مدارس دینیہ کی رجسٹریشن کا بِل دونوں ایوانوں سے متفقہ منظور ہوا اب صدر مملکت کے اعتراضات غیر آئینی غیر قانونی ہیں مہرمحمدیار

جھنگ( سٹارنیوز)سیاسی وسماجی کارکن، جمیعت علماء اسلام حلقہ این اے 108پی پی 125 مہر محمد یار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ ملکی صورتحال، مدارس رجسٹریشن بل، اور آئینی ترمیم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ آئین و قانون کی پاسداری اور دینی مدارس کے تحفظ کی علمبردار رہی ہے موجودہ حکومت کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم پر وعدہ خلافی اور مدارس بِل پر تاخیری حربوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل سابقہ صدر عارف علوی نے بھی مقدسات اسلام کی توہین پر قانون سازی کے بِل ناموس صحابہ رض جوکہ دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظور ہوا اس پر بھی صدر نے دستخط نہ کرکے نہ صرف اسلام دشمنوں کو خوش کیا بلکہ ایوانوں کی بھی توہین کی ہے مدارس پر وہ صدر مملکت کے غیر آئینی غیر قانونی انداز میں اعتراضات میں واضح ہوگیا ہے پارلمینٹ عوامی نمائندوں کے بجائے بیرونی دباؤ پر چل رہی ہے پاکستان کے فیصلوں کا حق صرف پاکستان کی پارلیمنٹ میں بیٹھے پاکستان کی عوام کو ہے منتخب کردہ عوامی نمائندگان کو ہے اور پاکستان کی عدالتوں کو ہے کسی بیرونی دباؤ پر پارلمینٹ یا عدلیہ کا فیصلہ تبدیل ہونا ہرگز قبول نہیں ہوگا بیرونی دباؤ پر فیصلے یقیناً
پاکستان کی آزاد خود مختاری اور سالمیت پر حملہ تصور کرتے ہیں ہم اس موقع پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے مؤقف کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہیں جمعیت علماء اسلام جھنگ کی تمام تنظیموں و مرکزی قیادت کے ہر حکم پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں کارکنان مرکزی قیادت کے آئندہ فیصلوں کے حوالے سے مکمل تیار ہیں ہر کارکن پرامن انداز میں جدو جہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں ارباب اختیار کو واضح کرتے ہیں کہ دینی مدارس کا تحفظ اور آئین کی بالادستی ہماری اولین ترجیحات ہیں اس مقصد کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے