جدید دور کا صحافی
تحریر: پرویز اختر تبسمی
( چیف ایڈیٹر ڈیلی عزم عالیشان پاکستان
7936088 0305)
بیشتر لوگ میڈیا پر پابندی و آزادی کا رونا روتے دکھائ دیتے ہیں لیکن افسوس اور المیہ یہ ہے کہ تمام تر حقائق جاننے کے باوجود وہ ایسے لوگوں کی پشت پناہی و سرپرستی کرتے کیوں ہیں؟؟ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سوشل میڈیا پر ہر ایرا غیرا و نتھو کھیرا خود کو جرنلسٹ،اینکر پرسن و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کہلواتا ہے جن کی کوالیفیکیشن پرائمری،مڈل یا میٹرک (🌟 کے ساتھ پاس) ہوتی ہے وہ بھی پانچ ہزار سالانہ یا پانچ چھ سو منتھلی دے کر صحافی بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پر ہر دوسرا تیسرا آدمی صحافی ہے موبائل پر ایڈیٹنگ کے ساتھ لوکل اخباروں کی بھرمار ہے لیکن ادارے اس حوالے سے بالکل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جن پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟؟ اگر یہ کہا جائے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بیشتر فسادات کی جڑ صحافی ہیں تو شاید بے جا نہ ہو گا کیونکہ یہ حقائق چھپاتے ہیں،مظلوم کی آواز نہیں بنتے،ظالم و جابر کی چاپلوسی و خوشامد کرتے ہیں۔جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں۔سرکاری و نجی اداروں میں بیٹھے عہدیداروں میں کرپشن مافیاز کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔سیاستدانوں و وزرا کے گلے میں ہار پہناتے ہیں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ان تمام تر تلخ حقائق کا مرکزی خیال یہی ہے کہ چاپلوسی اور خوشامد کیلئے چند اداروں،سیاستدانوں اور دیگر چند طبقات نے صحافی پال رکھے ہیں۔تقریباً 80 فیصد صحافی خود غرض،مفاد پرست،چاپلوس اور خوشامدی ہوتے ہیں جنہیں مختلف نجی و سرکاری اداروں کی جانب سے ایوارڈذ،شیلڈذ اور تعریفی اسناد و سرٹیفیکیٹس دیئے جاتے ہیں۔اگر صحافیوں کو سیاستدانوں کا ایجنٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اکثر اوقات صحافیوں کی جانب سے کھانے کے حصول کیلئے بنائے گئے تعریفوں اور چاپلوسی کے بے بنیادی پل انتہائ کھوکھلے اور غیر معیاری ہوتے ہیں جو پل بھر میں زمیں بوس ہو جاتے ہیں اور تو اور پریس کلبز کے عہدیداران بھی الیکشنز میں یک طرفہ انٹرویوز کرتے ہیں اگر کوئ اپنی رائے کا اظہار مطلوبہ سیاستدان سے حریف کی جانب کر رہا ہو تو وہ کلپ کٹ کر دیتے ہیں۔ایسے صحافیوں کے پوسٹر و فلیکسز اکثر اوقات آپ کو مختلف چوکوں ، چوراہوں پر سیاستدانوں کے ساتھ لگے دکھائ دیں گے۔جہاں تک باقی 20 فیصد کا تعلق ہے وہ بلاجھجک و بلا تمہید درج بالا تمام خامیوں کو پس پردہ رکھتے ہوئے حقائق اور مظلوم کی آواز بنتے ہیں۔علاقائ و معاشرتی مسائل اجاگر کرتے ہیں جس سے ان کے چاروں اطراف نفرت و الزام تراشی کرنے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔حالات و واقعات کی سنجیدگی کی وجہ سے ان کے بیشتر اوقات حوصلے پست بھی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد پر ہمت و جواں مردی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو عوامی،نجی و سرکاری حلقوں میں بہت کم پزیرائی ملتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ پاک دھرتی کو عالیشان بنانے کیلئے 80 فیصد کی بجائے 20 فیصد صحافیوں کو سپورٹ کرنا ہو گا اور انہیں ترجیح دینا ہو گی۔۔










