جماعت اسلامی ڈی آئی خان کی طرف سے تربیت گاہ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد

رپورٹ/تصاویر، نثاربیٹنی،،

ڈیرہ اسماعیل خان( سٹارنیوز)، ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں جماعت اسلامی کی طرف سے تربیت گاہ کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق تھےجبکہ اس موقع پر جماعت اسلامی ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدرمنظر مسعود خٹک، ضلعی جنرل سیکریٹری اسدجان، تحصیل امیر نعمان سدوزئی، تحصیل قیم خرم حماد نیازی، ضلعی صدر الخدمت متین جان بابڑ، زاہد محب اللہ ایڈوکیٹ، شعیب عوان اور کثیر تعداد میں جماعت اسلامی کی ورکر اور عام افراد موجود تھے، اس موقع پر مختلف مقررین نے خطاب کیا، تربیت گاہ نشست کے مہمان خصوصی سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہنے کو تو پاکستان ہے ازاد لیکن اس کی معیشت، سیاست، عدلیہ اور حکومت پر استعماری قوتوں کا قبضہ ہے، پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کا قبضہ ہے جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اسے کون چلا رہا ہے، ہماری معاشی پالیسیاں اسلام آباد نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے دفتر میں بنتی ہیں، انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں کو آپ کا نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، حج پر جانا اور خیرات و صدقات کرنے سے کوئی خطرہ نہیں، یہ سب کچھ تو ان کے ممالک میں مسلمان ہم سے زیادہ کر رہے ہیں لیکن انہیں جو سب سے زیادہ تکلیف ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی مرضی سے حکومت نہ کریں بلکہ ہمارے اشاروں پر چلیں اور مغربی استعمار سے ازادی کا خواب نہ دیکھیں،سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا ایک روزہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن اور جمہوریت محض ڈراما ہوتا ہے، حکومت کا فیصلہ عالمی استعمار کرتا ہے. ہم آزاد نہیں ہیں.نماز روزے کی آزادی تو امریکا و برطانیہ میں بھی ہے.
اب فوجوں کی جنگ کے بغیر دنیا کو فتح کرنے کی پالیسی آ گئی ہے.
سودی نظام خدا و رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے.جب تک یہ نظام تہہ و بالا نہیں کیا جائے گا تب تک خام خیالی رہے گی. ہماری معیشت پر آئی ایم ایف کا قبضہ ہے. تجارت اس کے قبضے میں ہے. برآمدات و چیزوں کی قیمتوں کا فیصلہ وہ کرتا ہے. پاکستان میں قرآن مجید کے مطابق فیصلے نہیں کیے جاتے.
تعلیمی نصاب وہاں سے آتا ہے اس لیے قوموں کی تعمیر اور روح و جسم کا علاج کرنے والا معلم پیدا نہیں ہو سکتا. ہمارا اور ان کا تنازع یہی ہے کہ ہم شرعی نظام چاہتے ہیں اور وہ اپنا نظام ٹھونسے ہوئے ہیں. دنیا کو غیر سیاسی مسلمان اور غیر سیاسی اسلام چاہیے.
ہمیں دین و شریعت کے بغیر حکومت نہیں چاہیے اسی لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی شراکت اقتدار کی دعوت مسترد کر دی. انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے اصل مسئلہ چوروں کی حکمرانی ہے. مقتدر افراد کے اربوں ڈالرز بیرونی ممالک کے بنکوں میں جمع ہے. اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی جماعتوں اور قوم کو تقسیم کیا ہوا ہے. حکومت و اپوزیشن میں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل نہ کیے گئے تو رہی سہی جمہوریت بھی ختم ہو سکتی ہے. سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ہی ایک ایسی جماعت ہے جو استعماری قوتوں کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور اسی لیے ان کو ہر موقع پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی مخالفت ہر سطح پر کی جاتی ہے، اپنے تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہمیشہ حق سچ کا قافلہ کم افراد پر مشتمل ہوتا ہے اگر ہم کربلا کی طرف نظر دوڑائیں تو حق سچ کا قافلہ حضرت امام حسین کا تھا جس میں صرف 72 افراد تھے جن میں زیادہ تر تعداد معصوم بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی تھی جبکہ باطل کا قافلہ لاکھوں اور ہزاروں میں تھا لیکن آج باطل گروہ کا کوئی نام نہیں لیتا دوسری طرف 13 صدیوں سے حضرت امام حسین کی شہادت کی یاد آج بھی ہر مسلمان کے دل میں تازہ ہے، یہی کچھ جماعتی اسلامی کے ساتھ بھی ہے کہ جماعت اسلامی کا قافلہ حق کا قافلہ ہے، امام حسین کا قافلہ ہے، انہوں نے ڈی آئی خان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے ہاتھ اور بازو بنیں اور حق سچ کا ساتھ دے کر اس ملک سے سود، بے حیائی اور مغربی استعماریت خاتمہ کرنے میں مدد کریں، انہوں نے ایک بہترین تقریب ترتیب دینے پر جماعت اسلامی ڈیرہ اسماعیل خان کی قیادت اور ورکروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے جماعت اسلامی کے نوجوان جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں