یومِ یکجیتیِ فلسطین
تحریر۔۔محمد اویس شاہد
29 نومبر فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا آغاز 1977 سے ہوا، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک بہ ظاہر اس دن کو منانے پر متفق رہے ہیں۔ اس دن تمام رکن ممالک اپنے اپنے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے دعوے دار ہیں، فلسطین کی زمین پر اسرائیل کی جانب سے جبری قبضے کا خاتمہ اس دن کے منانے کے اہم مقاصد میں سر فہرست ہے۔ بہ ہر حال! یہ تمام وہ باتیں ہیں جو کاغذوں میں دفن ہیں، حقائق کاغذ کی سیایی سے یکسر مختلف ہوا کرتے ہیں۔ قلم کی سیاہی اور خون کی سرخی یکساں نہیں ہوتی، ایسے ہی یکجہتی اور یک گوشی بھی ایک چیز نہیں۔ 29 نومبر کی آمد ہے، خدشہ ہے کہ یکجہتی کے اس عالمی دن بھی مظلوم فلسطینی لاشیے یکجا کر رہے ہوں گے، خدا ہمارے گمان غلط ثابت کرے۔ اب آئیے جائزہ لیتے ہیں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں یکجہتی کے حقائق کا۔
یہ یکجہتی نئی نہیں، اس کی تاریخ پرانی ہے، پہلی جنگ عظیم سے قبل یورپ نے یکجہتی کے جذبے کے تحت قومِ یہود سے ناروا سلوک رکھا، جس کے نتیجے میں یہودیوں کی جانب سے ایک الگ ریاست کا مطالبہ ہونا شروع ہوا۔
آگے چلیں تو یہ یکجہتی مزید بڑھی اور اس کے نتیجے میں فیصلہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے ٹکڑے کر دیے جائیں، تاہم فلسطین کا علاقہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے برطانیہ کے زیر نگیں آگیا، اور برطانیہ نے فرانس کی مدد سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری کی راہیں آسان کرنا شروع کیں۔
یکجہتی مزید بڑھی تو جنگ عظیم دوم کے بعد باقاعدہ طور پر فلسطین کے دو ٹکڑے کیے گئے، ایک کو صیہونیوں اور دوسرے ٹکڑے کو فلسطینیوں کی ملکیت قرار دیا گیا۔ اس جبراً یکجہتی کی مثال بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔
کالونائزیشن کے اس عمل کے بعد بھی مسلسل اسرائیل کی پشت پناہی کی گئی، اہل فلسطین کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے پر صیہونی عسکری گروہ قائم کیے گئے، تاکہ وہ باقاعدہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔
یکجہتی کے اس مظاہرے میں صرف غیر ہی شامل نہیں، بل کہ اپنوں کے تیور ہمیشہ ہی کمال کے رہے ہیں، 14 مئی 1948 کو اسرائیل کا قیام ہوا، اور 15 مئی 1948 کو مصر، عراق، اردن اور شام بھی فلسطین پر چڑھ دوڑے، اور بہ جائے اسرائیلی قوت کا خاتمہ کرنے کے باقاعدہ یکجہتی کے تحت فلسطین کے مختلف علاقوں پر ہی قابض ہو گئے، یوں چند ہی دن میں 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور اسرائیلی جارحیت مزید زور پکڑ گئی. 1967 میں اسرائیل نے ان عرب ممالک کے قبضہ شدہ علاقے جنگ کے ذریعے واپس لے کر اس یکجہتی کے منہ پر مزید کالک مل دی۔ 1973 میں ان تمام ممالک نے صدق دل سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو یکے بعد دیگرے قبول کر لیا۔
یہاں یہ یکجہتی رکی نہیں، یہ آج بھی جاری ہے، آج بھی مظلومیت کا شکار فلسطینیوں کے حق میں آواز نہ اٹھانے کی یکجہتی پر پوری دنیا کاربند ہے۔ ہاں یہ بات تسلیم ہے کہ مختلف ممالک کی عوام نے حالیہ کشیدگی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے، لیکن حکومتی، ریاستی، عالمی اور بین الاقوامی سطح پر یکسر خاموشی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بے حسی، بے مروتی، اور عدم توجہی کے معاملے میں ہم سب یکجہت ہیں۔ عوام کے مظاہرے حکومت کو جگانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن طویل دورانیے سے جاری حالیہ مظالم کے خلاف حکومتوں اور بالخصوص مسلم حکومتوں نے صرف اظہارِ مذمت پر یکجہتی اختیار کی ہے، چند چھوٹے غیر مسلم ممالک نے اگرچہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کیے ہیں، لیکن بہ قول شاعر:
