۔۔عید پر غریبوں کا خیال رکھیں۔۔
تحریر حاجی غلام شبیر منہاس
چکوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدنا ابو عمر و عبدالرحمن بن عمر الاوزاعی رحمتہ اللہ علیہ اپنے حالات زندگی میں ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک بار عید قریب تھی کہ ایک شام ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک محلے دار کھڑا تھا۔ کہنے لگا عید سر پہ ہے اور ہمارے گھر میں خاک اڑ رہی ہے اور خرچ کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں، آپ برائے مہربانی کچھ مدد فرما دیں۔ ہمارے گھر میں عید کیلئے پچیس درہم رکھے تھے۔ میں نے بیوی سے رائے مانگی تو اس نیک دل خاتون نے ساری رقم اس مستحق کو دینے کا مشورہ دیا۔ لہذا ہم نے وہ ساری رقم اس شخص کے حوالہ کر دی جو ان گنت دعایئں دیتا ہوا رخصت ہوا۔اس کے چلے جانے کے بعد ہم اپنی عید کے متعلق سوچنے لگے کہ اب کیا ہو گا۔ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دروازے پہ دوبارہ دستک ہوئی، میں دوبارہ دروازے پہ گیا تو سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا جو میرے قدموں میں گر گیا اور رونے لگا۔ میں نے اس کو اٹھایا اور پوچھا خدا کے بندے تو کون ہے اور تجھے کیا ہوا ہے۔ تو اس نے روتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے والد محترم کا غلام تھا جو عرصہ ہوا بھاگ گیا تھا۔آج مجھے اپنی اس حرکت پہ بہت ندامت ہوئی تو میں واپس آپ کے پاس حاضر ہو گیا۔ یہ پچیس درہم میری کمائی ہے یہ رکھیں اور آج سے میں آپکا غلام ہوں اور آپ میرے آقا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے وہ پچیس درہم رکھ لیئے اور اس غلام کو اسی وقت آزاد کر دیا۔ اور بیوی کو کہا کہ دیکھیں جب ہم نے عید کے قریب ایک غریب کا خیال کیا تو اللہ تعالی نے ہماری عید کا کیسا خوبصورت بندوبست کیا ہے۔ کہ دی ہوئی ساری رقم کیساتھ ساتھ ایک غلام بھی ہمیں عنایت کر دیا۔
اسلام چونکہ ایک ہمہ گیر مذہب ہے جس نے حقوق اللہ کیساتھ حقوق العباد کا اصول قائم کر کے دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو دوسرے انسان کیساتھ اخوت و بھائی چارہ قائم کرنے، مستحق و غرباء کا خیال رکھنے اور ضرورت مندوں کو ہر طرح سے مدد کرنے کا سنہری اصول وضع کیا یے۔ بالخصوص عید کے موقعہ پر اسلام میں اس پہ بہت زور دیا گیا ہے کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنی بساط کے مطابق عید جیسے تہوار پہ ضرورت مندوں کا یوں خیال رکھے کہ وہ بھی پوری طرح عید منا پایئں۔ صدقہ فطر اسکی ایک مثال یے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے عید کے موقعہ پہ غریبوں، مسکینوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی اور انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تا کہ جو نادار اپنی تنگدستی کے باعث عید نہیں منا پاتے انہیں بروقت صدقہ فطر ادا کرے عید سعید کی خوشیوں میں پوری طرح شامل کیا جائے۔ اور مستحق افراد کو عید کی خوشیاں دینے کیلئے صدقہ فطر ادا کرنا اتنا اہم و ضروری کہا گیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی روزے دار کا جب تک صدقہ فطر ادا نہیں ہوتا اس وقت تک اسکا روزہ زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتا یے۔
