ایک کروڑکی ریکوری اور ایس ایچ او رنگ پور حسنین رضا
تحریر علی امجد چوہدری
حسنین رضا سب انسپکٹر ہیں اور تھانہ رنگ پور میں بطور ایس ایچ او تعینات ہیں نوجوان ہیں مگر جزبات کی دنیا سے کوسوں دور ہیں ان کی تشریح کچھ یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ برستے ضرور ہیں مگر گرجتے نہیں ہیں یہ تھانہ رو ہیلانوالی کے ایس ایچ او تھے کہ رنگ پور میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی انہیں ڈی پی او مظفر گڑھ سید حسنین حیدر نے خاص طور پر تعینات کیا انہوں نے خاموشی سے کام کیا بعض حلقوں کی طرف سے ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کے ساتھ ساتھ ان کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی مگر یہ پھر بھی نہیں گرجے اور نہ ہی معترضین کو جواب دیا انہوں نے کوئی دو ماہ خاموشی سے کام کیا اور پھر تقریباً ایک کروڑ کی حیران کن ریکوری کر ڈالی ریکوری میں نقدی موبائل فونز ٹریکٹر جانور کلاشنکوفیں ریوالورز اور دیگر چیزیں شامل تھیں یہ تھانہ رنگ پور کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے مختارا عرف مکھا گینگ اور آمرانہ گینگ تھانہ رنگ پور سمیت ارد گرد کے تھانوں کی پولیس کے چیلینج بنے ہوئے تھے مگر ان کی گرفتاری کا سہرہ ایس ایچ او حسنین رضا کے سر سجا آج ریکوری لینے والوں میں دریائی علاقے کے ایک باریش شخص کہ وہ الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں جو ایس ایچ او اور رنگ پور پولیس کو دعائیں دیتا ہوا یہ کہ رہا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا جس کہ بیس روز قبل چوری ہوئی اس کی 300000 مالیت کی original گائے اسے مل جائے گی
بہرحال ڈی پی او مظفر گڑھ سید حسنین حیدر اور ڈی ایس پی طاہر اعجاز کی زیر نگرانی رنگ پور پولیس ایس ایچ او حسنین رضا کی قیادت میں جس طرح جرائم پیشہ عناصر پر قابو پا گئی ہے یہ لائق ستائش ہے اور جو قابل تعریف کام کرے اس کی تعریف میں کنجوسی بھی نہیں ہونی چاہیئے
علی امجد چوہدری












