عام انتخاب کیلئے ضلع بنوں کے آئمہ مساجد دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، حافظ عبدالغفار قریشی نے تین علماء کو انتخابی دنگل میں اُتار کر شرعی نظام کا منشور اقرار نامے کی صورت میں بذریعہ اسٹام پیپر جاری کر دیا

بنوں( سٹارنیوز)عام انتخاب کیلئے ضلع بنوں کے آئمہ مساجد دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، حافظ عبدالغفار قریشی نے تین علماء کو انتخابی دنگل میں اُتار کر شرعی نظام کا منشور اقرار نامے کی صورت میں بذریعہ اسٹام پیپر جاری کر دیا جس کے مطابق مولانا مفتی انعام اللہ خان، مولانا محمد طاہر خان اور مولانا احمد اللہ حقانی آزاد حیثیت سے قومی و صوبائی اسمبلی اُمیدوار ہیں جو پابند شریعت ہیں اور شوریٰ کے ماتحت کام کریں گے، اقرار نامے کے مطابق ہر حلقہ کے کم و بیش چالیس علمائے کرام اور چالیس سفید پوش مشران کا شورائی نظام بنایا جائے گا، ہر مسجد کا امام اور عالم دین علاقے کیلئے ایم این اے یا ایم پی کی حیثیت سے ہوگا جو براہ راست شوریٰ تک کسی بھی فرد کا مسئلہ یا شکایت پہنچا سکے گا اور اس کا حل تلاش کیا جائے گا،صوبائی و قومی سیٹ کیلئے منتخب شدہ نمائندے اپنے علاقے کے منتخب شورائی نظام کے ماتحت شریعت کے دائرے میں رہ کر کام کریں گے، فنڈ انصاف کیساتھ عوامی شوریٰ کمیٹی کے مشورے سے تقسیم ہوگا نمائندگان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوگا، نوجوانوں کیلئے ملازمت کے مواقع تلاش کئے جائیں گے، میرٹ کی بالا دستی یقینی بنائی جائے گی جبکہ صوابدید پرمستحقین کو انصاف کے ساتھ ملیں گی کوئی انتظامی تبادلے نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی کو انتقامی کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے گی،کمیشن نظام کا مکمل خاتمہ ہوگا، کوئی ٹھیکہ ایم این اے، ایم پی اے خود متعین نہیں کرے گا ٹھیکہ جات شوریٰ کمیٹی کے صوابدید پر علاقائی مفادات کے پیش نظر میرٹ پر دیئے جائیں گے اور تعمیراتی کام ضرورت کی بنیاد پر ہوں گے، قومی وصوبائی اسمبلی کا ممبر اپنے علاقے بنوں میں اپنے ووٹروں کے ہاں رہائش پذیر ہوگا اسلام آباد اور پشاور میں مستقل بنیادوں پر نہیں رہے گا، عوامی شکایت سیل اور کنٹرول روم بنایا جائیگا جس میں علماء بیٹھے ہوں گے اور عوام کے مسائل سن کر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں گے، عوام کو مختلف دفتروں کے دھکے کھانے کی نوبت نہیں آئے گی، غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ کرنے کیلئے کوشش کی جائے گی،علاقے کے بنیادی مسائل جیسے گیس اور بجلی کا نظام درست کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی باالخصوص باران ڈیم میں مشینری کو اپڈیٹ کر کے بجلی کے میگاواٹ کو بڑھانے کی بھر پور کوشش کی جائے گی، اس شورائی نظام کے تحت جو ممبر منتخب ہوگا وہ اپنا فنڈ شوریٰ ہی کے مشورے سے استعمال کرے گا اور اس پر ملنے والا منافع قوم اور علاقے کا اجتماعی فنڈ شمار کیاجائے گا، بنوں کے مساجد و مدارس میں شمسی پلانٹ لگانے کی بھر پور کوشش ہوگی تاکہ ہم اپنی عبادات سکون سے ادا کرسکیں، ہر مدرسہ کیلئے جن میں طلباء رہائش پذیر ہیں سرکاری آٹے میں خاص کوٹہ دیا جائے گا، ہر مدرسہ کیلئے لائبریری کا انتظام کیا جائے گا،منتخب ہونے کے بعد نمائندہ اپنے نام یا اپنے بیوی بچوں کے نام جو بھی خریدے گا اس کا جواز شوریٰ کو اعتماد میں لینے کے بعد ہوگا، منتخب نمائندہ ہر فورم پر قرآن وحدیث، شریعت اور عقیدہ ختم نبوت کی تحفظ کیلئے کوشاں رہے گا اور اس کیلئے کسی بھی قم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا، ہمارا نمائندہ حتی الوسع سرکاری مراعات استعمال کرنے سے گریز کرے گا اور یا پھر بقدر ضرورت ہی شریعت کے مطابق استعمال کرنے کا پابند ہوگا،یہ نمائندے علاقائی مسائل و مشکلات کو علاقے کی عوام کے خیالات و مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی جرگوں اور عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں گے،واضح رہے کہ علماء کی یہ تحریک بنوں میں فیملی پارک کو بند کرنے سے شروع ہوئی تھی جو اس وقت بنوں میں مختلف ایشوز پر وقتاً وقتاً اقدام اُٹھا رہے ہیں، اسی طرح مولانا جلال شاہ نے تحریک سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے بقاعدہ صفینتہ العلماء آئمہ مساجد والمدارس ضلع بنوں کے نام سے غیر پارلیمانی گروپ تشکیل دیا ہے مولانا جلال شاہ کے مطابق انتخابات کیلئے امیدوار کھڑے کرنے پر ہم نے تحریک سے علیحدگی کی ہے کیونکہ ہم نے یہ تحریک پارلیمانی سیاست کیلئے نہیں بنائی تھی،ان کے مطابق ہم پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لیتے ہمارا منشور علاقے میں سماجی کاموں میں بڑھ چڑجھ کر حصہ لینا ہے۔