یوم حجاب ویلنٹائن ڈے سے بہترہے

تحریر۔۔۔پروفیسر عنایت علی قریشی

پاکستان میں ویلنٹائن ڈے گزشتہ روز14فروری کو منایاگیا۔ایک طبقے نے سرخ پھولوں کا تبادلہ کیا۔تو وہیں پر ملک میں ایک بڑے طبقے نے”یوم حیا”کے عنوان سے حجاب،شرم وحیا اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانے کےلئے مختلف تقریبات منعقد کیں۔ویلنٹائن ڈے کےلئے نوجوان نسل نے تیاریاں کیں۔محبت کے اظہار کےلئے اپنے آپ کو لبرل،سیکولر اور آزاد خیال سمجھنے والے لوگوں نے “یوم محبت منایا۔تو مذہبی سوچ کے حامل افراد نے “یوم حیا”منایا۔فیصلہ تو دل نے کرناہے کہ کس صف میں شامل ہوناہے۔ویلنٹائن ڈے کی ابتداءتقریبآ1700سال قبل ہوئی تھی۔اہل روم میں 14 فروری “یونودیوی” کی وجہ سے منعقد مانا جاتاتھا۔بتایا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے خفیہ طریقے سے شادیوں کا اہتمام کیا۔جب شہنشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو قید کردیا۔آج اسی نسبت سے ویلنٹائن ڈے منایاجاتاہے۔ایک دوسری روایت کےمطابق ویلنٹائن ڈے کاآغاز “رومن سینٹ ویلنٹائن” کی مناسبت سے ہوا۔جسے”محبت کا دیوتا”بھی کہتے ہیں۔اسے مذہب تبدیل کرنے کے جرم میں پہلے قید میں رکھاگیا۔پھر سولی پر چڑھادیا گیا۔قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی۔سولی چڑھائے جانے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کے نام ایک الوداعی محبت نامہ چھوڑا۔جس پر دستخط سے پہلے لکھاتھا”تمہارا ویلنٹائن”,اسی کی یاد میں لوگوں نے 14 فروری کو یوم تجدید محبت مناناشروع کردیا۔ہرسال 14 فروری کو دنیاکے مختلف حصوں بالخصوص مغربی ممالک میں “ویلنٹائن ڈے” منایا جاتا ہے۔اس دوران محبت کرنے والوں کے درمیان مٹھائیوں،پھولوں اور ہر طرح کے تحائف کا تبادلہ ہوتاہے۔یہ سب سب کچھ نصرانی پادری”ویلنٹائن” کی یاد میں ہوتاہے۔ایک اعدادوشمار کےمطابق ہرسال ویلنٹائن ڈے پر مبارکباد کے 15 کروڑ کے قریب کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے کارڈز بھیجنے کے حوالے سے کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہوتا ہے۔یوم حجاب پاکستان میں 14 فروری کو منایاجاتاہے۔ لیکن مسلم ممالک میں اسلامی اقدار اور روایات کو مدنظر رکھیں تو مسلمان خواتین کےلئے توہر دن ہی “یوم حجاب” اور “یوم حیا”کادن ہوتا ہے۔یہ بات تمام مسلمانوں کے مشاہدہ میں ہے۔کہ اس وقت یورپی ممالک میں بھی خواتین حجاب کو پسند کررہی ہیں۔اور دین اسلام سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں جوق در جوق شامل ہورہی ہیں۔ہمیں اسلامی معاشرے میں اسلامی روایات کے فروغ کےلئے عملی اقدامات کو مزید بڑھاناہوگا۔اس دن کی مناسبت سےہمیں بحثیت مسلمان اپنے والدین،بہن بھائیوں اور اپنی شریک حیات کو تحائف دےکراس دن کو منایاجاسکتاہے۔