مظہرِ محبت ، مظہر
ساہی

تحریر: سلمان احمد قریشی

اوکاڑہ کی دھرتی ہمیشہ سے علم، ادب، سیاست اور کھیل کے میدان میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات کو جنم دیتی آئی ہے جنہوں نے اپنی قابلیت، خدمات اور اعلیٰ کردار سے نہ صرف اپنے شہر بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کیا۔ انہی قابلِ فخر ہستیوں میں ایک نمایاں اور دل نواز نام مظہر ساہی کا ہے۔ایک سابق اولمپئن، ایک شائستہ، نفیس اور مہذب سیاسی و سماجی رہنما، اور خلوص و محبت کا عملی پیکر۔
مظہر ساہی محض ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک طرزِ احساس، ایک اندازِ فکر اور ایک مثبت رویّے کی علامت ہیں۔ وہ ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی موجودگی کسی محفل کو وقار بخشتی ہے، جن کے الفاظ میں تاثیر، لہجے میں نرمی، مسکراہٹ میں خلوص، اور ہاتھوں میں خدمتِ خلق کی روایت سانس لیتی ہے۔ وہ بلاشبہ مظہر ہیں انسان دوستی، رواداری، بھائی چارے اور محبت کے۔
ان کا تعلق کھیل کے اس عظیم قافلے سے ہے جس نے پاکستان کے لیے اولمپکس جیسے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی، قومی پرچم کو بلند کیا، اور قوم کا سر فخر سے اونچا کیا۔ اولمپئن بننا ایک اعزاز ہی نہیں، ایک کٹھن سفر کا حاصل ہوتا ہے۔ایسا سفر جو عزم، استقلال، قربانی، مسلسل محنت اور بے غرض جذبے کا متقاضی ہوتا ہے۔ مظہر ساہی نے اپنی جوانی کے سنہرے سال کھیل کے میدانوں میں وطن عزیز کے لیے وقف کیے، اور جب عوامی خدمت کے میدان میں قدم رکھا تو اسی سچائی، اخلاص اور جذبۂ ایثار کو اپنا زادِ راہ بنایا۔
اوکاڑہ کے لوگ جانتے ہیں کہ مظہر ساہی نہ صرف عوام کے درمیان رہتے ہیں بلکہ ان کے دلوں میں بستے ہیں۔ ان کی گفتگو میں دکھاوا نہیں، ان کی دوستی میں بناوٹ نہیں، اور ان کی خدمت میں کسی ذاتی مفاد کی آمیزش نہیں ہوتی۔ وہ چاہے کسی چھوٹے کسان سے بات کر رہے ہوں یا کسی اعلیٰ افسر سے ملاقات کر رہے ہوں، ان کا انداز ہمیشہ مشفق، دوستانہ اور احترام سے لبریز ہوتا ہے۔
سیاسی میدان میں مظہر ساہی نے ہمیشہ کردار اور اصولوں کی سرحدوں کا پاس رکھا۔ وہ اس سیاست کے نمائندہ ہیں جو نفرت، انتشار، اور الزام تراشی کی بجائے اصلاح، ترقی، رواداری اور قومی یکجہتی پر یقین رکھتی ہے۔ وہ کبھی بلند و بانگ دعووں کے قائل نہیں رہے بلکہ خاموشی سے کام کرنے، اور عمل سے بولنے کے قائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اوکاڑہ کے باسی ان سے محبت کرتے ہیں، ان پر اعتماد کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ جڑے رہنا اپنا فخر سمجھتے ہیں۔
وہ سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، نہ کہ نمود و نمائش یا ذاتی تشہیر کا راستہ۔ امریکہ میں ہیلری کلنٹن کے ہمراہ نظر آنا ایک تصویر ضرور ہے، لیکن اس تصویر کے پیچھے سیاست کے اصل مفہوم کو سمجھنے والی بصیرت کارفرما ہے۔ وہ اجارہ داری، برادری ازم، اور روایتی سیاست سے بلند ہو کر ایک ایسی سیاست کے داعی ہیں جو خالصتاً خدمت، شفافیت اور عام انسان کی فلاح پر مبنی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مظہر ساہی روایتی سیاست کے کھلاڑی نہیں بلکہ ایک نئی سوچ، ایک منفرد مثال اور ایک اخلاقی معیار کا نام ہیں۔
ان کی شخصیت میں ایک عجیب کشش ہے۔ایسی کشش جو نہ صرف ان کی گفتگو، بلکہ ان کے کردار، اخلاص اور عاجزی سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی خدمات کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے، نہ ہی سوشل میڈیا پر تصویری تشہیر کے شوقین ہیں۔ ان کے نزدیک اصل قیادت وہی ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، دکھ بانٹتی ہے، اور معاشرتی ہم آہنگی کی فضا کو مضبوط بناتی ہے۔زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیسے کیا جائے مظہر سائی نے ایک کتاب بھی تحریر کی۔ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے، خدا پر یقین اور حوصلہ سے بیماری سے بھی لڑا جاسکتا ہے جب یقین کامل ہو کہ شفاء من جانب اللہ ہے پھر زندگی ایک دن بھی کم نہیں ہوسکتی۔
اوکاڑہ میں ان کی رہائش گاہ کا قدیمی دروازہ، جو اب ان کی غیر موجودگی میں بھی ماضی کی جھلک دکھاتا ہے، ان کی تہذیبی وابستگی اور مہمان نوازی کی روایت کا مظہر ہے۔ وہ گھر ہمیشہ عام و خاص کے لیے یکساں کھلا رہا۔ وہاں نہ کوئی گیٹ پر رکا، نہ کوئی وقت کا پابند ٹھہرا، اور نہ ہی کسی کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچی۔ وہ گھر نہ صرف اینٹوں کا مجموعہ بلکہ محبت، اپنائیت اور انسان دوستی کا استعارہ تھا۔ اب مظہر ساہی وہاں مستقل مقیم نہیں، مگر وہ دروازہ آج بھی ان کی شفاف شخصیت کی گواہی دیتا ہے۔
مظہر ساہی کی زندگی ایک سبق ہے۔ایسا سبق جو سکھاتا ہے کہ کامیابی کی بلند ترین چوٹیوں کو چھونے کے بعد بھی انسان عاجز، منکسر المزاج اور محبت کرنے والا رہ سکتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل قیادت وہی ہے جو اقتدار سے نہیں، کردار سے پہچانی جائےجو وعدوں سے نہیں، عمل سے دل جیتے اور جو عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظہر ساہی کو صحت و عافیت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، اور انہیں اسی طرح اپنے شہر، اپنے لوگوں اور اپنی قوم کے لیے محبت، رواداری اور خدمت کا نشان بنائے رکھے۔ آمین۔