اساتذہ اور سرکاری ملازمین سراپا احتجاج
تحریر:سلمان احمد قریشی
استاد ایک بہت بڑی ذمہ داری کا نام ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی کی بنیاد اصل میں استاد ہی ہوتے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اسلام اور ترقی یافتہ ممالک میں جتنا احترام ایک استاد کو دیا گیا ہے اتنی ہی تذلیل استاد کی ہمارے معاشرے میں کی جاتی ہے۔معاشی طور پر اساتذہ کا شمار سفید پوش طبقہ میں ہوتاہے۔ حکومت اساتذہ سے تدریسی عمل کے ساتھ الیکشن ڈیوٹی مردم شماری سمیت گلی محلوں میں سرکاری معاملات کی تکمیل کے لیے بھی اساتذہ سے ڈیوٹی لیتی ہے۔اساتذہ کو تنخواہ کے ساتھ دیگر سرکاری مراعات بھی نہیں دی جاتیں جیسے دوسرے محکمہ جات میں افسر شاہی کو حاصل ہیں۔دوسری طرف اساتذہ کو تنخواہ کی ادائیگی بھی قومی خزانہ پر ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ پالیسی ساز افسرشاہی سے مل کر آئے روز نت نئی پالیسیاں سامنے لاتے ہیں,جن کا مقصد اساتذہ کو پریشان کرنا اور انکے حقوق کو غصب کرنیکی خواہش کے سوا کچھ نہیں۔
قارئین کرام! آج پنجاب میں پینشن رولزمیں تبدیلی کے خلاف سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، لاہور میں سول سیکرٹریٹ کے سامنے ٹیچرز یونین نے بھی احتجاجی دھرنا دیا جس میں گورنمنٹ آف پنجاب نے اساتذہ کرام کے عہدہ داران اورٹیچر راہنماؤں کو گرفتار کر لیا تھا.اس شرمناک کاروائی پرتمام سرکاری سکولز کیاساتذہ کرام سراپا احتجاج بن گئے، سیاہ پٹیاں باندھ کر، پلے کارڈز اٹھا کر اپنے اپنے سکولز اور کالجز میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہم۔نے پرامن احتجاج کیا لیکن پنجاب کی بے حس نگران حکومت نے تمام حدیں پار کردیں۔اپنے جائز حقوق مانگنے والوں کی گرفتاریاں ہمیں منظور نہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کرام اور ان کے راہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے، پنشن رولز میں تبدیلی اور لیو انکیشمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، اور سرکاری سکولز کی نجکاری بھی نامنظور ہے۔لاہور کے سول سیکرٹریٹ کے باہر احتجاج کرنے والے سینکڑوں اساتذہ و سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔اساتذہ پنشن قوانین اور سالانہ چھٹیوں کی نقد ادائیگی قوانین میں تبدیلی پر احتجاج کر رہے تھے۔پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکریٹری رانا لیاقت کا کہنا ہے کہ پُرامن ملازمین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، پنجاب بھر میں اساتذہ تعلیمی بائیکاٹ اور تالہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔ گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، ملازمین مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سول سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاج کا لائحہ عمل اور حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔اساتذہ کرام کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے سب آگاہ ہیں قابل غور اور قابل افسوس امر یہ ہے کہ آخر اساتذہ تنہا کیوں ہیں۔۔؟ کیا سرکاری سکولوں کی نجکاری صرف اساتذہ کا مسئلہ ہے؟ کیااس سے عام آدمی کے زیر تعلیم بچے متاثر نہیں ہونگے۔۔۔؟ نجی تعلیمی مافیا جو بھاری فیسوں اور اشتہارات کے ذریعے تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا چکا ہے اس کے کردارپر بات کرنا کیا سب پر فرض نہیں۔۔؟ نگران حکومت جس کا واحد مینڈیٹ صرف اور صرف بروقت اور شفاف الیکشن کروانا ہے وہ مالک کل بن چکے ہیں۔ایسا کیوں نہ ہو جب ہم سیاسی معاملات میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ ایک جماعت صرف ایک قائد کی واپسی کو لیکر بھاگ دورڑ میں مصروف ہے دوسری جماعت اپنے لیڈر کے مقدمات اور گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دے کر تمام حدود پار کرگئی۔تعلیم کے ساتھ جو کچھ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اس پر کوئی بات کرنے پر بھی تیار نہیں۔جبکہ تمام جماعتیں عام آدمی کا ذکر اور انکی نمائندگی کے دعویدار ہیں۔سب مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اساتذہ کے احتجاج میں سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت کو کھل کر سامنے آنا چاہئیے تاکہ عوام سے محبت کے دعوے سچ ثابت ہوسکیں۔
