سرگودھا یونیورسٹی
تحریر مہر عدنان حیدر
یونیورسٹی آف سرگودھا میں نئے طالبعلوں کے لیے ۔
یونیورسٹی آف سرگودھا کی پاکستان میں بہترین پوزیشن کی وجہ یہ ہے کہ اس کے قریب سرائیکی وسیب خصوصا جھنگ بھکر میانوالی لیہ اور اس کے قریب دیگر اضلاع میں کوئی قابل قدر یونیورسٹی نہیں ہے ۔ جہاں حصولِ علم کے خواہش مند اپنی مرضی کے مطابق اپنے مضمون کے انتخاب کے بعد پڑھ سکیں جس کی وجہ سے ہزاروں حصولِ علم کے خواہش مند طالبعلموں کو یونیورسٹی آف سرگودھا آنا پڑتا ہے ۔ دوسری وجہ یونیورسٹی آف سرگودھا کا بس سسٹم ہے جو قریب کے علاقوں سے ایک بڑے مارجن کو یونیورسٹی لاتا ہے ۔ تیسرا اس کا تعلیمی ماحول ہے ۔ چوتھا یونیورسٹی آف سرگودھا میں یونیفارم اور گرلز ہاسٹلز ہیں۔البتہ گزشتہ سال یونیفارم کو تبدیل کر کے سفید شلوار قمیض کی اجازت دی گئی ہے جو ایک احسن اقدام ہے ۔ اور پانچواں اور آخری اس کا سمسٹر ٹائم سسٹم ہے جو پہلے سے ہی پلین کیا گیا ہوتا ہے۔ البتہ کرونا وباء کی وجہ سے سابقہ سمسٹر جو کہ عموما چار مہنے پر مشتمل ہوتا ہے 240 دن یعنی 8 مہینے میں مکمل ہوا ۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹی آف سرگودھا میں مقامی طالبعلموں کے برابر پسماندہ اضلاع جھنگ بھکر میانوالی لیہ اور خوشاب کے طالبعلم پڑھتے ہیں ۔یونیورسٹی آف سرگودھا مین کمپس میں ان اضلاع کے طالبعلموں کو بہت سی پریشانیوں اور دشواریوں کا سامنا بھی ہوتا ہے ۔جس میں سر فہرست ہاسٹل کا مسئلہ ہے کیونکہ پوری یونیورسٹی میں دو بوائز ہاسٹلز ہیں جن میں پانچ سو کے قریب کچھ مخصوص بچوں کو ایک محدود وقت یعنی دو سال تک داخلہ دیا جاتا ہے ۔جس بنا پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پسماندہ اضلاع کے بچوں کے ساتھ ہاسٹل کے معاملے میں سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور ان کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔اور طالبعلم کو باہر کے ہاسٹلوں میں ناقص سہولیات کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے ۔۔ یونیورسٹی کے قریب ہاسٹلز کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک عام کمرے کا کرایہ فی طالبعلم 4000 روپے ماہانہ میں پڑتا ہے۔ دوسرا مسئلہ پانی کا ہے البتہ یونیورسٹی کے ایریے میں پانی بہت اچھا ہے مگر سرگودھا شہر کا پانی پینے کے قابل بھی نہیں۔ یہاں ہاسٹلوں کے کرایوں میں اضافہ بھی اس معیار پر ہوتا ہے کہ آیا پانی میٹھا ہے کہ نہیں۔ یونیورسٹی آف سرگودھا جہاں بے شمار خوبیوں پر مشتمل ہے وہاں اس کی بڑی خامی اس کا مینجمنٹ سسٹم ہے ۔جس کو آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہاں پروفیسروں کے مقابلے میں کلرک اور آپریڑوں کی تعداد زیادہ ہے مگر مجال ہے کہ کس مقرر وقت میں کوئی کام ہو جائے ۔یہاں کا میرٹ سسٹم بھی کافی سخت ہے ۔ CGPA بھی اتنی آسانی سے نہیں بنتی ۔ یونیورسٹی آف سرگودھا میں فارمیسی فزکس اور کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کافی مشکل ڈیپارٹمنٹ مانے جاتے ہیں ۔جس کے میرٹ کی وضاحت یوں دی جا سکتی ہے کہ یہاں فزکس کے فسٹ سمسٹر میں ہی آدھی سے زیادہ کلاس ڈراپ آوٹ ہو جاتی ہے ۔پچھلی بار یونیورسٹی میں فزکس کے ایوننگ کلاسسز میں 100 لڑکوں کو داخلہ دیا گیا ۔ جس سے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے میرٹ کو جانچا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ دوسرے سمسٹر میں بچوں کی تعداد گنتی کے برابر بچنی ہے ۔ یونیورسٹی کے اندر اگرچہ کنٹین میں مہنگائی درمیانے لیول کی ہے مگر کوآپریٹو سٹور پر ایک روپے کی ٹافی بھی تین روپے میں اور پانچ روپے کی دس روپے میں بیچی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی ۔ تو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کوآپریڑر سٹور اور دیگر کنٹین کے ٹھیکہ جات اتنے مہنگے دیے گئے ہیں جن سے مہنگائی کرنا ان کی مجبوری بن جاتا ہے
یونیورسٹی میں مسجد اور لائبریری قابل تعریف ہے ۔کیونکہ دونوں کی نذیر نہیں ملتی ۔
اگر آپ نئے نئے سرگودھا یونیورسٹی میں آئیں ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔عنقریب آپ کو یہاں بہت سارے دوست مل جائیں گے ۔
تحریر ۔مہر عدنان حیدر ۔بی ایس اردو
سرگودھا یونیورسٹی
03417801740
mahradnan000@gmail.com













