اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کر دی،

تحریر: محمد فاروق برڑو قادری

مؤمن کو اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت میں کجھ نہیں روک سکتا، نا اسرائیل کے بم دھماکہ روک سکتے ہیں، نا اسرائیل کی گولیاں روک سکتی ہیں اور نا ہی کوئی میزائل۔ اے میرے رب کریم اپنے پیارے محبوب کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے صدقے میں فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما! اے میرے پروردگار فلسطین کے مسلمانوں کو ان یہودیوں کے ظلم وستم سے آزاد نصیب فرما، اے میرے اللّٰہ کوئی ایسا بندہ بیجھ جو بہادر ہو اور وہ فلسطین کے مسلمانوں کو آزادی دلائے۔ اسرائیلی یہودیوں سے بیت المقدس کو آزاد کروائے،
فلسطین کے مسلمانوں ہم شرمندہ ہیں آپ سے ہمارے حکمرانوں صرف اور صرف مذمت کریں گے اور مذمت کر رہے ہیں اس سے کیا ہوگا۔ اسرائیل فلسطین پے ظلم سے روک جائے گا، نا توہین رسالت کی حفاظت کرسکتے ہیں اور نہ کسی مسلمان پر ظلم کرنے کی حفاظت کرسکتے ہیں، حکمران صرف مذمت کریں گے مذمت سے کیا ہوگا؟ ہمیں مذمت نہیں چاہیے ہمیں مرمت چاہیے اسرائیل کی۔
اسرائیلی حملے میں سیکڑوں سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور دوسری طرف قبلہ اول کی تحفظ کی خاطرفلسطینی ڈٹ گئے،
اسرائیلیوں بے بس فلسطینیوں پر ظلم کا پہاڑ توڑ ڈالا، نمازیوں پر ربڑ کی کوٹنگ والی گولیاں برسائیں، شیلنگ کی، بم بھی پھینکے، مسجد کے قالین کو بھی آگ لگ گئی۔
حملوں میں سیکڑوں سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے،، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسکے باوجود فلسطینی جرات کی دیوار بن گئے، اسرائیلی مظالم کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا، قابض فورسز پر خوب پتھراؤ کیا اور آخری دم تک قبلہ اول کے تحفظ کا اعلان بھی کیا۔
بے رحم اسرائیلیوں نے خواتین کو بھی نہ بخشا بے دردی سے گرفتار کیا، بہادر فلسطینی لڑکی ہتھکڑیاں لگتے ہوئے مسکراتی رہی، مسجد الاقصیٰ کے باہر یہودی شہری نے فلسطینیوں پر گاڑی چڑھا دی۔
مئی 1948ء کے بعد اسرائیلیوں نے منظم سازش کے تحت بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے لیے قتل گاہیں سجائیں ، 1948ء میں اس جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کے 78فی صد علاقے پر قبضہ کر کے سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا ، یہ فلسطینی مہاجر لبنان ، شام ، اردن ، مغربی کنارے، غزہ ، مراکش ، تیونس ، مصر اور دنیا کے کونے کونے میں جا کر پناہ گزیں ہوئے اور آج تک مہاجر ہیں ۔ ان فلسطینی مہاجروں کو اپنے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے ۔
اس ستم رسیدہ فلسطینیوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی نظروں کے سامنے سفاکی کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے زبردستی ملک بدر کر دیا اور بین الاقوامی ضمیر سویا رہا یا مصلحت ِ وقت کی بنا پر خاموش رہا ۔ ادھر یہودی فلسطینیوں کی جائیداد ، گھروں ، باغات ، فصل سے لدے ہوئے کھیتوں اور زمینوں کے راتوں رات مالک بن گئے ۔ اسرائیل میں ایمرجنسی قوانین نافذ کر دئیے گئے جو آج لاگو ہیں ۔
الغرض 1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کر کے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کے قبضے میں آچکا ہے تو انہوں نے اپنے لیے برطانیہ کی طرف سے مخصوص کردہ علاقے میں اسرائیل کے نام سے نئی سلطنت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور روس سمیت عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حد بندی کر کے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا ۔
اس کشمکش میں یہودیوں نے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ کیا مگر بیت المقدس کا مشرق حصہ جس میں بیت المقدس کا مقدس احاطہ ہے ، اردن کے پاس رہا اور اس پر اس کا انتظامی حق تسلیم کر لیا گیا ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر ، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا اور اس وقت سے یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے ۔
اللہ کریم اہل فلسطین کی مدد فرمائے اور پوری امت کو آزادی کی نعمت عطاء فرمائے۔ اے اللّٰہ ہمارے حکمرانوں کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اے میرے رب ہماری دعاؤں کو حضرت محبوب مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے وسیلے سے قبول فرما، (آمین ثم آمین)