کچھ عرصہ پہلے ایک نوٹیفیکیشن پڑھا تھا، جس میں لکھا تھا کہاساتذہ جب بھی تھانے میں کسی کام کے سلسلے میں جائیں گے، وہاں پر موجود آفیسر، سپاہی، سلیوٹ کریگا،اور ان کو بیٹھنے کے لیے کرسی دی جائے گی،
ان کو پانی پیش کیا جائے گا۔ بہت تکلیف سے یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ شاید وہ اسطرح کی عزت افزائی کا حکم ہوگا جس سے آج اساتذہ کو نوازا جارہا ہے یعنی اساتذہ پر تشدد اور گرفتاریاں یہ ہے حکومت کی اصلیت اور پالیسی سازوں کے منصوبے، عام آدمی سے تعلیم کی سہولت بھی چھیننا چاہتے ہیں۔بہت سے ادارے ملکی خزانہ پر بوجھ ہیں انکی نجکاری ضروری ہے لیکن تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کا فرض ہے۔اس فرض سے انکار عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔اس ڈاکہ پر اساتذہ کا تنہا احتجاج اجتماعی بے حسی کی بدترین مثال ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے استاد اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ حکومت نے کٹ لگانا ہے تو اپنے دوروں پر لگائے، بیوکریسی اپنے 12 ارب کے پیٹرول پر کٹ لگائے۔ ہم غریب اساتذہ یا دوسرے محکموں کے لوگوں پر اسطرح کی کٹوتیاں نہ کی جائیں۔ پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے اور نگراں حکومت سرکاری ملازمین کو دبانے پر لگی ہوئی ہے۔اساتذہ تنظیم کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ پنشن ہی ہماری جمع پونجی ہوتی ہے اس سے ہی ہم اپنے بچوں کی شادی یا کاروبار کرا سکتے ہیں لیکن اب یہ سب ختم کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ اساتذہ کی پینشن میں کٹ لگانا، اسکولوں کو پروائیوٹائز کرنا اور لیو انکیشمنٹ بند کرنے کا مقصد نگران حکومت کا آئی ایم ایف معاہدوں پرعملدرآمد کروانا ہے۔ پنجاب حکومت ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں جو پی ڈی ایم کی حکومت گئی ہے اس حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا کہ حکومت اخراجات پر کٹ لگائے گی۔ نگراں حکومت نے خود سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
حکومت اور اساتذہ آمنے سامنے ہیں اور آئی ایم سے معاہدے کرکے غریب سے جینے کا حق چھینے والی سیاسی قیادت اس معاملہ سے دور ہے۔سیاسی قیادت عوام کو لوٹنے کے بعد ایک دفعہ پھر بیوقوف بنانے کی تیاری کررہی ہے۔شہباز شریف کی حکومت سے زیادہ نااہل اور ظالم حکومت ملکی تاریخ میں نہیں آئی۔یہی قیادت پھر میاں نوازشریف کی آمد کو لیکر سیاست کرنے چارہی ہے۔ صرف سڑکوں اور اورنج ٹرین کو ترقی سمجھنے والے ووٹر نئی صف بندی کررہے ہیں۔یہ سوال کوئی نہیں کرتا کہ خزانہ پر تو اورنج ٹرین بھی بوجھ ہے۔ موٹروے کی تعمیر سے پہلے عوامی سواری ٹرین کے محکمہ ریلوے کو درست اور بہتر کیوں نہیں کیا۔ ڈالروں میں بجلی کی کپیسٹی پیمنٹ کرنے والے قوم کے محسن کیسے ہوسکتے ہیں۔ سیاسی دکانداری چمکانے کے لیے عوام سے صحت اور تعلیم کی سرکاری سہولیات ختم کرنے کی خواہشمند اور اس ناخوشگوار اذیت ناک ماحول کے ذمہ دار ہی ہمارے لیڈر ہونگے تو پھر اساتذہ کا احتجاج کیا معنی رکھتا ہے۔ ہم تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ اقتصادی نہیں فکری ہے۔ جب تک ہم جذبات سے بالاتر نہیں ہوتے اور شخصیت پرستی کے بت نہیں توڑیں گے یہ ظلم ختم نہیں ہوگا اور بڑھتا ہی جائے گا۔ آج تعلیم کا حق چھینا جارہا ہے کل یہ عرصہ حیات بھی مزید تنگ کریں گے۔ سیاسی مافیا اور افسر شاہی کا مقابلہ صرف اور صرف سیاسی شعور سے ہی ممکن ہے۔آج اساتذہ احتجاج کررہے ہیں کل سب کریں گے خدا نہ کرے کہ تب تک بہت دیر ہوجائے۔