صدا ہو صوتِ اسرافیل، تو مزا بھی ہے
گلے میں اٹکی ہوئی پکار پہ تُف
معزز قارئین! سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو تو ایک جسم سے تعبیر کیا تھا، لیکن آج محسوس ہوتا ہے کہ یہ جسم مفلوج ہو چکا ہے، اسے کسی دوسرے عضو کی تکلیف محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اکتوبر کے آغاز سے جاری اسرائیلی بربریت نے جہاں انسانیت کو شرما دیا ہے وہیں انسانیت کا چہرہ بھی دکھا دیا ہے. فلسطین میں دنیا کے خوفناک ترین ہتھیاروں کا تجربہ نہتے شہریوں پر کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف بھوکے بھیڑیے ہیں جو بپھرے بیٹھے ہیں، تو دوسری جانب بے حس گیدڑ ہیں جنہوں نے سرحدی راستے ہی بند کر ڈالے ہیں۔ اندھوں، بہروں اور گونگوں کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ کی نام نہاد سلامتی کونسل اپنے ہی بنائے گئے بین الاقوامی قوانین جنگ کے بخیے ادحرتے دیکھ رہی ہے، لیکن آج بھی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چشم پوشی سے کام لے رہی ہے۔
دوستو! یاد رکھنے کی بات یہ ہے یہ مسئلہ صرف اہل فلسطین کا نہیں، بل کہ اسلام کی مجموعی طاقت کو للکارے جانے کا ہے، ہاں یہ بات درست ہے کہ اس قضیے پر عالم اسلام اور عالم مغرب دونوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، لیکن یہ آوازیں کافی نہیں، اس کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے، یہ وقت اور حالیہ قضیہ فیصلہ کُن مرحلہ ہے، یہ قیل و قال، حجت بازی، عذر پیشی کا موقع نہیں، یہ مانیٹرنگ سیشن ہے، کون کتنی آواز اٹھا رہا ہے، آواز اٹھانے میں کس حد تک جا رہا ہے اور کون عملی اقدامات کے ذریعے اسرائیلی بربریت کو ڈیل کر رہا ہے، ان تمام عناصر کی روشنی میں اہل باطل نے اپنے اگلے ہدف کا تعین کرنا ہے۔ ہم خود کو گلوبل ولیج کا باسی کہتے ہیں، آج تنہائی میں کچھ دیر بیٹھ کر سوچیے کہ حالیہ قضیے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا چندوں، چند پوسٹوں اور نجی مجالس میں ظلم ظلم کی رٹ کے علاوہ کچھ کر پائے یا نہیں؟ فلسطینی مائیں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی “لعبۃ الشہید” نامی کھیل کی ترغیب دیتی ہیں، جس میں ایک بچہ شہید بنتا ہے اور دوسرے اس کے کفن دفن کا انتظام کرکے شعوری طور پر حقیقی شہادت کے لیے تیار ہوتے ہیں، کیا ہماری ماؤں میں اتنا حوصلہ پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا خون کی دبیز چادریں اپنے والدین پر دیکھنے کی سکت ہمارے دل میں پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا 6 دنوں کے بیٹے اور بیٹیوں کے لاشے ہاتھ میں لے کر ہم مسکرا سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو یقین کیجیے آپ اس قابل ہیں کہ آپ کی پیشانی چوم لی جائے اور اگر نہیں تو اس لہو رنگ قضیے کو اپنا قضیہ سمجھیے، طاقت اور میڈیا کے آنگن سے راستہ تراشتے اسرائیلی عفریت کے خلاف اپنے مقتدر حلقوں کو بیدار کیجیے۔ اپنے پاس موجود میڈیا کی رہی سہی طاقت کو کسی ماہر سے مشورے کے بعد درست طریقے سے استعمال کیجیے۔ یاد رکھیے! نہ آپ کا چندہ وہاں پہنچ رہا ہے اور نہ ہی نجی مجالس کے تذکرے۔ آپ کے چندے اور تبصروں کی مظلوموں کو ضرورت بھی نہیں، ہر شخص اپنی ذات میں پورا جہان ہوتا ہے، خود کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں کو بہ روئے کار لاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں، قبل اس کے کہ زبانی یکجہتی کا یہ عفریت آپ کے سر پر کھڑی موت پر اظہار مذمت کر رہا ہو۔ مسجد اقصیٰ کی انہدام پر بہت اٹھ کھڑے ہوں گے، لیکن انسانی جان تو کعبۃ اللہ سے بھی افضل ہے، اپنے حصے کی شمع جلاییے، اور انسانیت کو انہدام سے بچا لیجیے۔








