فکری جمود

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

فکری جمودسےمراد ذہنی رکاوٹ یا فکر و نظر کا ٹھہراؤ ہے۔فکری جمود بہت ہی خطرناک ہے اور اس سے انسانی صلاحیتیں مردہ ہو جاتی ہیں۔فکری جمود کا اگر ایک فرد شکار ہو جائےتو وہ بھی کم خطرناک نہیں ہوتا،لیکن اگر پورا معاشرہ یا قوم فکری جمود کا شکار ہو جائے تواس قوم یا معاشرے کاتنزلی کا شکار ہوجانالازمی ہے۔جامد فکر پورے پورے معاشروں کو غلامی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔انسانی فکر اگر جمود و انحطاط کا شکار ہو جائے تو انسان کی شعوری قوتیں ناکارہ اور زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔اگر انسانی شعوری قوت ناکارہ ہو جائےتو معاشرے میں بے تحاشہ بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔فکر انسان کو ہر وقت چست و چالاک رکھتی ہے اور اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ نئے نئے جہاں ڈھونڈے جائیں۔امت مسلمہ جب فکری طور پر جاندار تھی،تو پوری دنیا کی امامت کر رہی تھی۔جب امت مسلمہ فکری طور پر جمود کا شکار ہوئی تو اچھا خاصا خسارہ ابھی تک اٹھا رہی ہے۔یہ خسارہ ابھی تک نہیں رکا بلکہ مسلسل جاری ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب تک جاری رہے گا۔اسلامی تعلیمات انسان کو فکر کرنے پر ابھارتی ہیں۔قرآن بار بار غور و فکر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔”پھر جب ان پر رات کا اندھیرا چھایا تو ایک تارا دیکھا اور کہا کیا اسے میرارب ٹھہراتے ہو؟جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔پھر جب چاند چمکتا دیکھا تو فرمایا کیااسے میرا رب کہتے ہو؟پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا اگر مجھے میرے رب نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوتا۔پھر جب سورج کو چمکتا دیکھا تو فرمایا کیا اسےمیرا رب کہتے ہو؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے،پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا اے میری قوم!میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو”(انعام۔76،77،78)قرآن کی یہ آیات انسان کو فکر کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ابراہیم علیہ السلام کی قوم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی پوجا اور پرستش کرتی تھی۔کسی نے تارے کو رب بنایاہوا تھا اور کسی نے سورج اور چاند کواور کسی نے کسی چیز کو اپنا رب مان لیا تھا۔ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو سمجھانے کے لیے دلیل اور فکر کی دعوت دی تاکہ حق واضح ہو جائے ۔ظاہر بات ہے جوچیز فنا ہووہ رب کیسے کہلائی جا سکتی ہے؟اس لیے اسلام انسان کوفکری جمود سے نکالتا ہے،تاکہ معاشرہ بہتری کی طرف گامزن رہے۔فکری جمود انسان کو مایوسی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔بعض اوقات انسان خودکشی پر مائل ہو جاتا ہے۔
موجودہ دور میں جو ترقی یافتہ ممالک ہیں،پہلےان ممالک میں بسنے والی عوام فکری طور پر جمود و انحطاط کا شکار تھی۔ان کی سوچیں اور فکر محدود تھیں(آج کل امت مسلمہ کا یہی حال ہے)جدید علوم کو حاصل کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ایک محدود فکرکی زندگی گزارناہی ان کا مقصد بن گیا تھا۔محدود فکر ان کوآگے بڑھنے سے روک رہی تھی۔اس وقت زیادہ سوچنااورفکرکرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔تنگ نظر دانشور ان کو ایک دائرے سے آگے نکلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔یہ دائرےکبھی مذہب(خود ساختہ مذہب)،کبھی رسم ورواج اور کبھی نام نہاد نظریے کے گرد گھومتے تھے۔اگر کوئی دانشور یا مفکر اگر ان دائروں سے نکلنے کی کوشش کرتا تو اس کو کڑی سزائیں دی جاتیں۔چند صدیاں قبل بڑے بڑے سائنسدانوں اور مفکرین کو ناقابل برداشت اذیتیں سہنا پڑیں۔چند صدیاں نہیں بلکہ ہزاروں سال قبل بھی فکر کے دشمن موجود تھے،جنہوں نے سقراط جیسے عظیم مفکر کو زہرپلایا۔چند صدیاں قبل گلیلیو کوسزا سہنی پڑی۔اس کے علاوہ بڑے بڑے مفکراذیتیں برداشت کرتے ہوئےاپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔بہرحال عوامی سطح پر جب فکری جمود ٹوٹا تو ترقی کی رفتار حیرت ناک نظرآتی ہے۔فکرانسان کو نئے جہانوں سے روشناس کراتی ہے اور فکری جمود سے ذہن مردہ ہو جاتے ہیں۔اسلام مکمل رہنمائی کرتا ہے کہ کس طرح غور و فکر کیا جائے؟غور و فکر سے یہ بھی مراد نہیں کہ فضول قسم کی سوچوں کوپروان چڑھایا جائے۔مثال کے طور پر جب بغداد پر حملہ کیا جا رہا تھا تو اس وقت کے علماء اور مفکرین ان بحثوں میں الجھے ہوئےتھے کہ قربانی کے گوشت کی ہڈیاں دفنا دینی چاہیے،دریا برد کر دی جائیں یا ان کو آگ لگا دی جائے۔بعض اوقات ان کی بحثوں کے موضوعات فضول قسم کے ہوتے تھے،مثال کے طور پر ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں،اس طرح کے مناظرے اس وقت کیے جا رہے تھے۔حقیقی علوم کو پس پشت ڈال دیا جائے،تو انسان فضول قسم کی سوچوں میں الجھ کررہ جاتا ہے۔
دنیاوی تعلیم سےاسلام منع نہیں کرتا بلکہ حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔دنیاوی تعلیم اگر انسانیت کی فلاح کے لیے حاصل کی جائے تواس سے بہتر کوئی کام ہی نہیں۔فکرکر کےانسانی فلاح کےلیےسوچنا اللہ کو بہت پسند ہے۔مختلف قسم کی جامعات میں تعلیمی اداروں میں مخصوص قسم کا نصاب پڑھایا جاتا ہےاور جدید علوم سےآشنائی نہیں دلائی جاتی۔فلسفہ،سائنس،ریاضی اور اس جیسے جدید علوم کی طرح توجہ نہ کرنا بدبختی ہے۔بہتر یہ ہے کہ بچپن ہی سےان علوم سےروشناس کرایا جائےتو بڑے ہو کروہ بچہ معاشرے کے لیےایک مفید فرد ثابت ہوگا۔معاشرے میں جمود کوتوڑنا ہوگا تاکہ بہتری کی طرف قدم بڑھائے جا سکیں۔فکری جمود قوموں کی موت ہوتا ہےاور جو قوم فکری جمود سےآزاد ہو جاتی ہے،وہ ترقی یافتہ اور خوشحال ہو جاتی ہے۔فلسفہ اور سائنس اسلام کےدشمن نہیں اور نہ اسلام ان علوم کا دشمن ہے۔فلسفہ اور سائنس اور اس جیسے دیگر علوم سےانسانی زہن وسیع ہوتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ نوجوان انٹرنیٹ کی رنگینیوں میں کھوکر اصل مقصد سے ہٹ گئے ہیں۔کتاب سے رشتہ ٹوٹ رہا ہےاور کتاب سے جس کا رشتہ ٹوٹ گیاتو یوں سمجھا جائے کہ علم سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیا۔جس قوم کا علم سےرشتہ کمزور ہو جائےیا ٹوٹ جائے،تو اس میں بے چینی پیدا ہونا عام سی بات ہے۔سوالات بھی اٹھانے چاہیےاور اٹھتے سوالات کا تسلی بخش جواب بھی ضروری ہے۔سوال اٹھانا اور اس کاجواب دینا،ایک زندہ معاشرے کی مثال ہے۔سوالات جب پیدا ہوتے ہیں تونئی تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں اور نئی نئی ایجادات اور آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔علم کسی کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ جوآگے بڑھتا ہے وہی حاصل کر لیتا ہے۔علم سے فکری جمود ٹوٹتا ہےاور فکری جمود کو ٹوٹنا ہی چاہیے۔فکری جمودکا ادراک کرنا ضروری ہے،جب تک اس بات کا ادراک نہ ہوگا کہ فکری جمود کیا ہے؟ اس وقت تک آگے بڑھنا ممکن نہیں۔قرآن ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہےاور اسی رہنمائی کے زیر اثرہم دوسرے علوم کی طرف راغب ہو جائیں،تو ایک شاندار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