ارشد ندیم: 50 سال بعد پاکستان کیلئے ایشین ایتھلیٹکس کا سنہری لمحہ
تحریر۔۔محمد زاہد مجید انور
پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب اس وقت رقم ہوا جب معروف جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025 میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ یہ کارنامہ اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان نے اس چیمپئن شپ میں گزشتہ پچاس برسوں میں پہلی مرتبہ گولڈ میڈل اپنے نام کیا ہے۔ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو میں 75.64 میٹر کا فاصلہ عبور کیا، جب کہ دوسری کوشش میں 76.80 میٹر کی تھرو کی۔ تاہم، اصل کارکردگی ان کی تیسری کوشش میں سامنے آئی جب انہوں نے 85.57 میٹر کی شاندار تھرو پھینکی، جو نہ صرف دن کی بہترین تھرو ثابت ہوئی بلکہ انہیں براہِ راست گولڈ میڈل کی دوڑ میں سب سے آگے لے آئی۔ چوتھی کوشش میں بھی انہوں نے 83.99 میٹر کی تھرو کی، جو ان کے تسلسل اور مہارت کا واضح ثبوت تھی۔ چار راؤنڈز کے اختتام پر ارشد ندیم اس ایونٹ کے چارٹ پر پہلے نمبر پر رہے اور بالآخر ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فاتح قرار پائے۔یہ کارنامہ صرف ایک گولڈ میڈل کی جیت نہیں، بلکہ پاکستان کیلئے ایک طویل انتظار کا اختتام ہے۔ آخری مرتبہ پاکستان نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 1973 میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جب فلپائن میں ہونے والے مقابلوں میں جیولن تھرو میں اللہ داد اور 800 میٹر کی دوڑ میں محمد یونس نے پاکستان کو یہ اعزاز دلایا تھا۔ اس کے بعد نصف صدی تک یہ میدان پاکستان کے لیے خاموش رہا، یہاں تک کہ ارشد ندیم نے اپنے بازوؤں کی طاقت اور غیر متزلزل عزم سے اس خاموشی کو توڑ دیا۔ارشد ندیم کی یہ کامیابی نہ صرف انفرادی طور پر ان کی انتھک محنت، عزم اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ یہ پاکستانی ایتھلیٹکس کے لئے ایک نئی امید کی کرن بھی ہے۔ ان کی حالیہ فتوحات، جن میں پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل بھی شامل ہے، اس بات کی دلیل ہیں کہ اگر مواقع، سہولیات اور قومی سپورٹ فراہم کی جائے تو پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، اسپورٹس بورڈز اور نجی ادارے ارشد ندیم جیسے ہیروز کی حوصلہ افزائی کریں، اور آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط اسپورٹس انفراسٹرکچر مہیا کریں۔ارشد ندیم کا نام اب صرف ایک کھلاڑی کا نام نہیں، بلکہ وہ قوم کے لیے ایک تحریک، ایک خواب اور ایک زندہ مثال ہے کہ مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ کچھ بھی ممکن ہے۔













