بیاد رفتگاں۔۔۔۔۔ مسجد کے شہید، ،،

تحریر۔ڈاکٹر اعجازاحمد صمدانی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
*مسجد کے شہید*
امتیاز ۔۔۔۔۔۔۔۔امتیاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابا جی کی بلند آواز اس وقت ہمارے کانوں میں پڑی جب ہم میں سے کچھ رات کا کھانا شروع کر چکے تھے اور کچھ اپنے برتنوں میں کھانا لے رہے تھے ۔
عشاء کی اذان ہونے والی تھی اور سب کو کھانا کھا کر مسجد میں جانے کی جلدی تھی ۔
ابا جی عشاء کی اذان ہونے سے پہلے ہی کھانا تناول فرماکر مسجد کی طرف روانہ ہوچکے تھے ۔ عام طور والد صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد میں رہتے اور عشاء کے بعد گھر تشریف لاتے تھے لیکن اس دن کسی وجہ سے جلدی تشریف لائے اور واپس بھی جلدی جانا چاہتے تھے ۔ اذان سے پہلے ہی نماز کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہو گئے تھے ۔ اس دن بارش بھی ہوئی تھی اور والد صاحب پر کچھ عرصہ قبل فالج کا حملہ بھی ہوا تھا، جس کا علاج کافی بہتر ہوا تھا لیکن بڑھاپا اور دوسری بیماریوں کے ساتھ اس کے اثرات بھی باقی تھے۔
اس صورتحال میں جب والد صاحب مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو گھر کے دروازے پر ہی پھسل گئے اور بے اختیار امتیاز۔۔۔۔۔۔امتیاز۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز لگائی۔ امتیاز بھائی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سب بھائیوں سے زیادہ والد صاحب کی خدمت کررہے تھے اور صحت کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر تھے۔ اس لیے ان کا نام پکارنا فطری تھا۔ امتیاز بھائی آواز سنتے ہی کھانا چھوڑ کر دروازے کی طرف یہ کہہ کر دوڑے کہ شاید ابا جی گر گئے ہیں۔ ان کا خدشہ درست نکلا ۔گھر لاکر ڈاکٹر کو چیک کرایا تو پتہ چلا کہ کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ یہاں مناسب علاج کا انتظام نہ تھا ، لہذا انہیں جھنگ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جھنگ میں جب کوئی تسلی بخش صورتحال سامنے نہ آئی تو شفا ہسپتال اسلام آباد لے جانے کا مشورہ ہوا۔
چھوٹے بھائی منیب احمد حقانی کی ملازمت کی وجہ سے ہمیں اسلام آباد کے اس انتہائی مہنگے ہسپتال میں ایک بڑی لمٹ کی حد تک مفت علاج کروانے کی سہولت تھی اور اس سہولت سے فائدے اٹھاتے ہوئے پہلے بھی والد صاحب بلکہ والدہ محترمہ کے بھی کچھ علاج یہاں سے کروائے گئے تھے۔ اگرچہ معیار کے اعتبار سے یہ ایک بہت عمدہ اور بہت بڑا ہسپتال ہے لیکن قدرت کا کرشمہ بھی دیکھئے کہ جو ہسپتال جتنا بڑا اور معیاری شمار ہوتا ہے، عموماً وہاں سے جنازے بھی زیادہ اٹھتے ہیں ۔
شاید ہمارے مقدر میں بھی کچھ ایسا لکھا ہوا تھا۔
والد صاحب کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی ۔ آپریش کے ذریعے اس کو واپس جوڑنا تجویز ہوا لیکن آپریشن تک پہنچنے کا راستہ گویا ایک پل صراط تھا۔ کمزوری ، بڑھاپا، کم بلڈ پریشر ، کچھ عرصہ قبل ہونے والے آنتوں کے آپریشن کے اثرات اور نجانے کیا کیا رکاوٹیں تھیں، جنہیں عبور کرکے آپریشن کی منزل تک پہنچنا تھا۔ ماہر ڈاکٹروں نے کمال مہارت سے ان سب چیلنجز کا مقابلہ کیا اور بالآخر وہ مرحلہ آگیا جس کا سب شدت سے انتظار کررہے تھے، لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپریشن کے بعد والد صاحب نے بیہوشی ختم ہونے پر بستر علالت پر ہی امتیاز کےتیمم کرانے کے بعد اپنی نمازظہر ادا کی،بعد ازاں چوبیس گھنٹوں بعد شدت بھوک ختم کرنے کے لئے ڈاکٹر کے سفارش کردہ کچھ خوراک لی،غالبا یہی غذا تھی کہ جس کا تحمل نہ کرسکے اورزبردست ہرٹ اٹیک ہوا۔چار پانچ ڈاکٹر مسلسل اپنے تئیں کوشش کرتے رہے مگر ابو جی قومہ میں چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ تو یوں لگا کہ والد صاحب کلفتوں والی دنیا کو خیر آباد کہہ رہے ہیں لیکن ڈاکٹر حضرات نے خاص طریقے سانس بحال کی تو ہم سب کی سانس میں سانس آئی۔قومہ کا دورانیہ بڑھ گیا تو ہم سب کی امیدوں پر پانی پھرنے لگا۔ ڈاکٹر حضرات بھی مایوسی کا اظہار کرنے لگے بلکہ مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ بھی دبے الفاظ میں دینے لگے۔ ہم سب حسرت کی دیوار بنے ایک دوسرے کو دیکھتے اور خاموش ہو جاتے کیونکہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔۔۔۔۔۔آخر وہ گھڑی آگئی جس نے ہم سب کے دلوں سے سکون یکلخت چھین لیا اور ہم سب بے قرار ہوکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔ یہ دو اور تین نومبر 2009ء ( بروز پیر اور منگل) کی درمیانی رات تھی۔والد صاحب مرحوم کو ہسپتال سے گھر لایا گیا۔ آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا۔۔۔۔۔۔۔۔، آج جب کہ والد صاحب مرحوم ہمارے درمیان موجود نہیں تو ان کی یادیں رہ رہ ستاتی ہیں۔ والد کی اپنی اولاد پر جو شفقت ہوتی ہے ، اس کا بیان تو الفاظ و محاورات میں ممکن نہیں۔ لیکن والد صاحب مرحوم کی شان ہی کچھ نرالی تھی۔ میں نے کسی غیر عالم دین کے اندر عبادت کا ایسا ذوق نہیں دیکھا جتنا والد صاحب مرحوم کے اندر نظر آیا۔ مغرب سے عشاء تک مسجد میں رہتے اور رات کا کھانا تناول فرماکر مصلی پر تشریف لے جاتے اور جب تک ہم نیند کی آغوش میں نہ جاتے ، والد صاحب کی نماز جاری رہتی اور جب صبح بیدار ہوتے تو اس وقت بھی والد صاحب کو مصلی پر پاتے۔ وہ کب سوتے تھے اور کتنا سوتے تھے، اس کا صحیح اندازہ ہم میں سے کسی کو نہ تھا۔ حقوق العباد خصوصاً رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا بہت اہتمام فرماتے۔ لڑائیوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے چاہے اس کے لیے اپنا حق ہی چھوڑنا پڑ جائے۔ ہمارا گاؤں والاگھر جو بٹوارے کے نتیجے میں ہمارے حصے میں آیا ، تقسیم کے مطابق اس کی ایک گلی مرکزی سڑک کی طرف سیدھی نکلتی ہے جو مرکزی شارع اور مسجد جانے کا مختصر راستہ ہے۔ لیکن راستے میں چچا کا گھر ہے ۔ والد صاحب مرحوم کو شرعاً یہ حق حاصل تھا کہ وہ ان سے یہ مطالبہ کرتے کہ مجھے یہاں سے گلی کا راستہ دیا جائے لیکن انہوں نے کبھی اس کا مطالبہ نہ کیا۔ ایک مرتبہ امتیاز بھائی نے مجھے یہ بات بتائی تو میں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ یہ راستہ لے لیا جائے تو بہت سہولت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ والد صاحب مرحوم نے مجھے منع کیا تھا کہ میرے بعد بھی مطالبہ نہیں کرنا۔ ہمارے ایک چچا ، جن کے انتقال کے وقت ان کی کوئی نرینہ اولادزندہ نہ تھی، ان کی میراث میں والد صاحب کا بھی حصہ بنتا تھا لیکن انہیں نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ قرآن مجید سے ساتھ ان کی محبت والہانہ انداز بھی میں اپنی زندگی میں کہیں نہیں دیکھا۔ کثرتِ تلاوت کا معمول تو تھاہی، خدمت قرآن مجید کا ایک غیر معمولی جذبہ تھا۔ والد صاحب مرحوم جلد سازی کے ماہر تھے ۔قرآن مجید کے کسی نسخے کی جلد خراب ہو جاتی یا کسی صفحے کا کوئی حصہ پھٹ جاتا تو اس کی مضبوط جلد بندی کرتے اور پھٹے ہوئے کاغذ کو جوڑتے۔ عمدہ خطاط بھی تھے تو کبھی ایسا بھی کرتے کہ کاغذ کا جو حصہ پھٹ کر الگ ہوجاتا، اس کی جگہ نیا کاغذ لگا کر اپنے قلم سےآیت کا اتنا حصہ لکھ دیتے جو کاغذ پھٹنے کی وجہ سے قرآن کریم سے الگ ہوجاتا۔ بعض دفعہ کسی مصحف کا پورا پارہ ( خصوصاً پہلا گا آخری) بوسیدہ ہوجاتا تو اسی سائز کا نیا الگ پارہ خریدکر اس کے ساتھ لگاتے اور پھر عمدہ جلد بندی کرتے۔ پیشے کے اعتبار سے سرکاری اسکول ٹیچر تھے لیکن اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی بلا معاوضہ طلبہ کو خوب محنت سے پڑھاتے۔ ہم سب بھائیوں نے بھی ان سے پڑھا۔ ابا جی ریاضی کے بڑے ماہر تھے ۔ عام طور اساتذہ مشق کا کوئی ایک سوال حل کرکے باقی طلبہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔
والد صاحب پوری مشق بلیک بورڈ پر اس حل کرتے کہ ایک دو سوال تو پہلے خود حل کرتے، پھر اگلے سوالات میں طلبہ سے بھی پوچھتے اور حل کرتے تاکہ اس بات کا فوری ٹیسٹ ہوجائے کہ طلبہ کو سمجھ آیا ہے یا نہیں ؟ انگریزی پڑھاتے ہوئے ایک ایک لفظ کا الگ الگ مطلب بتاتے اور بامحاورہ مطلب بھی بتاتے اور اس طریقے سے طالب علم کو سنانے کا بھی کہتے۔ ان سے سیکھی ہوئی گرائمر سے بندہ آج دنیا بھر کے مختلف ممالک میں انگریزی بولنے کے قابل ہوا ہے۔ جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو ان سے اتنی انگریزی پڑھ چکا تھا کہ بورڈ کے امتحانات کے لیے میں بارویں کلاس کی گائیڈ سے مضامین ، کہانیاں اور خطوط وغیرہ تیار کیے۔
آپ کے بعض شاگرد اب بڑے اونچے مناصب پر کام رہے ہیں۔ طلبہ کے ساتھ آپ کی اس خصوصی توجہ کا اثر تھا کہ وہ ان اونچے مناسب پر ہونے کے باوجود آپ کی عزت کرتے۔ آپ اس تعلق کو بھی لوگوں کی حاجت روائی کا ذریعہ بناتے اور کئی دکھی لوگوں کے مسائل ہونے کا ذریعہ بنتے۔
الحمدللہ ،ہم آٹھ بہن بھائی( تین بہنیں اور پانچ بھائی) والدین کی زندگی ہی میں رشتہِ ازدواج سے منسلک ہو گئے تھے اور سب خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سب بھی ان کی نیکیوں کا صلہ ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ان کو آخرت میں بھی اپنے خاص فضل سے بلند مقام عطا فرمائیں گے ۔ اپنے والد صاحب پر اس کریم ذات کی رحمت کا نظارہ تو ہم نے دنیا میں ہی ان کے جانے سے پہلے ہی دیکھ لیا کہ انہیں اپنے گھر کے راستے پر آتے ہوئے اپنے پاس بلانے کا سامان کیا۔کتنے ہی خوش نصیب ہیں ابا جی کہ” مسجد کے شہید” بن گئے۔