جعلی میجر کا ڈرامہ بے نقاب: حساس ادارے کے نام پر دھوکہ دہی

تحریر: ۔محمد زاہد مجید انور

فیصل آباد – ایک ایسا واقعہ جو سیکیورٹی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی ایک سنگین کوشش قرار دیا جا رہا ہے، حال ہی میں ایس ایس پی آپریشنز فیصل آباد، عمارہ شیرازی سے ملاقات کرنے والا شخص جو خود کو حساس ادارے کا میجر ظاہر کر رہا تھا، بالآخر قانون کی گرفت میں آ گیا۔ اس جعلی میجر اور اس کے ساتھی کی گرفتاری سے اس فراڈ کا پردہ چاک ہوا جو بظاہر نہایت منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق یہ شخص ایک ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ایس ایس پی آفس پہنچا، جس پر حساس ادارے کا جعلی مونوگرام نمایاں تھا۔ اس کے ساتھ موجود شخص نے بھی مکمل اعتماد سے خود کو ایک اہم سیکیورٹی اہلکار کے طور پر ظاہر کیا۔ ملاقات کے دوران ملزمان نے انتہائی اعتماد سے جعلی سروس کارڈز بھی پیش کیے تاکہ اپنی شناخت کو مستند ثابت کیا جا سکے۔ تاہم، پولیس کی باریک بینی اور تجربہ اس جعلسازی کو فوراً بھانپ گیا۔ایس ایس پی آپریشنز نے فوری طور پر متعلقہ اداروں سے تصدیق کرائی، جس پر انکشاف ہوا کہ نہ صرف یہ افراد حساس ادارے سے وابستہ نہیں، بلکہ ان کے پاس موجود کارڈز اور لباس پر لگے مونوگرام بھی جعلی تھے۔ اس پر دونوں افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر دی گئی۔اس واقعے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے:ایسے جعلی عناصر کس حد تک سیکیورٹی اداروں کا نام استعمال کرکے اعلیٰ افسران تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟کیا ہمارے سسٹم میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو ان عناصر کو موقع فراہم کرتی ہیں؟اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر ان کا مقصد صرف دھوکہ نہ ہوتا، تو کوئی بڑا نقصان بھی ہو سکتا تھا۔پولیس کی جانب سے اس کیس کی مکمل تفتیش جاری ہے۔ ملزمان سے برآمد ہونے والا جعلی سروس کارڈ، جعلی شناختی دستاویزات، اور لباس ضبط کر لیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے بھی اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا ان افراد کا تعلق کسی منظم گروہ سے تو نہیں جو حساس اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔یہ واقعہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ ہم میں موجود بعض عناصر اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ جعلی شناخت، فرضی دستاویزات، اور اداروں کے جعلی مونوگرام کا سختی سے محاسبہ کیا جائے۔ایسے عناصر کا انجام قید و بند ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور قوم کے حساس اداروں کی حرمت محفوظ رہ سکے۔