“پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل” ایک منفرد تنظیم!

تحریر۔ فائزہ ارشد۔

پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل کی بنیاد 2023 میں رکھی گئی۔ یہ تنطیم ایک ایسے وقت میں معرض وجود میں آئی جب معاشرے میں ہر طرف افرا تفری گھٹن نفرتیں عداوتوں اور ایک دوسرے کو نیچے گر کر دوسروں کو اپنے پیروں تلے لتھاڑ کر گزر جانے کا مرض سرایت کر چکا ہے۔ یہ تنظیم ایک ایسے وقت میں معروض وجود میں آئی جب ملکی و سیاسی و معاشی خراب صورتحال اور عوامی بےچینی عروج پا چکی ہے۔ یہ تنظیم ایک ایسے وقت میں معرض وجود میں آئی حکومتی ناقص پالیسیوں کی بدولت نوجوانوں کے ٹیلنٹ کارکردگی علم و تعلیم مہارت سب کچھ بےسود جاتا نظر آ رہا۔ یہ تنظیم ایک ایسے وقت میں معرض وجود میں آئی جب یہاں کرپٹ حکمرانوں کے بچھائے مایوسیوں کے جال قدم قدم پر نوجوانوں کو بہکا کر بیکار کرتے جا رہے۔ خیر حالات جو بھی ہوں اللہ سب کی خیر فرمائے۔
مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ایسے دور میں اس تنظیم کے بانی جناب محترم مہر قطب علی دُلو صاحب نے یہ ایک بہت بڑا قدم اٹھایا اور ایک خوبصورت تنظیم کی بنیاد رکھ ڈالی۔ مہر قطب صاحب بے انتہا صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے یہ قدم اس دور عہد میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے ساتھ دوسروں کو زندہ رکھنے کے لیے اٹھایا ہے اور یہ ضروری بھی ہے۔ مجھے یوں لگ رہا جیسے یہ تنظیم مستقل میں ایک انقلاب کے طور پہ سامنے آئے گی۔ قطب صاحب کے بعد پریزیڈنٹ پنجاب جناب محترم مبشر نور کمیانہ صاحب نے اس تنظیم کی باگ دوڑ سنبھالی ہوئی ہے۔ یہ دونوں بے چین روحوں اور متجسس و متحرک شخصیات کا نام ہے ۔ علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا۔
محبت مجھے اُن نوجوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
پریزیڈنٹ پنجاب مبشر نور کمیانہ صاحب تنظیم کے لیے بہت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے رواں سال 2024 میں پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل کے پلیٹ فارم سے 2 تحریری مقابلے کروائے۔ مبشر صاحب قوم میں شعور کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو خود کو پہچاننے اور ابھرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانا اور ان کو سراہنے میں بہت محنت کر رہے ہیں۔ مبشر نور کمیانہ صاحب بے انتہا صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ وہ نرم دل انسان اور سچے جذبوں کے مالک ہیں۔ وہ اپنی بکھری قوم کو یکجا کرنے اور نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم بندوق چھین کر قلم تھمانے کا عزم رکھتے ہیں۔ مبشر صاحب تنکوں کی مانند بکھری قوم کے نوجوانوں کو ایک ذمہ دار شہری بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ دم غنیمت ہے کہ منافقت اور مفاد پرستی کے اس دور میں یہ کسی معرکے سے کم نہیں ۔ ان کا یہ عمل قابلِ تحسین ہے ۔ پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل نوجوان نسل میں شعور کی ایک نئی روح پھونکنے میں معاون ثابت ہوئی ہے کیونکہ غیر سنجیدہ روش نے ہم سے غورو فکر کی سچائی چھین لی ہے۔ آج کل پاکستان کی جو صحافت ہے اس پر یہ اشعار ہی کافی ہیں۔
کبھی ککڑ لڑاتے ہو کبھی بندر نچاتےہو
صحافت کے خداؤ تم بڑا ادھم مچاتے ہو
نہ جانے کن اشاروں پر ہمہ تن رقص رہتے ہو
جہاں پانی گرانا ہو وہاں شعلے دکھاتے ہو
صحافت کو فروغ دینے اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے سر قطب علی دُلو صاحب کی تنظیم کی بنیاد رکھنے کی اس کاوش کو میں پاکستان کی صحافت کی بقاء کی ضامن سمجھتی ہوں۔ اس کونسل نے عوام اور نئی نسل میں جہاں ایک نیا تصور پیدا کیا ہے وہی پر ایک نئی بصیرت بھی عطا کی ہے ۔ اس تنظیم کی ایک الگ خصوصیت جو میں نے دیکھی وہ یہ کہ اس تنظیم میں تمام ممبران ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں۔ تمام لوگ پروفیشنل ہیں۔ کوئی اخبارات کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں تو کوئی میڈیا کے مختلف چینلز پر۔ کسی کے اپنے یوٹیوب چینلز ہیں تو کو ویلاگر ہیں۔ البتہ اس تنظیم میں پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی بہت سے پڑھے لکھے صحافی لکھاری حضرات شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔
اب انشاءاللہ 25 دسمبر 2024 کو لاہور شہر میں پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل کی پہلی تقریب اور ورکشاپ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ جس میں ملک بھر سے تنطیم ممبران اور امریکا اور دبئی سے تنظیم کے ممبران تشریف لا رہے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے تمام شرکاء میں شیلڈز سرٹیفکیٹ تعریفی اسناد تقسیم کی جائیں گی۔ اس کے لیے صدر پنجاب جناب محترم مبشر نور کمیانہ صاحب بہت محنت کر رہے ہیں۔ پہلی سالانہ ورکشاپ میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام ممبران کی لسٹیں الگ الگ تیار کر رہے ہیں جن کو شیلڈز اور ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
دعا ہے کہ بانی تنظیم قطب علی دُلو صاحب کی قیادت اور سربراہی میں پاکستان انٹرنیشنل کونسل کامیابی کی طرف گامزن رہے گی جس سے صحافت آزاد فضا میں سانس لے گی۔ کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل ایک تحریک کا نام ہے اور یہ تحریک ایک باریک اور محین سی مگر کناروں کے اندر سفر کرنے والی لہر کا نام ہے۔ جس کی لہریں سب کو فیضیاب کر کے ایک کامیاب انسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ انشاءاللہ۔ آخر پر تنظیم کے تمام ممبران کے لیے میری طرف سے ہمت و حوصلہ اور ڈھارس بندھا دینے والے قیمتی الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
حوصلے کی ترکش میں
کوشش کا وہ تیر زندہ رکھ،
ہار جا چاہے زندگی میں سب کچھ،
مگر پھر بھی، جیتنے کی امید زندہ رکھ.
۔۔۔