ارض پاک میں چونکہ اس وقت لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ایسے افراد ہیں جو اس وقت غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی سفید پوشی کو تیزی سے نگلتی جا رہی ہے اور لوگ دن بدن غربت سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان گنت خاندان ایسے ہیں جن کا عید کا دن بھی فاقوں میں گھرا اور خوشیوں سے کوسوں دور آہوں اور سسکیوں کی نذر ہو جایا کرتا ہے۔ عیدالفطر کے مبارک دن جب لوگ رنگ برنگے لباس زیب تن کیئے خوشیوں اور قہقوں کے درمیان عید کا دن گزار رہے ہوں گے اسی دن انہی بستیوں میں ہمارا آس پاس کئی خاندان اور گھرانے ایسے بھی ہوں گے جن کے گھروں میں موت جیسا سکوت اور قیامت جیسی خاموشی ہو گی۔ اگر ہم سب مل کر تھوڑی سی کوشش کر لیں تو ہماری اس کاوش کے عوض ان مستحق لوگوں پہ بھی عید اپنی خوشیاں وار سکتی ہے۔ اور ہماری بھی حقیقی خوشی اور عید کی اصل روح یہی ہو گی کہ ان سب کو اس تہوار میں شامل کریں۔ بالخصوص ان بزرگوں کو جنہوں نے ساری زندگی محنت مزدوری کی اور حلال کا نوالہ کھاتے کھلاتے رہے مگر ان کے حالات نہ بدل پائے اور آج ان کے بچے جن کا اس کے سوا دوسرا کوئی قصور نہیں کہ قدرت نے انہیں ان آنگنوں میں بجھوایا ہے جہاں فاقوں کی حکمرانی ہے۔ اور ان حالات نے ان معصوموں سے انکا بچپنا اور معصومیت تک چھین لی ہے وہ ہمارے دست شفقت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ اگر ہم انکی طرف متوجہ ہوئے بنا اپنی عید اور عبادات میں مصروف رہے تو یقینی طور پہ ہم سب کیلئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہو گا اور سوالیہ نشان بھی۔۔
ہم سب اس ضمن میں انفرادی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ گلی محلوں میں ایسی چھوٹی موٹی رفاعی کمیٹیاں بنا کر بھی اس فرض کو ادا کر سکتے ہیں اور ان تنظیموں کے بھی دست و بازو بن سکتے ہیں جو پورا سال ان مستحق افراد کی خبرگیری رکھتے ہیں۔
مددگار فاونڈیشن چکوال اسکی ایک مثال ہے جس کے اس وقت چھ شعبہ جات دکھی انسانیت کا درد بانٹنے اور انکی خدمت کیلئے مسلسل کوشاں ہیں جن میں بلڈ ڈونیشن، آسان نکاح، جاب پورٹل، مددگار موبائل کچن اور یتیم و بے آسرا بچوں کی تعلیم و تربیت اور رہائش و کفالت کیلئے پرورش ہاسٹل چک ملوک جیسے شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔ جس میں ہر سال فروری میں دس یتیم و بےآسرا بچوں کو لیا جاتا یے۔ اسی طرح حال ہی میں کراچی کے ایک ادارہ الحرمین کیطرف سے یتیم بچوں کیلئے تین دن کا فری عید بازار سجایا گیا ہے جو پچھلے کچھ سالوں سے تسلسل سے لگایا جا رہا ہے۔ امداد ٹرسٹ اسلام آباد، غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ، بیت السلام ٹرسٹ، رحمتہ العالمین مسجد اسلام آباد اور جھگی تعلیمی پروجیکٹ وغیرہ جیسی کئی قابل اعتماد تنظیمیں اس میدان میں موجود ہیں۔ جن کو ہمارے تعاون و مدد کی ضرورت ہے۔
اب چونکہ عید کی آمد آمد ہے اور ہر شخص عید کے چاند کا منتظر ہے۔ بس اس سے قبل اپنے اردگرد ان چاند جیسے بچوں کو بھی تلاش کرنا اور انکی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے جنکو غربت وافلاس کیوجہ سے گرہن لگا ہوا ہے اور خوشیاں ان سے روٹھی ہوئی ہیں۔ اگر عیدالفطر کے اس مبارک دن ان کے چہروں پہ خوشیاں اور مسرتیں بکھیرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین مانیں اس سے بڑی عید اور خوشی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔
بشکریہ جناب حفیظ چودھری صاحب۔








