انڈیا میں مقدس اور تاریخی مقامات نشانے پر

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com
انڈیا میں مقدس اورتاریخی مقامات نشانےپر
ایک شخص سینما میں فلم دیکھ رہا تھا کہ اس کوسکرین پر خطرناک درندے نظر آگئے،وہ درندوں کے ڈر سے باہر بھاگا۔چوکیدار نے وجہ پوچھی،وجہ معلوم ہونے پر چوکیدار نے کہا کہ وہ درندے حقیقی نہیں ہیں بلکہ صرف سکرین پرہی نظرآتے ہیں اور کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔اس فرد نے دوڑتے ہوئے چوکیدار کو جواب دیا کہ جانوروں کا کیا پتہ،وہ کسی وقت بھی سکرین سے باہرآکر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انڈیا میں اس لطیفے سے ملتی جلتی صورتحال نظرآرہی ہے۔مسجدوں اور مقدس مقامات/مزارات کےنیچے بھگوان کی مورتیوں کو نکالا جا رہا ہے۔ہندوؤں کے علاوہ ہر فرد اس خطرے سے دوچار ہو چکا ہے کہ کیا پتہ اس کی عبادت گاہ یا گھر سے کوئی بھگوان کی مورتی نکل نہ آئے۔یہ اور بات ہے کہ رات کے اندھیروں میں وہ مورتیاں بعض اوقات مساجد وغیرہ کےصحن میں دبا دی جاتی ہیں۔بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا اور بابری مسجد کو شہید کرنے کے دوران مسلمانوں کو شہید بھی کیا گیااور زخمی بھی کیا گیا۔سنبھل کی شاہی مسجد کو گرانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔سروے کے دوران ہنگامے پھوٹ پڑے تھے،جس میں مسلمانوں کی شہادتیں بھی ہوئیں۔اس کے علاوہ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ کو بھی گرانے کا منصوبہ بنا دیا گیا ہے۔حالانکہ ان مساجد اور مقدس مقامات کو تعمیر ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں،لیکن تعصب کی بنا پر ان مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سربراہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نےمودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر میں پارلیمنٹ کو کھودوں اور نیچے سے کچھ نکل آئے تو کیا وہ میرا ہو جائے گا؟اویسی صاحب نےمودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے آئین کاحوالہ دیاکہ آئین میں مذہبی مقدس مقامات کو تحفظ حاصل ہے۔انڈیا میں بسنے والی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یہ مظالم صرف مسلمانوں پر نہیں کیے جا رہے بلکہ دیگر اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔مسلمان اوران کے مقدس مقامات کی جان بوجھ کربےحرمتی کی جاتی ہے۔
حکومت تو ہے ہی انتہا پسند،لیکن عدالتیں بھی جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔عدالتوں میں داخل کی گئی درخواستوں کومنظور کرنا غیرآئینی اور غیر قانونی ہے،جس میں کسی مقدس مقام کوگرانے کی استدعاکی گئی ہو۔سروے کے نام پر ٹیمیں بھیج دی جاتی ہیں اور یوں مسئلہ بگڑنے کی طرف رخ کر لیتا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ پانچ پانچ یا آٹھ آٹھ صدیاں قبل تعمیر کیے گئے مقامات کوایک فضول قسم کا بہانہ بنا کر گرا دیا جاتا ہے۔اویسی صاحب نے جس طرح کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے نیچے اگر کچھ نکل آئےتووہ میرا ہو جائے گا؟یہ بھی ہو سکتا ہے کوئی شدت پسند پارلیمنٹ کےصحن میں مورتی دبا دے،تو کیا پارلیمنٹ کو مندر بنا دیا جائے گا؟ہندوستان میں جتنے مقدس مقامات ہیں یارہائشی عمارات ہیں،ان پر قبضہ کر لیا جائے گا کہ ان کے نیچے مورتیاں نکلی ہیں۔ہندوستان میں رہنے والا ہر غیر ہندو اس بات سے پریشان ہے کہ کب اس کےگھر پر قبضہ کر لیا جائےیا اس کو قتل کر دیا جائے یا اس کی عزت پامال کر دی جائے؟ان حالات میں مسلمانوں کا اتحاد ضروری ہے تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔انتہا پسند حکومت مسلمانوں کو خصوصی رگڑا لگا رہی ہے۔مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے کمزور پوزیشن پر ہیں اور کچھ ان میں نا اتفاقی بھی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سےان کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔بابری مسجد کی شہادت ایک بہت بڑی زیادتی تھی بلکہ اس کوتاریخی زیادتی کہنا درست ہے۔اس جگہ پر مندر بنا دیا گیا ہے،جس کی وجہ سےاربوں مسلمانوں کو شدیددلی تکلیف پہنچی۔اب دوسری مساجد کو شہید کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
تاج محل بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل تاج محل کوبھی مندر کا مقام دلانے کی کوشش کی گئی۔اس وقت بات ٹل گئی تھی،لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی وقت بھی کوئی شوشہ چھوڑا جا سکتا ہے۔تاج محل ایک بین الاقوامی اور تاریخی ورثہ ہے،شاید اس لیے بچ جائے۔ایک اور وجہ بھی ہے کہ تاج محل دنیا بھر میں مشہور ہے،اس کو دیکھنے کے لیے بہت سےسیاح آتے ہیں اور کمائی کا ذریعہ بنتے ہیں،ممکن ہے کہ اس وجہ سے وہ بچ جائے۔بابری مسجد کی بھی اپنی تاریخی حیثیت تھی،لیکن اس کو شہید کر کےیہ پیغام دیا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں کوئی چیز محفوظ نہیں۔سیکولرریاست ہونے کی دعوے دار حکومت کو اس بات کی فکر نہیں کہ وہ ایک فرقے کی حمایت کر رہی ہے۔مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ اور دیگرممالک کی خاموشی کئی قسم کے سوالیہ نشانات کو جنم دے رہی ہے۔بین الاقوامی دباؤ انڈیا کو مجبور کر سکتا ہے کہ مقدس مقامات کو گرانے سےرک جائے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ مسلمان ٹھیک ٹھاک جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ابھی تک اسلام پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ان کی مضبوطی سے بہت سے مقامات ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔کاروباری رکاوٹوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں اور سرکاری و غیر سرکاری ملازمتیں بھی ان کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔اسلامی ممالک اور دیگر ممالک فوری طور پر آواز اٹھائیں،تاکہ کوئی بھی مقدس مقام ہو،اس مقام کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو،اس کو بچایا جائے۔تاریخی ورثے کی بھی حفاظت ضروری ہے۔ہندوستان میں صرف مقامات کو بچانا ضروری نہیں بلکہ انسانوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔انڈیا میں انسانی حقوق کی پامالی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اس کورکناچاہیے۔