دکھ اورخودکشی
تحریر:اللہ نوازخان
دکھ تکلیف دہ ہوتے ہیں،لیکن بعض دکھ بہت ہی اذیت ناک ہوتے ہیں۔اذیت ناک دکھ دل کو چھلنی کر دیتے ہیں۔کوئی انسان ایسا نہیں،جس نے دکھ اورتکالیف نہ اٹھائی ہوں۔دکھوں کی اذیت جب زیادہ بڑھتی ہے تو انسان زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے اور یہ بیزاری اس کو خودکشی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔زندگی ایک انمول نعمت ہےاور انسان زندہ رہنا چاہتا ہے۔زندگی کی محبت اتنی ہوتی ہے کہ زندگی کی خاطر ہر چیز داؤ پر لگائی جا سکتی ہے۔قیمتی اور انمول نعمت سے بیزاری بتاتی ہے کہ دکھ ناقابل برداشت ہیں۔انسان جب اپنی جان لیتا ہےتو یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ایسے فیصلےآسانی سے نہیں کیے جاتے بلکہ کئی اذیت ناک مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ جان لینے کا فیصلہ فوری کر لیا جاتا ہے۔سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جائے یا فوری طور پر بے سوچے سمجھے جان لینے کا فیصلہ کیا جائے،اس سے قبل کم از کم چند لمحات سوچنا چاہیے۔خود کشی انسان کیوں کرتا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہےجو صدیوں سے جواب طلب چلا آرہا ہے۔بعض اوقات سمجھ لیاجاتا ہے کہ غربت کی وجہ سےانسان اپنی جان سے بیزار ہو جاتا ہے،لیکن حقائق کچھ اوربھی ہوتے ہیں۔کئی ماہ قبل جہانگیر ترین کے بھائی نے خود کشی کر لی تھی،حالانکہ وہ خاصے دولت مند تھے۔وہ اپنی عمر عزیز کے تقریبا 60 سال سے زیادہ عرصہ گزار چکے تھے،اس لیے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ لڑکپن یا نادانی کا کوئی فیصلہ تھا۔کوئی ایسا دکھ تھا جس کی وجہ سے اس کو موت کو گلے سے لگانا پڑا۔کچھ دن قبل ایک حاضر سروس ڈی ایس پی نے بھی گن سے خود کشی کر لی۔ڈی ایس پی ایک دنیاوی لحاظ سے بڑا عہدہ ہےاوراس عہدےپرفائزشخص کے پاس بہت سے اختیارات ہوتے ہیں اور دولت بھی کم نہیں ہوتی،لیکن اس نے خود کشی کر لی۔کوئی ایسا دکھ تھا جو اس کو خودکشی کرنی پڑی کیونکہ وہ دکھ اس کی برداشت سے باہر تھا۔خود کشی کس فیصلہ کرنا کوئی آسان نہیں ہوتا،لیکن بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان خود کشی جیسا حرام فعل سرانجام دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔خود کشی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ بزدلانہ فیصلہ ہوتا ہےاوربزدلانہ فیصلےبہتر نہیں ہوتے۔خودکشی کرنے سے قبل یہ سوچا جائے کہ میری موت میرے دشمنوں کے لیے کتنی خوشی کا سبب ہوگی اور دشمن خوشیاں منائیں گے۔یہ خیال انسان کو موت سے بچا سکتا ہے۔خودکشی اسلام میں بھی حرام ہے اور اخلاقی لحاظ سے بھی ایک غلط حرکت ہے۔ویسے اپنی جان لینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا،خود کشی کرنے سے قبل انسان ہر لمحہ مرتا رہتا ہے۔اذیت ناک دکھ اس کو سونے نہیں دیتےاور نہ اس کو آرام آتا ہے۔کوئی انسان ایسا نہیں جس کو دکھ نہ ملا ہو۔بعض اوقات کسی دوسرے کا کیاگیا ظلم بھی انسان کو خودکشی پر مجبور کر دیتا ہے۔ظلم کرنے والا سوچے کہ آج اگر میں اس پر ظلم کر رہا ہوں تو کل مجھ پر بھی ظلم ہو سکتا ہے۔مظلوم یہ سوچ لے کہ مجھ پر ظلم ہو رہا ہے تو اس کا اجر اللہ تعالی مجھے عطا کر دے گا۔ظلم سے بچنے کے لیے اللہ تعالی سے دعا کی جائے۔خودکشی نہیں کرنی چاہیے،لیکن بعض اوقات انسان مجبور ہو جاتا ہے۔اگر آپ کو کوئی ایسا فرد نظرآجائے جو ایسی باتیں کر رہا ہو،جس سے یہ علم ہو جائے کہ یہ پریشان ہو کر خودکشی کرنے والا ہے،تو اس کی ہر حال میں داد رسی کر کے اس کو حوصلہ دیا جائے تاکہ وہ خود کشی سے بازآجائے۔ دکھ تو زندگی کا ایک حصہ ہیں اور ان سے بچا نہیں جا سکتا،خودکشی کو دکھوں کا علاج نہ سمجھا جائے۔انسان کی عزت نفس بھی بعض اوقات تار تار ہو جاتی ہے،بعض اوقات معمولی سی بات کو بھی اتنا سمجھ لیاجاتا ہے کہ انسان خودکشی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔بہرحال بعض دکھ بہت ہی اذیت ناک ہوتے ہیں،اتنے اذیت ناک کہ انسان خودکشی کر لیتا ہے۔اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خودکشی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔خود کشی کرنے والے کے اہل خانہ اور یار احباب ساری عمر تڑپتے رہتے ہیں،لہذا پیاروں کی تڑپتی حالت کا خیال کر کے خود کشی نہ کی جائے۔










