تربیت سازی و نظم و ضبط میں سکول کا کردار

تحریر : فیصل جنجوعہ

سکول معاشرے کی تعمیر میں دوسری اینٹ کا درجہ رکھتا ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر مردم سازی کا کام انجام دیا جاتا ہے۔جہالت کی ظلمتوں میں بھٹکتی انسانیت کے لئے اسکول ایک پاور ہاﺅس کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے ساری انسانیت کو روشنی کی تقسیم عمل میں آتی ہے۔بچہ جب اپنے گھر سے باہر سکول کی دنیا میں پہلا قدم رکھتا ہے تب تک وہ آداب ،ظرافت ،شائستگی،نظم و ضبط سے بڑی حد تک بے خبر رہتاہے۔سکول صرف معلومات کی فراہمی کا کام انجام نہیں دیتا ہے بلکہ بچے کو صحیح طرز زندگی سے واقف کرواتا ہے۔ اسے مثبت اور کارآمد زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں سے آگاہ کرتا ہے۔سکول بچے کو اچھائی اور برائی میں تمیز سکھانے کے ساتھ خوف خدا،سچائی وحق پرستی سے کام لینے و اس کا ساتھ دینے ،انسانیت ،محبت ،مروت،
احسان ،سلوک کی تعلیم و تربیت فراہم کرتا ہے ۔تغیر پذیر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لئے تیار کرتا ہے۔باہمی تعاون و اتحاد اور عمدہ اخلاق ،عادات و کردار کی تشکیل و فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔صبر وتحمل اور اجتماعیت کا درس بھی بچے اسکول سے ہی سیکھتے ہیں۔
بچوں کی تربیت و کردار سازی میں مذکورہ عناصر نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کا منشاءو مقصد بچوں کو نیک و صالح بنانا ہوتا ہے۔اگر ان تینوں اداروں میں سے کوئی کوتاہی یا خرابی کا شکار ہوجائے یا ان میں صحیح تامیل و تعاون نہ ہو تب انجام کار بہت ہی خراب ہوتا ہے۔والدین ،ماحول اور مدرسے کو منظم و مربوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔گھروں میں اگر اچھے برے کا التزام ہوگا تب بچے بھی ان اصولوں کے تحت پرورش پائیں گے اور جب سکول کا رخ کریں گے تب حقیقی معنوں میں تعلیم وتربیت سے فیض یاب ہوسکیں گے۔اگر گھر میں نظم و ضبط ،اخلاق و کردار پر توجہ نہ دی جائے تو ایسے گھروں کے بچے سکولوں میں داخل بھی ہوجائیں تو بھی حقیقی معنوں مین تعلیم و تربیت سے فیض نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ایسے بچوں کی فکر و عمل میں لاشعوری طور پرتضاد پایا جاتا ہے جو مستقبل میں خطرناک نفاق کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ والدین ،اساتذہ اور ذمہ داران مدرسہ اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دیں۔والدین گھر کو اعلیٰ اخلاق اور نظم و ضبط کا نمونہ بنائیں۔اساتذہ طلبہ کو معاشرے کے لئے کارآمد اور انسانیت کا علمبردار بنائیں۔ذمہ داران مدارس تعلیم و تربیت میں مددگار وسائل و ذرائع کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ بچوں میں اعلیٰ درجے کا نظم و ضبط ،اخلاق و کردار پروان چڑھ سکے۔
کمرہ جماعت ہی سکول کی وہ واحد جگہ ہے جہاں نظم و ضبط کے تمام اصول و ضوابط کا اطلاق اور عمل پیرائی ممکن ہے۔کمرہ جماعت میں اساتذہ اپنی بھر پور شفقت توجہ اور اخلاق کردار اور رویوں کی احسن تعلیم و تربیت کے ذریعہ طلبہ میں اطاعت فرمانبرداری اور اصولوں پر عمل پیرائی کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں۔ کوئی بھی شخص سخت گیری ،ترش روی اور طاقت کے زور پر بچوں میں اطاعت ،فرمانبرداری اور نظم و ضبط کی فضا کو ہرگز پروان نہیں چڑھا سکتا ۔یہ آفاقی حقیقت ہے کہ سخت مزاجی اور طاقت کے ذریعہ نظم و ضبط قائم ہی نہیں ہوسکتا ہے ۔چند سخت اصولوں کو بچوں پر مسلط کرتے ہوئے ہم نظم و ضبط کی صورت حال کو ہرگز درست نہیں کرسکتے۔ ایسے اقدامات توانائی اور وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔نظم و ضبط کے حاکمانہ طریقے ،یہ مت کرو،وہ مت کرو کی بے جا بندشوں سے بچوں میں صحت مند آزادی اظہار وآزادی بودو باش کے جذبات تنزلی کا شکار ہوجاتے ہیں۔لگاتار سزاﺅں،ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ نظم و ضبط کی حقیقی روح کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اساتذہ کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا لازمی ہے کہ سخت گیر رویے اور دھمکی آمیز مکالمات و اقدامات سے عمدہ نظم و ضبط کی فضاکبھی بھی ہموار نہیں کی جاسکتی۔
اساتذہ جب طلبہ کو ایسے حالات جو انھیں صحیح طرزعمل،ردعمل کے درست طریقہ کار،زندگی کے صحیح و بہتر رویوں سے روشناس کرنے اور ان کی اہمیت و معنویت پر غورو فکر کرنے پر مائل کرتے ہیں تو ان میں اپنی تبدیلی کا ایک جذبہ ومحرکہ ازخود جنم لینے لگتا ہے۔اساتذہ بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا جب اہتمام کرتے ہیں تو بچے اپنے رویے اور برتاﺅ پر قابو پانے کے لئے خود سے چند اصول و طریقے وضع کرلیتے ہیں۔اساتذہ اچھے طرز عمل ،صحیح رویوں اور مطلوبہ پسندیدہ عادات کو طلبہ میں استوار کرنے کے لئے کلاس روم کی سرگرمیوں کے دوران ہونے والی گفتگو اور مواقعوں سے بہتر طریقے سے استفادہ کریں۔ کلاس روم کو اگر تبدیلی کی مثالی تجربہ گاہ (Ideal Transforming Laboratories)سے معنون کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ کمرہ جماعت ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں شخصیت کی کامیاب نشوونما میں معاون ،مقبول و پسندیدہ رویے جیسے تعاون،اکتساب بذریعہ امداد(Learning by Helpiing) ،باہمی احترام واکرام ،مہذب و شائستہ طریقہ اظہار اور دوسروں کے بارے میں احساس فکرمند ی جیسے تجربات کامیابی سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔یہ تجربہ گاہیں (کلاس رومز) بچوں کو آنے والی زندگی کے نشیب و فراز میں بھی اخلاق و اقدار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں۔ طلبہ میں پائے جانے والی ہر قسم کی بے راہ روی جو عام طورپر سرکش رویوں، زبانی جارحیت،توڑپھوڑ،مارپیٹ ،لڑائی جھگڑے اور غنذہ گردی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو زندگی کے حسن و نغمگی کو تباہ کردیتی ہے کی بروقت اصلاح کی متقاضی ہوتی ہے تاکہ منفی رویوں کا تدارک ہوسکے۔
بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنا اور نظم و ضبط کے کارگر اصولوں کو ان کے ذہنوں میں پیوست کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بچوں میں تعمیری نظریات،ذمہ داری اور رواداری کی برقراری کے لئے اسکولی سطح پر تمام ڈسپلن پالیسیوں پر فعال عمل آوری سے قبل موثرمنصوبہ بندی،نتیجہ خیز اقدامات اور گہر ے فکر و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ہمیشہ ایک نکتہ اپنے ذہنوں میں محفوظ کرلیں کہ مناسب اور تعمیری ڈسپلن کے بغیر درس و تدریس کے مطلوبہ مقاصدکا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔اساتذہ طلبہ کے علم و معلومات کے افق کو وسعت دینے کے ساتھ ان میں معیاری طرز عمل اور پسندیدہ اطوار کے فروغ کی باقاعدگی سے سعی و کوشش کریں۔اساتذہ کی یہ کوشش نہ صرف طلبہ کو ایک خوشحال اور محفوظ زندگی فراہم کرنے میں مددگار ہوگی بلکہ طلبہ سماج اور معاشرے کی آرزﺅ ں اور ارمانوں کی تکمیل کا بھی ذریعہ بن جائیں گے۔اساتذہ بچوں میں ایک ایسا احساس جاگزیں کردیں جو انھیں ہمیشہ صحیح کاموں کی انجام دہی اور ترقی کی سمت آمادہ کرتا رہے۔ذیل میں چند ایسے بنیادی عوامل کا ذکر کیا جارہا ہے جو طلبہ میں اچھے طرزعمل(برتاﺅ) اور نظم و ضبط کو تقویت دینے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
اساتذہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کمرہ جماعت کے حالات ان کے سبق کی ضروریات کے لئے موزوں و مناسب ہوں اورجو طلبہ کی زندگی میں صحیح طرزعمل(برتاﺅ) اور عمدہ اخلاق و اقدار کو جاگزیں کرسکیں۔
طلبہ میں ایک زندہ و متحرک ضمیر کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اچھی عادات ،عمدہ اخلاق ،بہتر رویوں اور اقدار کے انتخاب میں ان کی رہبری کرے ۔مذکورہ رویوں کا طلبہ میں جاگزیں ہونا ہی درحقیقت اخلاقی نشوونما کی معراج ہے۔
کلاس روم کے انضباطی کاروائیوں کا ایک خاکہ تیارکریں،جو لکچدار ہو لیکن مضبوط کردار کی تعمیر میں معاون رہے۔انضباطی اصول بہت زیادہ سخت اور قابل تعزیر نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ایسے اصول سخت ناراضگی اور آزردگی کا باعث بنتے ہیں۔
کمرہ جماعت میں دوران تدریس طلبہ کواخلاقی اقدار سکھانے کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔زندگی میں اصول اور اقدار کی اہمیت کو اجاگر کریں اور بتلائیں کہ زندگی اور دنیا کا حسن ان ہی سے قائم ہے۔ طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات نقش کردیں کہ اخلاق و کردار کی قدر و قیمت اور اہمیت تمام مادہ پرستانہ کامیابیوں اور فوائد سے بالا تر ہے۔
بچوں کی عزت نفس کو مجرو ح اور نقصان پہنچانے والے جارحانہ اظہار،دھمکی آمیز لہجوں اور انتہائی رویوں اور تاثرات سے اساتذہ گریز کریں۔یہ طرزعمل طلبہ کو ان سے متنفر کردیتا ہے اور ان میں خراب رویے جڑ پکڑنے لگتے ہیں۔
نیکی کے حسن اور بدی کی قباحتیں ،مثبت طرز عمل کے فوائد اور منفی برتاﺅ کے نقصانات سمجھانے سے طلبہ میں اچھے رویوں اور اخلاقی اقدار کی جانب رغبت بڑھتی ہے اور اعلیٰ طرزعمل رویوں اور اخلاقی اقدار کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔
کمرہ جماعت یا کسی گروہ میں جب بچوں میں اجنبیت کا احساس باقی نہ رہے تب ان میں ایک مثبت محرکہ پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بہتر طرز عمل اور رویے وجود میں آتے ہیں ۔یہ مثبت رویے طلبہ کے جذباتی استحکام اور ذہنی نشوونما میں آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔طلبہ سے اساتذہ کا رویہ ایسارہے کہ وہ خود کو اجنبی نہ تصور کریں اور اتنا دوستانہ بھی نہ ہو کہ ادب و احترام ملحوظ نہ رکھا جاسکے۔
بچے کے کسی خاص برے سلوک پر جب ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کیا جائے تو یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو اس کے متباد ل مطلوبہ سلوک و طرزعمل سے آگاہ کیا جائے تاکہ خراب برتاﺅ کی جگہ اچھے اورعمدہ طرزعمل کو تقویت و فوقیت حاصل ہوسکے۔