ائیر انڈیا کا سانحہ: احمد آباد میں قیامت خیز لمحے

تحریر: محمد زاہد مجید انور

احمد آباد، گجرات کا پُررونق اور گنجان شہر، 12 جون 2025 کی دوپہر کو ایک اندوہناک سانحے کا گواہ بنا، جب سرکاری ائیرلائن ائیر انڈیا کی پرواز AI-171 نے احمد آباد ائیرپورٹ سے لندن کے لیے روانگی کے فوراً بعد گر کر تباہی مچادی۔ اس حادثے نے پورے بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم ان مسافروں کے اہل خانہ کو غم میں مبتلا کردیا ہے جو اس پرواز میں سوار تھے۔اطلاعات کے مطابق طیارے میں عملے کے 12 ارکان سمیت 240 سے زائد افراد سوار تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان میں 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، ایک کینیڈین، 7 پرتگالی شہری اور 11 معصوم بچے بھی شامل تھے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حادثے کے شکار طیارے میں ریاست گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی موجود تھے، جن کی حالت سے متعلق ابھی تک واضح معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔حادثے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں، جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارہ جیسے ہی فضا میں بلند ہوا، چند ہی لمحوں بعد اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی اور وہ احمد آباد کی آبادی پر آ گرا۔ طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا جس کے بعد آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے۔طیارہ محض 625 فٹ بلندی تک پہنچ سکا اور اس کی رفتار 322 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ان ابتدائی اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ شاید انجن میں خرابی یا دیگر تکنیکی مسئلہ حادثے کا باعث بنا۔ تاہم، حتمی رپورٹ کا انتظار ہے جسے ڈی جی سی اے (DGCA) اور دیگر متعلقہ ادارے مرتب کر رہے ہیں۔حادثے کے فوراً بعد احمد آباد ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں اور قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں اور متاثرین کو اسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی مکانات اور دکانیں جو حادثے کی زد میں آئے، انہیں بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔اس حادثے نے ایک بار پھر ہمارے ہوابازی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب جہاں ائیر انڈیا ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سرکاری ایئرلائن ہے، وہیں اس کے بیڑے میں شامل کچھ پرانے طیارے اور حفاظتی معیار کی خلاف ورزیاں اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس حادثے کو سنجیدگی سے لیں اور ہوائی سفر کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ہزاروں دل آج غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کو الوداع کہہ رہی تھی، وہ شوہر جو اپنی بیوی کے ساتھ پہلی بار بیرون ملک جا رہا تھا، وہ بچے جو اسکول کی چھٹیوں میں لندن جا رہے تھے — سب کے خواب ایک لمحے میں راکھ ہوگئے۔ہماری دعائیں تمام متاثرین کے ساتھ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کرے، بلکہ اس حادثے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کے ذریعے آئندہ ایسے کسی سانحے سے بچنے کے لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دے۔