درابن روڈ اپ کا دکھڑا کس کے ہاتھ پر تلاش کریں

تحریر۔۔عبدالستارسپرا

ناظرین کرام فیصلہ درابن روڈ ڈیرہ اسماعیل خان کے ملحقہ رہنے والے لوگوں پر چھوڑتے ہیں وہ ڈیرہ سٹی میں اتے ہوئے کس تکلیف اور کرب سے گزر کر اتے ہیں ۔یا وہ مریض جو سول ھسپتال میں انکو انا ہو تو روڈ کے ہچکولے اور یہ دراڑیں مریض کی سسکیاں نکال دیتی ہیں ؟کب اس کی تکمیل ھو گی۔سنا تھا دیکھا تھا کہ درابن روڈ کا کام شروع تھا مگر نجانے پھر ھمارے گناہ معاف نہیں ہوئے ؟روڈ کا جو حصہ ٹھیک تھا ان کو دراڑیں لگا کر اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا پھر پتہ نہیں بنانے والے کہاں غائب ہوگئے اور کس غار میں چھپ گےء یا خود عینک والے جن کی ٹوپی پہن کر لوگوں کا تماشا دیکھنے لگ گےء کہ زکوڑی قبرستان کے وسط میں کون کتنا خوبصورت نظر اتا ھے۔کوٹلہ سیدان کی پل سے اگے اسوہ پبلک سکول سے دراڑیں روڈ کی زیب وزینت بنی ھویء ہیں جو کسی وقت بھی نا خوشگوار واقعہ پیش ہونے کے منتظر ہیں پہلے بھی اسی جگہ حادثات اور اموات ہو چکی ہیں لیکن عوام کا رب راکھا۔لکھنے والے لکھ لکھ کر تھک گےء روڈ کی داستان سناتے والے سناتے سناتے تھک گیےء مگر؟؟بارہ سنگھے کے سینگ ویسے کے ویسے الجھے رہے ۔اس روڈ پر بچے یتیم ہو گےء ۔بیویان بیوہ ہو گےء مگر درابن روڈ ویسے کا ویسا پڑا ھے۔خدرا لوگوں پر ترس رحم کھا کر درابن روڈ کی جلد از جلد مرمت کا کام پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کردار ادا کریں تکہ لوگ اور مسافر ارام سکون کا سانس لے سکیں کم.ازکم درابن روڈ کی مٹی سے بچ کر جب شہر میں عوام الناس داخل ہو تواپنے پرانے کی پہچان ہو سکے. بے چارہ درابن روڈ اپنی اچھی داستان لکھنے کا مستحق بن جائے نا کہ درابن روڈ کو دیکھ کر صحافی اپنا دکھ لکھنے پر شرما جائے ۔۔۔۔۔