سیاست میں صبر و تحمل کی ضرورت

تحریر:۔ سید الیاس حیدر کاظمی

سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں فیصلے قوموں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ یہاں جذبات سے زیادہ تدبر، اور غصے سے زیادہ حکمت درکار ہوتی ہے۔ مگر افسوس، آج کی سیاست میں صبر و تحمل کی جگہ طعن و تشنیع، الزامات اور نفرت نے لے لی ہے۔ وہ سیاست جو کبھی خدمت، بردباری اور دلیل کا نام تھی، اب محض اقتدار کی کشمکش اور ذاتی مفادات کا میدان بن چکی ہے۔

صبر و تحمل کسی بھی سیاستدان کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن رہنماؤں نے تحمل، بردباری اور دانشمندی کا دامن تھامے رکھا، وہی دلوں پر حکمرانی کر سکے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ شدید مخالفت، بدترین حالات اور بے شمار رکاوٹوں کے باوجود اُنہوں نے نہ کبھی شائستگی کا دامن چھوڑا، نہ اپنے مخالفین کو گالی دی۔ اُن کی گفتگو دلیل سے مزین اور لہجہ وقار سے بھرپور ہوتا تھا۔

آج کے سیاسی ماحول میں ہمیں پھر سے اُسی صبر و تحمل کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ ایک جمہوری نظام میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر اسے دشمنی میں بدل دینا جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نوجوان نسل کو کیسا سیاسی کلچر سکھا رہے ہیں؟ اگر سیاست نفرت، انتشار اور انتقام کا نام بن جائے تو پھر قوموں کی ترقی رک جاتی ہے۔

میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے، وہ صرف مخالفین کو نہیں، پورے معاشرے کو متاثر کر رہی ہے۔ سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ قوم کے رہنما ہیں، اور اُن کا ہر عمل آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنتا ہے۔ اگر وہ صبر کا دامن تھامیں گے، تحمل سے اختلاف کو سنیں گے، اور دلیل سے جواب دیں گے، تو سیاست ایک بار پھر عزت کا پیشہ بنے گی۔

آخر میں، سیاست کو عبادت سمجھنے والے وہی ہوتے ہیں جو صبر کو زینت، اور تحمل کو طاقت سمجھتے ہیں۔ ہمیں ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کو جوڑنے والی ہو، نہ کہ بانٹنے والی۔