لالہ موسیٰ برائٹ سٹارز گرلز کالج کھاریاں کیمپس میں تین روزہ سپورٹس گالا اختتام پذیر ہوا۔جس میں بچوں نے انتہائی جوش و جذبہ سے حصہ لیا۔سپورٹس گالا میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ تقریب کے مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ کوآرڈینیٹر آل پاکستان سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات تھے

لالہ موسیٰ برائٹ سٹارز گرلز کالج کھاریاں کیمپس میں تین روزہ سپورٹس گالا اختتام پذیر ہوا۔جس میں بچوں نے انتہائی جوش و جذبہ سے حصہ لیا۔سپورٹس گالا میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ تقریب کے مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ کوآرڈینیٹر آل پاکستان سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات تھے آخر میں کالج اسٹاف کی طرف سے سپورٹس گالا میں بہترین کارکردگی اور جیتنے والے طلباء اور طالبات کو ٹرافیاں اور میڈلز دیے گئے۔فیصل جنجوعہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کود جسمانی نشوونما کے لئے بے حد ضروری ہیں۔بچپن میں فطری طور پر بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں، جس سے اُن کے اعضائے جسمانی کی ورزش ہوتی رہتی ہے، جو اُن کی بہتر نشوونما کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ کھیل جہاں بچوں کی بہتر نشوونما میں معاون ہوتی ہے وہیں طلباء کی کردار سازی اور نفسیاتی تربیت میں بھی مدد ملتی ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی مختلف قسم کے کھیل اور صحت مندانہ سرگرمیاں سکولز اور کالجز میں کروائی جاتی رہی ہیں تاکہ بچوں کو صحت مند بنا کر مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ صحت مند بچے ہی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے سکولز اور کالجز میں جسمانی تعلیم اور کھیلوں پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر برائٹ سٹار کالج ڈاکٹر فیصل جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ہاں اکثر اساتذہ حتی ٰ کہ والدین بھی یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ بچہ پڑھائی میں تیز نہیں ہے۔ایسے اساتذہ اور والدین کے لیے ایک مثل ہے کہ ”تیز ہوتے ہیں بچے کھیل سے،، کوئی بھی طالب علم چاہے وہ کسی بھی جماعت میں ہو جب تک جسمانی طور پر فٹ نہیں ہوگا اس وقت تک وہ بہتر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ جسم کو فٹ رکھنے کے لیے ورزش بے حد ضروری ہے اور جسمانی ورزش کا تعلق بالواسطہ یابلا واسطہ کھیلوں سے ہی ہوتا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے یہ قول مشہور ہے کہ”جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں تو ان کے اسپتال ویران ہوں گے اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں تو ان کے ہسپتال آباد ہوں گے












