عالمی یومِ مزدور

تحریر۔فیصل جنجوعہ

ہر سال یکم مئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محنت کشوں کے حقوق، ان کی جہدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن اپنے اندر شکاگو کے درد ناک سانحہ کی المناک تاریخ رکھتا ہے۔ انسانیت کی بے کسی اور بے بسی کے بے شمار دلخراش واقعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور مجبور و لاچا رمحنت کشوں پر ظلم و بربریت کے خون آشام واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ معاشی لحاظ سے پسماندہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف مزدور طبقات سے اظہار یکجہتی کا دن ہے۔
جب مزدوروں سے وقت کی پابندی کے بغیر جانوروں کی طرح کام لیاجائے۔ تنخواہ اور اجرت برائے نام دی جائے۔ زخمی ہونے والے مزدور کے علاج کے لئے بھی مل یا فیکٹری کی طرف سے سہولت کا کوئی قانون نہ ہو۔ دوران ڈیوٹی اگر کوئی انتقال کرجائے تو اس کا ذمہ دار بھی خود مزدور ہو۔ چھٹی کا کوئی تصور نہ ہو۔ مزدور کی ملازمت کا فیصلہ بھی مالک کے رحم و کرم پر ہو تو ایسے میں کب تک کوئی برداشت کرے گا۔ ظلم جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تورد عمل کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو کر رہتا ہے۔
ایسے ہی ظالمانہ رویہ او ر جبری مشقت کے خلاف فیڈریشن آف ٹریڈ یونین امریکہ کی اپیل پر مزدوروں کے لئے آٹھ گھنٹے کے قانونی اوقات کار کا مطالبہ کیا گیا اور اسے تمام تر قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے پر یکم مئی 1886 ء کو ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبہ نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اس نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ یہ آواز کوئی روائتی آواز نہ تھی بلکہ یہ 1200 فیکٹریوں کے تین لاکھ سے زیادہ مزدوروں کی آواز تھی۔ جس نے پوری سامراجی قوتوں اور سرمایہ داروں کو ہلا کر رکھا دیا۔ اس دن شکاگو کی کسی ایک بھی فیکٹری کی چمنی سے دھواں اٹھتا دکھائی نہ دیا۔ ہڑتال کو روکنے کے لئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یکم اور د ومئی کی ہڑتال پرامن اور بہت کامیاب رہی۔ تیسرے دن ایک فیکٹری میں پر امن اور نہتے مزدوروں پر پولیس نے فائرنگ کردی۔ جس سے چار مزدور ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے۔
اس بربریت اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف تحریک کے راہنماؤں نے اگلے روز چار مئی کو ایک بڑے احتجاجی جلسے کا اعلان کیا اور اس روز ہے مارکیٹ چوک میں لاکھوں مزدور جمع ہوگئے۔ پر امن جلسہ سے مزدور راہنما ہلاکت خیز واقعہ کی مذمت اور آٹھ گھنٹے کے قانونی اوقات کار کے مطالبے کی حمایت میں خطاب کررہے تھے۔ جلسہ پر امن جاری تھا کہ آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کردی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ پولیس نے الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیاگیا۔ جس کی وجہ سے ایک اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ جب محنت کشوں پر فائرنگ ہورہی تھی تو ایک محنت کش نے امن کا نشان ایک سفید جھنڈا جو زخمی مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگیا تھا لہرا دیا جو بعد میں پوری دنیا میں مزدور تحریک کا نشان بن کر لہرانے لگا۔
اس حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور مزدور راہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ ایک جعلی مقدمے میں آٹھ مزدور راہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی۔ جس میں البرٹ پارسن، آگسٹ سپائز، ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11نومبر1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔لوئیس لنگ نے جیل میں خوش کشی کرلی اور باقی تینوں کو 1893 ء میں معافی دے کر رہا کردیا گیا۔
مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدو جہد کے متعلق شعور میں بے پناہ اضافہ کیا۔ 1889ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر 1890ء میں یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر منانے کا اعلان کیاگیا۔ اس کے بعد یہ دن عالمی طور پر منایاجانے لگا۔
یکم مئی 1972ء کو پاکستان کی حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر یکم مئی کومحنت کشوں کا دن قرار دے کر عام تعطیل کا اعلان کیا۔ اس روز پاکستان کے تمام محنت کش دنیا بھر کے محنت کشوں کے ساتھ شکاگو کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جلسے جلوس، ریلیاں اور سیمنیار منعقد کرکے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ جب تک دنیا سے استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔
اس روز ملک کی بھاگ دوڑپر قابض اشرافیہ جو سال بھر مزدور دشمن پالیسیوں پر گامزن رہتی ہے۔ اس دن غریبوں اور مزدوروں سے ہمدردی کا دم بھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے حقوق کے حصول کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے انہیں بہتر مستقبل کے سہانے خواب دکھاتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کیاجاتا ہے کہ مزدوروں کو درپیش مشکلات کو کم کرکے ان کے حقوق کی ادائیگی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیاجائے گا اور جونہی سورج غروب ہوتا ہے اور رات کی تاریک سیاہی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو مزدوروں کا مقد ر سنوارنے کے دعوے اور نعرے انہی تاریکیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔
پاکستان میں آج بھی مزدور انتہائی نامساد حالات کا شکار ہیں اور دن بدن مزدوروں کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے کام کی جگہ پر حفاظتی آلات ناقص یا نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں کارکن موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور کچھ زندگی بھر کے لئے معذور ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق استحصالی طبقے کے ہاتھوں پامال ہورہے ہیں۔ وطن عزیز کے پسماندہ علاقوں میں محنت کش نہ صرف غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ سرمایہ داروں کے ہاتھوں آئے روز ان کی عزت نفس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ کمر توڑ مہنگائی، کم اجرت، ضروریات زندگی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال نے محنت کشوں کے لئے زندگی گزارنا دشوار کردیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے حکومتی خزانے میں پیسے نہیں ہوتے لیکن ارکان اسمبلی اور وزراء کی فوج ظفر موج اپنی تنخواہوں میں من چاہا اضافہ کرلیتے ہیں۔ اشرافیہ کی بے حسی اور مہنگائی کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔ دہشت گردی اور امن و امان کی ناقص صورتحال نے زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ اپنے ہی ملک میں رزق کی تلاش میں دوسرے صوبے میں جانے والوں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کرکے شہید کردیا جاتا ہے۔
محنت کشوں سے تیزی کے ساتھ تمام تر حقوق چھینے جارہے ہیں۔ ان کے لئے تو ایک وقت کی روٹی کا انتظام کرپانا بھی ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ مہنگائی، بے روز گاری، قابل علاج بیماریوں سے موت میں اضافہ، ظلم و جبر اور استحصال میں اضافہ ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ پچھلے کئی سالوں کی مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹتے جارہے ہیں اس تمام معاشی بحران کا بوجھ حکمران طبقہ محنت کشوں کے کندھوں پر ڈال رہا ہے۔ محنت کشوں کی جبری برطرفیوں، ڈاؤن سائزنگ اور نجکاری کے حملوں میں تیزی آرہی ہے واضح رہے کہ ملکی معیشت کو چلانے والے یہی محنت کش ہاتھ ہیں جس دن یہ ہاتھ رک گئے تو سارا نظا م رک جائے گا پھر نہ جہاز اڑیں گے،نہ ہی بحری بیٹرے چلیں گے، نہ بلب جلے گا،نہ کپڑا بنے گا،نہ ریل چلے گی،نہ سڑکوں کی صفائی ہوگی۔
یوم مزدور کے موقع پر حکومت اور سرکردہ شخصیات کی طرف سے محض جذباتی تقاریر اور ہمدردی کے چار بول مزدوروں کی وقتی تسلی و تسکین کا باعث تو ہوسکتے ہیں لیکن ان کی مشکلات کا مستقل حل نہیں۔ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان تبھی ممکن ہے جب اس کے محنت کشوں کو ان کے جائز حقوق دے کر ان کا معیار زندگی بہتر بنایاجائے۔موثر قانون سازی اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل کروایاجائے۔ سرمایہ اور محنت کے درمیان فرق کو ختم کیاجائے۔ جب تک وطن عزیز کا مزدور خوشحال نہیں ہوگا تب تک یہاں ترقی اور خوشحالی ایک خواب ہی رہے گا۔