قیادت کا معیار اور کارکنان کا کردار

تحریر / مدثر عارف جٹ، جھنگ

قیادت کے لیے تقویٰ، عدل، دیانت، علم، اور حکمت کو لازمی صفات قرار دیا گیا ہے۔ ایک قائد اپنی قوم کو عدل و انصاف کے ساتھ لے کر چل سکے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں، “بیشک اللہ تمہارے درمیان سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہے” (سورۃ الحجرات 13)۔ قیادت کے لیے تقویٰ اور اللہ کا خوف ضروری ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرے اور دنیاوی خواہشات میں نہ بہکے۔

عدل قیادت کا بنیادی اصول ہے۔ “بے شک اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے” (سورۃ النحل 90)۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظالم حاکم کے خلاف مظلوم قیامت کے دن شکایت کرے گا، جو عدل کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ دیانت اسلامی قیادت کا زیور ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، “اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا”۔

قیادت کے لیے علم اور حکمت لازمی ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے کہا: “مجھے زمین کے خزانوں کا نگران بنا دیں، میں حفاظت بھی کرنے والا ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں” (سورہ یوسف 55)۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالتے وقت عاجزی اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا: “میں آپ کا بہترین نہیں ہوں۔” حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھی عدل و انصاف کے اعلیٰ اصول قائم کیے اور اپنی قیادت میں اسلامی عدل کو زندہ کیا۔

اگر قیادت نااہل ہو یا اصولوں سے ہٹ کر چل رہی ہو تو کارکنان کو بھی اپنا کردار نرمی، حکمت اور خلوص کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے کہ “تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں” (سورۃ آل عمران 104)۔ کارکنان کا فرض ہے کہ وہ اصلاح کریں اور قائد کو نرمی سے صحیح سمت دکھائیں۔ قیادت میں مشاورت کو اہمیت دی گئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ نے خلفاء کو مشورہ دیا جب انہوں نے کوئی غلط فیصلہ کیا۔ کارکنان بھی اسی حکمت کے ساتھ مشاورت کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ “اگر کسی بھائی میں عیب نظر آئے تو اسے نرمی سے سمجھاؤ۔” یعنی مخالفت کا مقصد اخلاص سے اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ رسوائی۔

اگر قیادت مسلسل غلط راہ پر ہو تو کارکنان کو حق ہے کہ وہ علیحدگی اختیار کرلیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “اللہ کی نافرمانی میں شریک ہونے کا حق نہیں”۔ بعض اوقات دعا اور صبر بھی حکمت کے ساتھ اپنانا چاہیے۔ دعا کریں کہ اللہ نااہل قیادت کو ہدایت دے اور بہتری لائے۔

قیادت کے اوصاف اور کارکنان کا کردار دونوں اہم ہیں۔ کارکنان کو چاہیے کہ وہ اصلاح کے عمل میں مثبت اور خلوص کا رویہ اپنائیں اور نرمی، حکمت، اور صبر سے کام لیں۔ اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ قیادت کی اصلاح ہو اور انصاف، دیانت اور تقویٰ پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