ٹھہرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے الیکشن ہیں۔
(سماجیات)
تحریر ۔۔۔عمران مہدی۔
الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ پارہ شدت اختیار کر رہاہے۔ جنگ کے طبل بجا چکے ہیں۔ صفیں سیدھی کی جا رہی ہیں۔ میدان حرب میں کرب ہے۔ تمام امیدوار اپنی اپنی کچھار سے اپنے ووٹرز سپورٹرز اور بندوقوں کے ساتھ شکار کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ جیت کی لگن میں مگن امیدوار جیت کے دعوے کو حقیقت میں بدلنے پہ تل گئے ہیں۔
خیال رکھیے اس بار پر تشدد لہر ہے۔ اس بار روایتی الیکشن نہیں ہوں گے۔ پاسداری ختم ہوئی۔ ادب آداب مک گئے۔ اختلاف رائے کا جمہوری حسن وڑ گیا۔ زور زبردستی کا منشور ہے۔ اس بار گھناؤنا کھیل کھیلا جائے گا۔ رشتوں کے تقدس میں گرہ آنے والی ہے۔
بھائی بھائی سے الجھے گا ۔ لڑائیاں نفرت مار دھاڑ قتل عام تک بات جائے گی۔ کیونکہ تحمل درگزر اختتام کو پہنچا ۔
اب آئیے جناب اپنے اپنے پسندیدہ امیدوار پہ جنہوں نے کئی پارٹیاں بدلیں مگر چند ایک کے سوا کسی کو گھاس نہیں ڈالا۔ مفاد کی سیاست میں ہم سب کو ٹشو پیپر کی طرح استمعال کیا اور پھینک دیا ۔ ڈیروں سے وڈیروں تک سڑکیں بنیں۔ ہمارے حصے میں وہی تھانہ کہچری بچا ۔نوکریاں لاڈلوں کو ملیں۔ ہم صرف با آواز بلند نعرے لگاتے رہے۔
اس بار بڑی چال یہ ہے کہ پٹواری اور یوتھیے بنا کر لڑایا جائے گا۔۔ فرقہ واریت کے نام پہ دھوکہ دیا جائے گا۔نفرت کا بیج بو دیا گیا۔ بڑھے عرصے سے کئی بنیادوں پہ بک بک کی آبیاری کی گئی
خدا رکو ہوش کے ناخن لو۔۔ کیوں لڑتے ہو آپس میں کیوں دست و گریبان ہو ۔کیوں کسی اور کے مفاد کی بھینٹ چڑھنا چاہتے ہو۔۔ کیوں رشتہ داریاں خراب کرنا چاہتے ہو۔ کیوں تماشہ لگانا چاہتے ہو۔ اختلاف رائے کا احترام کیجیے پاس کیجیے برداشت کیجیے اور خدارا ان سیاسیوں کے لیے آپس میں مت لڑیں۔ کل یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہم عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔
والسلام ۔۔۔عمران مہدی۔۔۔ ۔۔۔محمودکوٹ










