جھنگ کی سیاست میں آصف معاویہ سیال اور ن لیگ، لازم وملزوم۔۔۔۔تجزیاتی کالم۔۔۔۔شیخ فرحان اعجاز۔۔سٹارنیوزپر

ہمارے لیے جھنگ کے سب سیاستدان ہی قابل احترام ہیں مگر حقیقت یہ ہے کے بابر خان سیال این 110 کے سیاسی میچ کے تیرھویں کھلاڑی ہیں
اگر کوئی سمجھتا ہے ان کے ساتھ چار ایم پی ایز ہیں اور مضبوط ونگز ہیں تو وہ پھر بھی اکیلے مولانا آصف معاویہ سیال کا مقابلہ نہیں کرسکتے مولانا 2018 کے الیکشن میں صاحبزادہ امیر سلطان کے مقابلے میں ستر ہزار ووٹ لے چکے ہیں بابر خان سیال کے ساتھ چار ایم پی ایز کی ونگز ہوں تو وہ پھر بھی چالیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکتے جتنے زیادہ امیدوار ہوں گے اس کا فائدہ مولانا آصف معاویہ سیال کو ہو گا

مولانا کا اصل مقابلہ صاحبزادہ امیر سلطان کے ساتھ ہوگا چاہے وہ تحریک انصاف میں ہوں چاہے سرکاری پارٹی میں

جو سمجھتے ہیں کے مولانا کا مقابلہ بابر خان سیال کے ساتھ ہوگا وہ خیالی دنیا میں رہتے ہیں گر ن لیگ کسی دباو کی وجہ سے بابر خان سیال کو ٹکٹ دیتی بھی ہے تو یہ اس کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ فیصلہ ہوگا ن لیگ کے مولانا کی شکل میں بہترین چوائس موجود ہے جو ن لیگ کو جھنگ میں مستقل طور پہ فعال کرسکتے ہیں
جھنگ کی حد تک مولانا اور ن لیگ ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہوچکے
ن لیگ مولانا کو نظر انداز کرکے جھنگ میں اپنی آخری رسومات اپنے ہاتھوں سے ادا کرے گی

صاحبزادہ گروپ بالخصوص صاحبزادہ امیر سلطان این اے 110 کے بااثر اور طاقتور امیدوار ہوں گے صاحبزادہ گروپ سے ہزار اختلاف کے باوجود اس وقت کوئی سیاستدان صاحبزادہ امیر سلطان کو مشکل ٹائم دے سکتا ہے تو اس کا نام مولانا آصف معاویہ سیال ہے

جتنا بھی مشکل اور کٹھن وقت ہو صاحبزادہ گروپ جھنگ کی سیاست کی ایک حقیقت ہے جسے چاہ کے بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا

صائمہ اختر بھروانہ آجائیں جواد خان سیال ہوں یا بابر خان سیال صاحبزادہ گروپ کیلیے انہیں شکست سے دو دو چار کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے انہیں بھی علم ہے کے ان کا مقابلہ گر کوئی کرسکتا ہے

تو وہ مولانا آصف معاویہ سیال ہیں باقی کرائے کے تجزیہ نگار اور ناشتہ کسی ڈیرے سے اور دوپہر کا کھانا کسے ڈیرے سے کھانے والے نمک حلالی تو کرسکتے ہیں زمینی حقائق بیان نہیں کرسکتے

تحریر شیخ فرحان اعجاز