدری کے قلم سے سٹار نیوز پر
؟ہر حلقہ کی تاریخ زیر بحث آئے گی آج کا حلقہ سابقہ این اے 91 اور پی پی 83ہے آج کا زیر بحث موضوع آپ کی آراء کا انتظار رہے گا علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ مدثر سنپال تحصیل احمد پور سیال کی خانیوال اور مظفر گڑھ کی حدود کو چھوتی آخری یونین کونسل سمندوانہ کا رہائشی ہے یہ آج سے بیس روز قبل گھر سے پانی لینے کے لیئے ہینڈ پمپ کی طرف نکلا تو کسی چیز نے ڈنگ لیا گھر میں کہرام مچ گیا ایک روز قبل یہاں بارش بھی آ چکی تھی کوئی دس سے پندرہ گھروں پر مشتمل آبادی میں کہرام تو برپا ہو گیا مگر مدثر کو یہاں سے لے جانے کی ترکیب کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کیونکہ کچے راستے میں بنی دلدل اندھیرے کا سماں یہ آسان مرحلہ نہیں تھا اکیسویں صدی میں بجلی جیسی عام ضرورت زندگی سے محروم ان پندرہ سے بیس گھروں کے بچوں سے لے کر خواتین اور بزرگ چلا تو رہے تھے مگر روشنی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک دوسرے کو پہچان تک نہیں پا رہے تھے کچھ خواتین اور مردوں نے مدثر کو نکالنے کی کوشش کی مگر چارپائی کو وہاں سے لے جانے کی کاوش میں کئی اور مرد وخواتین رگڑیں اور خراشیں آنے سے کراہ رہے تھے پندرہ گھروں پر مشتمل اس بستی کے کوئی تیس کے قریب مرد وخواتین کوئی چار گھنٹے کی مشقت کے بعد مدثر کی چارپائی اور موٹر سائیکل کو لے کر قریب ترین کی پختہ شاہراہ فتح پور سمندوانہ روڈ پر پہنچے اور وہاں سے موٹر سائیکل پر سوار کرکے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا خوش قسمتی سے اس کی جان بچ گئی یہ رات اس خاندان کے مرد وخواتین نے بارش زدہ کچے راستے پر سفر کرتے گزاری یہ آبادی ان بدقسمت آبادیوں میں شامل ہے جن کے اطراف میں بجلی کی سہولت میسر ہے مگر یہاں نہیں ہے ایسا کیوں ہے اس کی بنیادی وجہ وہ احساس کمتری ہے جو اس قوم کی ترقی میں سب سے رکاوٹ ہے اسے تھرڈ گریڈ بھی کہا جا سکتا ہے ووٹ اسی تھرڈ گریڈ کا ہوتا ہے مگر فوائد یا تو فرسٹ گریڈ لیتا ہے یا بھر سیکنڈ گریڈ فرسٹ گریڈ وہ ہوتا ہے جو اراکین اسمبلی کے ساتھ گاڑیوں کی قطاروں کی صورت میں گھومتا ہے یہ گریڈ بنیادی طور پر فنانسر ہوتا ہے یہ ہر رکن قومی اسمبلی کو اپنے حصار میں لیئے ہوتا ہے اور سب سے کامیاب ٹھہرتا ہے این اے 91 اور پی پی تراسی (سابقہ)میں اس کلاس کے لوگ خوب پائے جاتے ہیں پچھلے پندرہ سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو اس حلقے میں یہ کلاس سب سے زیادہ نوازی گئی گزشتہ ادوار میں کھاد کی کمی پر جب غیر ملکی کھاد درآمد کی گئی تو اس وقت کے رکن قومی اسمبلی نے یہ کوٹہ اسی صاحب کو دیا جس کے زاتی رقبہ میں سڑکوں کے جال پچھلے دور حکومت میں کھاد کے پرمٹ دینے والے ایم این اے جو ماشاللہ اس وقت وفاقی وزیر بھی ہیں کے سیاسی حریفوں نے دے دیئے نتیجہ یہ نکلا کہ کلاس سب نے ایک ہی نوازی اس کلاس نے نہروں پر پانی پر ڈاکہ ڈالا انہوں نے گندم کے گوداموں پر عام کسان کو ذلیل و خوار کر کے اپنے لیئے راہ ہموار کی مگر مجال ہے جو اس پر کوئی حرف آیا ہو نہروں پر پانی پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے بارے تمام سیاسی حریف خاموش رہے کیونکہ یہ فرسٹ کلاس سب کے لیئے اہمیت رکھتی ہے احمد پور سیال طویل اقتدار کے بعد بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے کیونکہ سڑکوں سولنگوں اور سیوریج کے ٹھیکدار بھی اسی کلاس کے ہیں ایک رکن صوبائی نے ایک سابق اسسٹنٹ کمشنر کی مبینہ طور پر دس کروڑ کی کرپشن کو بے نقاب کرنا چاہا تو ایک صحافی آڑے آ گئے ایم پی اے صاحب کو surrenderکرنا کرنا کیونکہ یہ صحافی بھی اسی فرسٹ کلاس کے تھے یہی ایم پی اے صاحب لینڈ ریکارڈ کے معاملے پر عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھے انہوں نے اعلی حکام کو خط لکھے مگر پھر دو صحافی مڈل مین کا کردار خوب ادا کر گئے کیونکہ یہ صحافی بھی اسی کلاس کے تھے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس کل مختار سابقہ دور میں بھی رہے مگر مریض رسوا ہی ہوا یہ سابقہ حکمرانوں کے بھی منظور نظر رہے اور موجودہ حکمرانوں کی آشیرباد بھی حاصل کر لی اپنے رشتہ داروں کے ہاں ایک پرتکلف دعوت کے زریعے محمکہ مال میں اسی کلاس کو نوازا جارہا ہے اسسٹنٹ کمشنر آفس میں ان کو کرسی بھی ملتی ہے اور چائے بھی مگر تھرڈ کلاس آج بھی صاحب کے بلاوے کے انتظار میں شام کو بوجھل قدموں سے واپس چلی جاتی ہے ہسپتال میں صبح سے لائنوں میں کھڑے یہ تھرڈ کلاس اس وقت چپکے سے اسی کلاس کو راستہ فراہم کر دیتے ہیں جب اراکین اسمبلی کے فون اسی فرسٹ کلاس کی عزت و تکریم کی بحالی کے لیئے ہوتے ہیں تھانہ بھی اس کلاس کی عزت افزائی میں کچھ کم نہیں ہے پچھلے دور حکومت میں اسی کلاس کے ایک فرد کی عزت افزائی کے لیئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں حرکت میں أ گئے تھے اسی کلاس کے لوگوں نے شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کر کے تھرڈ کلاس خاندان کی ایک بچی کو زخمی کر دیا اس وقت کے دلیر ایس ایچ او نے کوئی دلہا سمیت انتیس افراد کو گرفتار کیا مگر اس وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں دلہا کی رہائی کے لیئے بے چین رہے اور بالاخر رات گئے دلہا ہی رہائی پر ہی سانس لیا حالانکہ ان دنوں اسی تھانہ کی حوالات میں ندیم نامی نوجوان ناکردہ گناہوں کی پاداش میں بغیر مقدمہ حوالات میں بند تھا مگر تھرڈ کلاس کے اس ندیم کی بھلا کیا عزت تکریم اس تحصیل کے اہل نوجوان آج بھی بے روزگاری کا شکار اور نااہل مگر فرسٹ کلاس کے لوگ آج بھی اہم عہدوں پر براجمان کوریا کے ویزے بھی اسی کلاس کو ملے اور تجاوزات کے نام پر کیئے گئے آپریشن میں بھی یہی محفوظ رہے گرائے گئے تو صرف تھرڈ کلاس کے کھوکھے اور غریب خوانچہ فروشوں ریڑھیاں مگر تھرڈ کلاس کی ریڑھی ہو یا کھوکھا یا پھر مدثر سنپال کی بستی ان سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ عزت و تکریم ان کے شایان شان نہیں ہوتی یہ جن کے شایان شان ہوتی ہے انہیں سابقہ ادوار میں بھی ملتی آئی ہے اور موجودہ دور میں یہ نوازش بھرپور طریقے سے جاری ہے (اسی حلقے کی دوسری قسط چشم کشا حقائق پر مبنی کل انشاللہ )
والسلام علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 03036559570













