سہولیات دے نہیں سکتے،تو بھتہ خوری کیوں، فاطمہ قمر کادبنگ کالم۔۔سٹارنیوزپر
تم مفت تعلیم نہیں دے سکتے ‘ تم مفت علاج نہیں دے سکتے’ تم بجلی ‘ نہیں دے سکتے’ تم گیس نہیں دے سکتے’ تم مفت سیکورٹی نہیں دے سکتے ‘ تم سڑکیں نہیں دے سکتیے تو تم تمہیں ٹیکس کے نام پر بھتہ لینے کا بھی حق نہیں! پینشن سرکاری ملازمین کی تںخواہ کی بچت ہے جس پر پنجاب کا نقلی وزیر اعلیٰ کیسے ڈاکہ ڈال سکتا ہے؟ آئین کے تحت نقلی و عارضی وزیر اعلیٰ صرف الیکشن کروانے کا مینڈیٹ رکھتا ہے’ قانون سازی اور قانون میں ترمیم اس کا اختیار ہی نہیں تو وہ اپنے اختیار سے تجاوز کیسے کرسکتا ہے؟کسی بھی ملک میں عارضی’ نگران یا نقلی وزیر اعلیٰ کی مثال ایک حلالہ ذدہ شوہر کے مانند ہوتی ہے۔ جسے سابقہ زوجہ سے عقد کے لئے با امر مجبوری نکاح کے بندھن میں باندھا جاتا ہے’ جیسے ہی وہ ضرورت پوری ہوتی ہے پھر اس عارضی معاہدے کو ختم کیا جاتا ہے’ لہذا نقلی وزیر اعلیٰ کو کسی صورت بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے’ تعلیمی اداروں کی نج کاری سراسر آئین کے خلاف ہے’ غریبوں پر تعلیم کے دروازے بند کر کے ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے! نقلی وزیر اعلیٰ سرکاری ملازمین کے قائدین کو گرفتار کر کے اپنے جرم کو مزید بڑھاوا دے کر عوام کے غم و غصّے میں اصافہ کررہا ہے!
تعلیمی اداروں کی نج کاری نا منظور!
اساتذہ کی تذلیل نامنظور!
پاکستانی قوم کے بچے کو پاکستان کی زبان میں تعلیم کا حق دو!
ایک قوم ‘ ایک زبان!
قومی زبان میں یکساں نصاب!
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک








