آشیانہ اسپیشل چلڈرن سکول لالہ موسیٰ اسپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کرکے انھیں باوقار شہری بنانے میں اپنی بساط کے مطابق عظیم کردار ادا کر رہا ہے ۔ جس پر ادارہ کی بانی اور پرنسپل میڈم صوبیہ بٹ اور انکی ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے ۔

لالہ موسیٰ ( عبدالقیوم نجمی)آشیانہ اسپیشل چلڈرن سکول لالہ موسیٰ اسپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کرکے انھیں باوقار شہری بنانے میں اپنی بساط کے مطابق عظیم کردار ادا کر رہا ہے ۔ جس پر ادارہ کی بانی اور پرنسپل میڈم صوبیہ بٹ اور انکی ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ضلع گجرات محترمہ ثمن اعجاز نے آشیانہ اسپیشل چلڈرن سکول محلہ کریم پورہ لالہ موسیٰ میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اسپیشل بچوں کو تعلیم و تربیت دینے اور ان سے شفقت کا برتاو کرنے والے افراد یقیناََ اللہ کا خاص چنے ہوئے بندے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کایہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ اگر کسی کے گھر اسپیشل بچّے کی پیدایش ہوجائے، تو اُسے اپنے کسی کردہ، ناکردہ گناہ کی سزا سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ درحقیقت، قدرت اگر کسی کو کسی ایک حِس یا صلاحیت سے محروم کرتی ہے، تو اس کی دیگر حسّیات یا صلاحیتیں زیادہ فعال کردیتی ہے۔معاشرے کے اسپیشل افراد خاص کر بچوں کو مفید اور قابل شہری بنانے کے لئے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ بات صرف ان صلاحیتوں کو شناخت کرنے اور استعمال میں لانے کی ہے۔ ایسے بچّوں کی اگر مخفی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے، تو یہ عام بچّوں سے بھی زیادہ فعال ، ذہین اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ محترمہ ثمن اعجاز نے کہا کہ حکومت نے اسپیشل افراد کے لئے ہمت کارڈ کا اجراء کر دیا ہے جس پر انھیں گھر بیٹھے نقد رقم مل رہی ہے ۔ عوام اسپشل افراد اور بچوں کی رجسٹریشن کے لئے ان کی راہنمائی کریں اور ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفس ضلع گجرات تک ان کی رسائی یقینی بنائیں ۔ ان افراد کو بہتر راہنمائی اور توجہ دیکر ہم اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند بنا سکتے ہیں حکومت کے علاؤہ معاشرے کے مخیر اور صاحب ثروت افراد کو بھی اس مشن پر کام کرنے والے عظیم لوگوں کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور اپنی مالی اخلاقی سپورٹ سے ان کے حوصلے بلند کرنے چاہیں ۔۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آشیانہ اسپیشل چلڈرن سکول کی بانی و پرنسپل میڈم صوبیہ بٹ نے کہا کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے مگر اسپشل بچوں کی ماؤں کے قدموں تلے جنت الفردوس ہوتی ہے کیونکہ جتنی مشقت محنت اور تردد ان بچوں کی ماؤں کو کرنا پڑتا ہے بلاشبہ وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ معاشرے کے خصوصی افراد بالخصوص بچے ہمارا ملکی سرمایہ ہیں انھیں حقارت سے دیکھنے یا نظر انداز کرنے کی بجائے اللہ کی اس مخلوق سے محبت اور ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
سماعت اور گویائی سے محروم یہ بچّے، عام بچّوں کی طرح نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصّہ لے سکتے ہیں اور کام یابیاں بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان بچّوں کو مخصوص اشاروں کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے اور پھر یہ ان ہی اشاروں کی مدد سے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان بچّوں کی تعلیم کے لیے حکومتِ کے ساتھ ساتھ علاقہ کے صاحب ثروت افراد کو بھی این جی اوز اور اداروں سے تعاون کرنا چاہیے ۔ یہ بچّے ہماری توجہ اور محنت سے بہترین مصوّر اور خطاط بن سکتے ہیں، دیگر شعبوں میں بھی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں ۔تقریب میں بیگم چوہدری پرویز اقبال کائرہ ، میڈم انیقہ عبید اللہ بٹ ، پریس سیکرٹری امید ویلفیئر فاؤنڈیشن لالہ موسیٰ عبداللطیف نجمی ، کبیر بٹ ، سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ بچوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے ۔