مولانا معاویہ اعظم طارق کی علمی خدمات

{ اجالا }

کالم نگار ۔۔محمد علی یزدانی

یونیورسٹی آف ملایشیا (University of Malaya) نہ صرف ملائیشیا بلکہ پورے جنوب مشرقی ایشیا کی ایک معتبر، قدیم اور علمی لحاظ سے ممتاز ترین جامعہ ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معاشرتی علوم اور دیگر عصری شعبوں میں اعلیٰ معیار کی تعلیم و تحقیق کے لئے معروف ہے بلکہ اسلامی علوم اور فکرِ دینی کے میدان میں بھی اس کا کردار قابلِ تحسین رہا ہے۔ یونیورسٹی آف ملایا کی “اکیڈمی آف اسلامک اسٹڈیز” (Academy of Islamic Studies) عالم اسلام میں ایک علمی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں نہ صرف علم و تحقیق کے نئے دروازے کھولے جاتے ہیں بلکہ ایسی ممتاز شخصیات کی خدمات کا بھی اعتراف کیا جاتا ہے، جنہوں نے دینی و قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کیا ہو۔حال ہی میں اسی روایت کے تسلسل میں، اکیڈمی آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد فوزی بن حمد نے پاکستان کی علمی، دینی،تحریکی اور سیاسی قیادت ایک ممتاز شخصیت، مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کو اعزازی شیلڈ سے نوازا۔ یہ اعزاز نہ صرف مولانا معاویہ اعظم کی انفرادی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر فخر کا مقام ہے۔مولانا کی خدمات کو سراہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امت مسلمہ کی خدمت کرنے والی شخصیات کا وقار صرف قومی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔یہ اعزاز صرف ایک شیلڈ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ مسلم دنیا کے تعلیمی ادارے اب ان شخصیات کو بھی مرکزِ نگاہ بنا رہے ہیں، جنہوں نے عوامی نمائندگی، دینی تبلیغ اور تعلیمی ترقی کو بیک وقت اپنے مشن کا حصہ بنایا ہو۔ مولانا معاویہ اعظم طارق ان شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے پاکستانی معاشرے میں دینی، فکری، اخلاقی اور تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی۔مولانامعاویہ اعظم طارق کا تعلق ایک دینی و سیاسی خانوادے سے ہے۔ ان کے والد مولانا اعظم طارق شہید، پاکستان میں اہل سنت والجماعت کے ممتاز رہنماء تھے جنہوں نے قرآن و سنت کے نفاذ،تحفظ ناموس صحابہ، دینی بیداری اور ملی شعور کے لئے بے مثال جدوجہد کی۔ اسی پس منظر میں مولانا معاویہ نے بھی دینی اور عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلنے کی راہ اختیار کی۔انہوں نے مدرسہ، جامعہ اور دیگر تعلیمی اداروں سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستانی سیاست کا رخ کیا تاکہ دینی اقدار اور تعلیمات کو قانون سازی اور پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا بنیادی مشن یہ رہا ہے کہ دین اور سیاست کے درمیان موجود خلیج کو ختم کیا جائے اور دین اسلام کو ایک عملی نظام کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ مولانامعاویہ اعظم طارق نہ صرف ایک دینی رہنماء ہیں بلکہ ایک سرگرم اور فعال پارلیمنٹیرین بھی ہیں۔ وہ پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ایسے کئی بلز اور قانون سازی کے عمل میں پیش پیش رہے جن کا تعلق دینی تعلیم کے فروغ، اسلامی اقدار کی ترویج اور معاشرتی فلاح و بہبود سے ہے۔ان کی پارلیمانی خدمات میں سب سے نمایاں کام پنجاب میں قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دینا ہے۔ ان کی فعال کوششوں کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کیا، جس کے تحت پہلی جماعت سے چھٹی جماعت تک ناظرہ قرآن اور ساتویں جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن کا ترجمہ پڑھانا لازمی قرار پایا۔ یہ ایک تاریخی اقدام تھا، جس کا مقصد نسلِ نو میں قرآن فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔ مولانا اس بل کی تیاری میں شامل کمیٹی کے فعال رکن تھے اور انہوں نے دلجمعی سے اس میں اپنا کردار ادا کیا۔اسی طرح مولانا نے نمل انسٹیٹیوٹ میانوالی کے 2019ء کے ایکٹ کی تیاری میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ انسٹیٹیوٹ پاکستان کے ان اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں جدید اور معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدریس کے نئے رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مولانا کے اس اقدام سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ وہ نہ صرف دینی تعلیم کے داعی ہیں بلکہ جدید و عصری تعلیم کے بھی حامی ہیں۔ ان کا نقطہء نظر یہ ہے کہ دین اور دنیا کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ معاون ہونا چاہیے۔

مولانا معاویہ اعظم طارق نے جھنگ شہر میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کی مسلسل جدوجہد، وژن اور محنت کے نتیجے میں “یونیورسٹی آف جھنگ” کا قیام ممکن ہوا، جو آج ایک کامیاب اور فعال ادارے کی صورت میں موجود ہے۔ مولانا اس وقت یونیورسٹی کے “سینڈیکیٹ” کے رکن بھی ہیں اور ادارے کی تعلیمی پالیسیوں، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور ریسرچ پلاننگ میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔یہ ادارہ اب پانچ ہزار کے قریب طلبہ و طالبات کو تعلیم دے رہا ہے۔ یہاں 22 مختلف مضامین میں بی ایس (BS) کی سطح کی تعلیم اور 10مضامین میں ایم فل کی تدریس کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مولانا کے علمی ویژن، مثبت حکمت عملی اور مستقل مزاجی کا مظہر ہے۔مولانا معاویہ اعظم طارق نے نہ صرف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دی ہیں بلکہ پاکستان میں ایک دینی بیانیہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کی ہے، جو اعتدال، رواداری، اور شریعت کی بالادستی پر مبنی ہو۔ ان کی سیاست کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ دینی و اخلاقی اقدار کو سماج میں نافذ کرنا ہے۔ وہ ان چند سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اسمبلی کا ممبر بن کر پروٹوکول اور مراعات کی لذت میں کھو جانے کے بجائے عوامی خدمت اور دینی اصلاح کو مقدم رکھا۔یونیورسٹی آف مالایا کی جانب سے مولانا کو دیا گیا اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی دینی قیادت عالمی علمی حلقوں میں بھی پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ ایسے اعزازات نہ صرف انفرادی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ملکی وقار کو بھی بلند کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں اور معاشرتی راہنماؤں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے افراد کی عزت افزائی سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔مولانا کی خدمات، نظریات اور اقدامات نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ جب ایک عالمِ دین جدید تعلیمی ادارے قائم کرے، قانون سازی میں حصہ لے، معاشرے میں امن و ہم آہنگی کی بات کرے، تو وہ نئی نسل کو ایک ہمہ گیر شخصیت کے طور پر متاثر کرتا ہے۔ آج کے طلبہ جب مولانا جیسی شخصیات کو ملکی و عالمی سطح پر عزت و احترام پاتے دیکھتے ہیں تو ان میں بھی دینی علوم اور اسلامی خدمات کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے۔

سابقہ ایم پی اے جھنگ مولانامعاویہ اعظم طارق