🌟 اعجاز کی روشنی

ڈاکٹر اعجاز علی چشتی: ایک ہمہ گیر شخصیت کا تعارف
✍️ تحریر: حافظ محمد عبدالسلام اجمل (اسلامک اسکالر)

✨ علم، اخلاص، قیادت اور خدمت کا وہ روشن نام، جو جھنگ کی زرخیز مٹی سے اُبھرا، اور فکری روشنی، روحانی حرارت اور عملی خدمت کی کرنیں بانٹتا چلا گیا۔ وہ چراغ جو علم بھی بانٹتا ہے، امید بھی جگاتا ہے۔

📚 علمی سفر اور فکری تربیت

آپ نے اسلامیات، ایجوکیشن، اور ماس کمیونیکیشن (ابلاغیات) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی نے آپ کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا، اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
اسی دوران پروفیسر بشیر احمد ناز (ڈائریکٹر، دی پنجاب کالج) اور معروف بایو کیمسٹ رائے شہزاد عبداللہ جیسے نابغہ روزگار افراد کی صحبت نے آپ کی سوچ میں وقار، انداز میں متانت، اور مزاج میں توازن پیدا کیا۔
🎓 طالب علمی کے ایّام ہی سے قیادت کے جوہر نمایاں تھے، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم پر مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے طلبہ میں شعور، تنظیم اور کردار سازی کے نقوش چھوڑے۔

👨‍👩‍👦‍👦 خاندانی پس منظر اور روحانی نسبت

آپ میاں محمد نواز چشتی کے صاحبزادے ہیں، جو ایک معروف سماجی شخصیت اور خاندان کے بزرگ ہیں۔
خانداناً آپ کا تعلق عظیم روحانی سلسلہ چشتیہ سے ہے، جو حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کے فیوض و برکات کا حامل ہے۔
آپ کے قریبی بزرگ محمد نواز ایمنؒ معروف صوفی شاعر اور مصنف تھے، جنہوں نے آپ کو شاعری سے کالم نگاری کی طرف مائل کیا اور فکر و عرفان کے چراغ روشن کیے۔ 🕯️

📖 آپ کے خانوادے کو جھنگ کے استاد شعرا، میاں ولی محمد اور میاں محمد شفیع جیسے شعرا کی نسبت حاصل ہے۔
اسی سلسلہ کے دو اور درخشندہ نام — فخر عباس تابش (نعت گو شاعر) اور ڈاکٹر محمد امین سیالوی (خطیب و ماہرِ اقبالیات) — آپ کی علمی وراثت کا تسلسل ہیں۔

🩺 طب، تربیت اور تدریس

آپ ایک تربیت یافتہ ہومیوپیتھک فزیشن ہیں، جنہوں نے طب کو خدمتِ خلق کا وسیلہ بنایا۔
اساتذہ کی تربیت، کردار سازی، اور فکری رہنمائی کے میدان میں آپ کی خدمات کا اعتراف مختلف اداروں نے شیلڈز اور اسناد کی صورت میں کیا۔ 🏆

🎙️ ابلاغ کا روشن سفر

ذرائع ابلاغ، خصوصاً ریڈیو جرنلزم میں آپ نے ایک توانا آواز کے طور پر عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔
آپ کا رابطہ حافظ محمد نور اللہ (ریڈیو پاکستان)، اسامہ خالد (ایف ایم 105)، سید عدنان نور (بول نیوز) اور بی بی سی اردو سروس کے فیضان یوسف جیسے معروف ناموں سے رہا، جن سے آپ کے صحافتی ذوق اور فہم کو جِلا ملی۔ 🎧🗞️

🌱 سماجی خدمات اور ادارہ سازی

آپ نے نوجوانوں اور معاشرتی اصلاح کے لیے “پیغام سوسائٹی تحصیل احمد پور سیال” کی بنیاد رکھی، جس کا پیغام ہے:
🌟 “اچھے بنو، اچھائی پھیلاؤ”

اسی طرح اصلاحی، فکری اور روحانی رہنمائی کے لیے “پیغامِ زندگی” کا آغاز کیا، جس کا دل کو چھو لینے والا سلوگن ہے:
🌈 “خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں”

💬 کریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں خدمات کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا پرانا تعلق ہے۔
وہ میرے ہمراہ رہے، اور اکثر کہا کرتے ہیں:

> “سر! آپ کی زیرِ نگرانی کردار سازی کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا۔”
کریکٹر ایجوکیشن کے پلیٹ فارم سے میرے لیے ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ کسی اعزاز سے کم نہیں۔

📝 ادبی و فکری پہچان

آپ کے کالمز “فکرِ اعجاز” کے عنوان سے اصلاحی، علمی اور فکری حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
یہ کالمز نہ صرف قاری کے دل کو چھوتے ہیں بلکہ معاشرتی، علاقائی اور ملکی مسائل کو بھی نرمی، حکمت اور بصیرت کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے تربیتی کہانیوں میں عبداللہ، جمیلہ، منو، گڈو، لیلی، جگنو جیسے کردار شامل ہوتے ہیں، جو سبق آموزی اور دلچسپی کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔ 📚👧🧒

🏛️ سیاسی و فلاحی سرگرمیاں

آپ جماعت اسلامی کے ضلعی مجلسِ شوریٰ کے سب سے کم عمر رکن بنے، اور انتخابی نشان ترازو پر صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی رہے۔
اس وقت آپ صوبائی حلقہ کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

📰 روزنامہ “مرکزی رپورٹ” لاہور میں محمد طاہر انجم نے آپ کو سب ایڈیٹر منتخب کیا، جس سے پرنٹ میڈیا سے گہرا رشتہ قائم ہوا۔

🌊 سیلاب جیسے نازک مواقع پر آپ نے الخدمت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے فلاحی میدان میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

📢 شورکوٹ کو ضلع اور جھنگ کو ڈویژن بنانے کے لیے آپ نے مسلسل آواز بلند کی، سیمینارز منعقد کیے، اور ایک مربوط عوامی بیانیہ تشکیل دیا۔

⚖️ ہیومن رائٹس پروٹیکشن کمیشن میں ضلعی ممبر کی حیثیت سے آپ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

📺 ڈیجیٹل میڈیا پر شعور و آگہی کے فروغ کے لیے آپ نے “پیغام سیون نیوز” ایچ ڈی کی بنیاد رکھی، جس کا سلوگن ہے:
📰 “علم، معلومات اور خبر کا حسین امتزاج”

🕊️ آپ نہ صرف معلم، رہبر اور قلمکار ہیں، بلکہ سچائی، اخلاص، محبت اور علم کا عملی استعارہ بھی ہیں۔
💖 آپ وہ چراغ ہیں جو روشنی بانٹتے ہیں، اور دلوں میں امید جگاتے ہیں۔

💡 نظم: چراغِ فلاح

(ڈاکٹر اعجاز علی چشتی کی خدمات کو خراجِ تحسین)
✍️ شاعر: بدر آزاد چشتی

> چمکتا ہے علم و عمل کا ستارہ
جو جھنگ کی مٹی سے اٹھا ہے پیارا

اعجاز چشتی، صداقت کا پیکر
جہاں علم، خدمت، ہو جذبوں کا دفتر

قلم اس کا “پیغامِ زندگی” لایا
اندھیروں میں اُمید کا دیا جلایا

کبھی “فکرِ اعجاز” میں خواب بنتا
کبھی زخمِ دل پر مرہم سا لگتا

“پیغام سوسائٹی” سے اچھائی پھیلائی
“اچھے بنو” کی ہر سمت صدائیں آئیں

“جھنگ یوتھ الائنس” ہو یا خدمت کی بات
ہر محاذ پر وہ رہا ساتھ ساتھ

ریڈیو سے لے کر کتابوں تلک
وہ بانٹتا رہا ہے علم کا فلک

طب و تعلیم کا ہے حسین امتزاج
ہے دل میں انسانیت کا رواج

“پیغام سیون نیوز” بھی روشن چراغ
علم، معلومات اور خبر کا مزاج

چشتی ہے، فریدؒ کی خوشبو ہے ساتھ
محبت، خلوص، سچائی کی بات

دُعا ہے یہ “چراغِ فلاح” جلتا رہے
ہر دل میں امید کا نور ملتا رہے 🌟

🌸 اختتامیہ

ڈاکٹر اعجاز علی چشتی کی زندگی ایک ہمہ جہت پیغام ہے — علم، اخلاص، فکری رہنمائی اور خاموش خدمت کا۔
ہمیں اُن کے جیسے چراغوں کو سراہنا بھی چاہیے اور ان سے روشنی بھی لینا چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں شعور، خیر اور محبت کی شمعیں ہمیشہ روشن رہیں۔

—🌟 اعجاز کی روشنی

ڈاکٹر اعجاز علی چشتی: ایک ہمہ گیر شخصیت کا تعارف
✍️ تحریر: حافظ محمد عبدالسلام اجمل (اسلامک اسکالر)

✨ علم، اخلاص، قیادت اور خدمت کا وہ روشن نام، جو جھنگ کی زرخیز مٹی سے اُبھرا، اور فکری روشنی، روحانی حرارت اور عملی خدمت کی کرنیں بانٹتا چلا گیا۔ وہ چراغ جو علم بھی بانٹتا ہے، امید بھی جگاتا ہے۔

📚 علمی سفر اور فکری تربیت

آپ نے اسلامیات، ایجوکیشن، اور ماس کمیونیکیشن (ابلاغیات) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی نے آپ کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا، اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
اسی دوران پروفیسر بشیر احمد ناز (ڈائریکٹر، دی پنجاب کالج) اور معروف بایو کیمسٹ رائے شہزاد عبداللہ جیسے نابغہ روزگار افراد کی صحبت نے آپ کی سوچ میں وقار، انداز میں متانت، اور مزاج میں توازن پیدا کیا۔
🎓 طالب علمی کے ایّام ہی سے قیادت کے جوہر نمایاں تھے، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم پر مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے طلبہ میں شعور، تنظیم اور کردار سازی کے نقوش چھوڑے۔

👨‍👩‍👦‍👦 خاندانی پس منظر اور روحانی نسبت

آپ میاں محمد نواز چشتی کے صاحبزادے ہیں، جو ایک معروف سماجی شخصیت اور خاندان کے بزرگ ہیں۔
خانداناً آپ کا تعلق عظیم روحانی سلسلہ چشتیہ سے ہے، جو حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کے فیوض و برکات کا حامل ہے۔
آپ کے قریبی بزرگ محمد نواز ایمنؒ معروف صوفی شاعر اور مصنف تھے، جنہوں نے آپ کو شاعری سے کالم نگاری کی طرف مائل کیا اور فکر و عرفان کے چراغ روشن کیے۔ 🕯️

📖 آپ کے خانوادے کو جھنگ کے استاد شعرا، میاں ولی محمد اور میاں محمد شفیع جیسے شعرا کی نسبت حاصل ہے۔
اسی سلسلہ کے دو اور درخشندہ نام — فخر عباس تابش (نعت گو شاعر) اور ڈاکٹر محمد امین سیالوی (خطیب و ماہرِ اقبالیات) — آپ کی علمی وراثت کا تسلسل ہیں۔

🩺 طب، تربیت اور تدریس

آپ ایک تربیت یافتہ ہومیوپیتھک فزیشن ہیں، جنہوں نے طب کو خدمتِ خلق کا وسیلہ بنایا۔
اساتذہ کی تربیت، کردار سازی، اور فکری رہنمائی کے میدان میں آپ کی خدمات کا اعتراف مختلف اداروں نے شیلڈز اور اسناد کی صورت میں کیا۔ 🏆

🎙️ ابلاغ کا روشن سفر

ذرائع ابلاغ، خصوصاً ریڈیو جرنلزم میں آپ نے ایک توانا آواز کے طور پر عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔
آپ کا رابطہ حافظ محمد نور اللہ (ریڈیو پاکستان)، اسامہ خالد (ایف ایم 105)، سید عدنان نور (بول نیوز) اور بی بی سی اردو سروس کے فیضان یوسف جیسے معروف ناموں سے رہا، جن سے آپ کے صحافتی ذوق اور فہم کو جِلا ملی۔ 🎧🗞️

🌱 سماجی خدمات اور ادارہ سازی

آپ نے نوجوانوں اور معاشرتی اصلاح کے لیے “پیغام سوسائٹی تحصیل احمد پور سیال” کی بنیاد رکھی، جس کا پیغام ہے:
🌟 “اچھے بنو، اچھائی پھیلاؤ”

اسی طرح اصلاحی، فکری اور روحانی رہنمائی کے لیے “پیغامِ زندگی” کا آغاز کیا، جس کا دل کو چھو لینے والا سلوگن ہے:
🌈 “خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں”

💬 کریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں خدمات کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا پرانا تعلق ہے۔
وہ میرے ہمراہ رہے، اور اکثر کہا کرتے ہیں:

