فرقہ واریت سے بچاؤ، نوابی،پیری مریدی سے نجات کیلئے، فلاحی ورفاہی سیاست میں ہمارے ساتھ چلیں۔نذر عباس سیال، امیدوار پی پی 130 جھنگ۔چشم کشا کالم۔۔سٹارنیوزپر

میں ہوں الحاج نذر عباس خان سیال

میرے حلقہ کی عوام سے چند سوال ہیں۔ ان کے جواب اشد ضروری ہیں۔ میں نے عوام سے سنا کہ
ہمارے ہاں مختلف قسم کی سیاست کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم پسیمامدگی تنزلی کا شکار ہیں۔

شرافت کی سیاست

1.شرافت کی سیاست یا گدی نشینی کی سیاست ٹرپن سال یا ستر سال سے جھنگ کی سیاہ و سفید پہ رہنے والے پیروں نے عوام کو کیا دیا ۔۔ تنزلی پسیمامدگی فاقے غربت تباہ حالیاں ۔۔کبھی سورج باہو سلطان سے ابھرا سوا نیزے پہ رہا کبھی شاہ جیونہ سے ابھرا سوا نیزے پہ رہا ۔۔ مگر یہ لوگ خان قاہوں سے نکل کر درویشی کی طرف جانے کی بجائے جاگیری کی طرف گئے۔ جیسے جیسے ان لوگوں کی وزارتیں بڑتی چلی گئیں ویسے ویسے جھنگ لنڈا ہوتا چلا گیا۔ ۔۔۔کیا آپ ان سے مطمعن ہیں۔ ؟

نواب خاندان۔
گڑھ مہاراجہ کے نوابوں کے تعلقات لارڈ میکالے تک تھے ۔ نوابی کا ٹکہ نواب نوازش علی خان سے نواب نوازش علی خان تک رائج ہے۔۔ مگر بتائیے کیا گڑھ مہاراجہ آج بھی ایک مفلوک الحال قصبہ نہیں ہے۔ گڑھ مہاراجہ تحصیل کیوں ناں بنا۔ علاقہ نے ترقی کیوں ناں کی۔اب وہ بقا کی جنگ کر رہے ہیں۔ کام کیے ہوتے تو آج یہ دن ناں دیکھنے پڑتے۔ سو سال سے قابض خاندان کیا آپ کے زخموں کی تلافی کر سکے گا۔ہرگز نہیں۔ ؟؟؟؟؟

انتقام کی سیاست ۔

آج کل جو شرفا کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں۔ اس طرح کی سیاست ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ مار دھاڑ دھونس دھاندلی دھمکیاں کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہوتیں ۔۔ہاں مرحوم نجف عباس خان کی سیاست کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ۔انہوں نے وزارتوں کو جوتے کی نوک پہ رکھا اور تحصیل و کالجز لے آئے۔۔مگر جانشین کی سیاست کا طرز سے کیا آپ اتفاق کرتے ہیں۔ ہر گز نہیں۔ ؟؟؟؟؟

فروہ واریت کی سیاست۔

سیاست کی سب سے گھٹیا جنگ فرقہ واریت کی سیاست ہے ۔میرا جھنگ فرقہ واریت کی آماجگاہ بنا رہا یہاں سیے کئی مہرے اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے رہے ہم تباہ و برباد ہوتے چلے گئے۔ آج بھی سیاست میں طرب کے پتہ کی حثیت ہے فرقہ واریت کو ۔۔۔اگر مخالف سیاسی دوسرے مسلک سے ہے تو کفر کے فتوی لگا دو عوام کو بھڑکا دو ۔۔اگر ونگ میں ہے تو بھائی۔ بھائی بنا دو ۔۔ کیا یہ طرز سیاست ظلم و زیادتی نہیں ہے کیا ۔۔۔۔۔

ہم اختلاف رکھتے ہیں ایسی سیاست سے ایسے سیاسیوں سے یہ لوگ تباہی کا بحث ہیں۔ جھنگ کی پسماندگی کی وجہ یہ ہیں۔ آئیے ان سے دور جاتے ہیں۔ اس بار اعلان بغاوت کرتے ہیں۔

میں نے ہمیشہ عبادت کی سیاست کی ہے۔۔ میری فری ایمبولینس فری بس سروس نے لوگوں کی خدمت کی ہے۔ میں نے کرونا سیشن میں لوگوں کی خدمت کی ہے۔۔ کئ ساری خدمات سر انجام دی ہیں۔

آئیے اس بار ہمارا ساتھ دیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں ہم فلاح و عبادت کی سیاست کریں گے۔ ہم جھنگ کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ ہم کھوئی ساکھ واپس لائیں گے۔ ہم علاقہ کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔ ہم طاغوت کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے۔ ایک بار ہم کو بھی آزما کے دیکھ لیں ۔اگر پھر بھی ساتھ نہیں دیں گے تو قصور سیاسیوں کا نہیں آپ بھی قصور وار ہوں گے۔
آپ کا اپنا۔۔الحاج نذر عباس خان سیال ۔امیدوار حلقہ پی پی 130…این اے 110