> “سر! آپ کی زیرِ نگرانی کردار سازی کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا۔”
کریکٹر ایجوکیشن کے پلیٹ فارم سے میرے لیے ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ کسی اعزاز سے کم نہیں۔

📝 ادبی و فکری پہچان

آپ کے کالمز “فکرِ اعجاز” کے عنوان سے اصلاحی، علمی اور فکری حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
یہ کالمز نہ صرف قاری کے دل کو چھوتے ہیں بلکہ معاشرتی، علاقائی اور ملکی مسائل کو بھی نرمی، حکمت اور بصیرت کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے تربیتی کہانیوں میں عبداللہ، جمیلہ، منو، گڈو، لیلی، جگنو جیسے کردار شامل ہوتے ہیں، جو سبق آموزی اور دلچسپی کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔ 📚👧🧒

🏛️ سیاسی و فلاحی سرگرمیاں

آپ جماعت اسلامی کے ضلعی مجلسِ شوریٰ کے سب سے کم عمر رکن بنے، اور انتخابی نشان ترازو پر صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی رہے۔
اس وقت آپ صوبائی حلقہ کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

📰 روزنامہ “مرکزی رپورٹ” لاہور میں محمد طاہر انجم نے آپ کو سب ایڈیٹر منتخب کیا، جس سے پرنٹ میڈیا سے گہرا رشتہ قائم ہوا۔

🌊 سیلاب جیسے نازک مواقع پر آپ نے الخدمت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے فلاحی میدان میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

📢 شورکوٹ کو ضلع اور جھنگ کو ڈویژن بنانے کے لیے آپ نے مسلسل آواز بلند کی، سیمینارز منعقد کیے، اور ایک مربوط عوامی بیانیہ تشکیل دیا۔

⚖️ ہیومن رائٹس پروٹیکشن کمیشن میں ضلعی ممبر کی حیثیت سے آپ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

📺 ڈیجیٹل میڈیا پر شعور و آگہی کے فروغ کے لیے آپ نے “پیغام سیون نیوز” ایچ ڈی کی بنیاد رکھی، جس کا سلوگن ہے:
📰 “علم، معلومات اور خبر کا حسین امتزاج”

🕊️ آپ نہ صرف معلم، رہبر اور قلمکار ہیں، بلکہ سچائی، اخلاص، محبت اور علم کا عملی استعارہ بھی ہیں۔
💖 آپ وہ چراغ ہیں جو روشنی بانٹتے ہیں، اور دلوں میں امید جگاتے ہیں۔

💡 نظم: چراغِ فلاح

(ڈاکٹر اعجاز علی چشتی کی خدمات کو خراجِ تحسین)
✍️ شاعر: بدر آزاد چشتی

> چمکتا ہے علم و عمل کا ستارہ
جو جھنگ کی مٹی سے اٹھا ہے پیارا

اعجاز چشتی، صداقت کا پیکر
جہاں علم، خدمت، ہو جذبوں کا دفتر

قلم اس کا “پیغامِ زندگی” لایا
اندھیروں میں اُمید کا دیا جلایا

کبھی “فکرِ اعجاز” میں خواب بنتا
کبھی زخمِ دل پر مرہم سا لگتا

“پیغام سوسائٹی” سے اچھائی پھیلائی
“اچھے بنو” کی ہر سمت صدائیں آئیں

“جھنگ یوتھ الائنس” ہو یا خدمت کی بات
ہر محاذ پر وہ رہا ساتھ ساتھ

ریڈیو سے لے کر کتابوں تلک
وہ بانٹتا رہا ہے علم کا فلک

طب و تعلیم کا ہے حسین امتزاج
ہے دل میں انسانیت کا رواج

“پیغام سیون نیوز” بھی روشن چراغ
علم، معلومات اور خبر کا مزاج

چشتی ہے، فریدؒ کی خوشبو ہے ساتھ
محبت، خلوص، سچائی کی بات

دُعا ہے یہ “چراغِ فلاح” جلتا رہے
ہر دل میں امید کا نور ملتا رہے 🌟

🌸 اختتامیہ

ڈاکٹر اعجاز علی چشتی کی زندگی ایک ہمہ جہت پیغام ہے — علم، اخلاص، فکری رہنمائی اور خاموش خدمت کا۔
ہمیں اُن کے جیسے چراغوں کو سراہنا بھی چاہیے اور ان سے روشنی بھی لینا چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں شعور، خیر اور محبت کی شمعیں ہمیشہ روشن رہیں۔