اسرائیل اورایران کےدرمیان جنگ

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ماضی میں ہلکی پھلکی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں لیکن اب بڑا حملہ کر کےبڑی جنگ شروع کر دی گئی ہے۔اس بات کا یقین تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ہوگی اور شاید وہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔اسرائیل نےغزہ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہےاور اب دوسرے علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔اسرائیل نے اس لیےحملےکیے کہ ایران کوایٹم بم بنانے سے روکا جا سکے۔تہران کی طرف سے بار بار اس بات کی وضاحت کی جاتی رہی ہے کہ اس کی جوہری توانائی مثبت مقاصد کے لیے ہے۔مخالفین کے مطابق ایران یورنیم اس حد تک افزودہ کر چکا ہے کہ ایٹم بم تیار کیے جا سکیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری توانائی کے سلسلے میں مذاکرات بھی کیےجارہے تھے۔یہ مذاکرات اس لیےکامیاب نہ ہو سکے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ ایران امریکی شرائط کو تسلیم کر لے۔اسرائیل سب سے بڑا خطرہ ایران کو سمجھتا ہے۔امریکہ کی طرف سے بھی دھمکیاں دی گئیں،لیکن ایران اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کافی عرصے سےجاری تھا،لیکن تناؤ میں زیادہ شدت حالیہ دنوں میں نظرآئی۔جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں اس وقت کی اطلاعات کے مطابق ایران پر شدید حملہ کر دیا گیا ہے۔اس حملےمیں مختلف شہروں سمیت جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔جوہری تنصیبات اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔بے شمارشہادتوں کی اطلاعات مل رہی ہیں اور مختلف مقامات پر آگ بھڑکی ہوئی ہے۔شہید ہونے والوں میں مردوخواتین کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں اور بہت سی عمارات بھی متاثر ہو چکی ہیں۔اسرائیل اپنے مقاصدکو حاصل کیے بنا جنگ نہیں روکے گا۔ایران معاشی لحاظ سے بھی کمزور ہے اورفوجی لحاظ سے بھی اتنا مضبوط نہیں،اس لیے ایران پر آسانی سےحملہ کر دیا گیا ہے۔اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایران یورنیم افزودہ کر کےایٹم بم بنا چکا ہے یا بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔اگر ایٹم بم بن چکا ہے تو ایران اپنے دفاع میں ایٹمی توانائی کا استعمال بھی کرے گا۔
اسرائیل نے حملہ کرکےایران کی اعلی قیادت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔جوہری توانائی کےمراکز کے علاوہ سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔مختلف شہروں میں دھماکےسنے گئے ہیں اور حملے اب بھی جاری ہیں۔اسلامی انقلابی گارڈ کور(IRGC)کے سربراہ جنرل حسین سلامی،ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف جنرل محمدباقری،بڑےجوہری سائنسدان فردون عباسی اورمہدی تہرانچی سمیت کچھ دیگرسائنسدانوں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔اسرائیل ایک حکمت عملی کےتحت اعلی قیادت کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ایران کو دباؤ میں لایا جا سکے۔اعلی قیادت میں شامل دوسرے افراد اور دیگر سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایران کو قابو کیا جا سکے۔اسرائیل کی طرف سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ایران نے بھی سو ڈرونزحملے کیےہیں،لیکن ان ڈرونزکو فضا میں ہی ناکارہ کر دیا گیا۔ایران پر جنگی طیاروں سے بمباری کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں اور اس بات کا خدشہ ہےکہ بہت بڑا انتشار پھیل جائے گا۔مشرق وسطی کاامن کافی عرصے سےتباہ ہو رہا ہے لیکن اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ مختلف ممالک کو علیحدہ علیحدہ کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ متحد ہو کر مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن وہ متحد ہونے کے لیے تیار ہی نہیں۔
ایران پر حملے کی مذمت بھی کی جا رہی ہے،لیکن اکثریت رسمی طور پر مذمت کر رہی ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ منصوبوں کا علم تھا لیکن اس حملے میں امریکی فوج نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا،اس لیے امید ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پرآئے گا۔اسرائیل کا سب سے بڑا حامی امریکہ ہے،ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کا بیان اکثریت کے لیےتسلیم کرنا مشکل ہو کہ امریکہ کردار ادا نہیں کر رہا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے کہا ہے کہ ایران پر حملے آپریشن رائزنگ لائنز کے تحت کیے گئے۔نیتن یاہو نےیہ بھی کہا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کی بقا کوخطرہ تھا۔اسرائیل اس وقت تک جنگ جاری رکھنےکی کوشش کرے گا جب تک ایران شکست نہ کھا جائے۔ایران بھی جواب دینے کے لیےتیار ہے۔ایران روایتی جنگ شاید لمبے عرصے تک نہیں لڑ سکتا،اگر اس کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہوا تو فوری نتائج کے لیےایٹمی اسلحہ بھی ضرور استعمال کرے گا۔اگر مجبورا روایتی جنگ لڑنی پڑے تو اس کا میدان پھیل بھی سکتا ہے۔لازمی بات نہیں کہ ایران کی سرزمین میدان جنگ بنے،بلکہ اسرائیل کی سرزمین بھی میدان جنگ بن سکتی ہے۔فضائی اور میزائلوں کے ذریعےحملےکافی علاقے کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں۔فضا میں بھی جنگ لڑی جائے گی۔
ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ جنگ صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان نہیں ہوگی بلکہ دوسری ریاستیں بھی ملوث ہو جائیں گی یعنی ہمسایہ ریاستوں کو بھی اس جنگ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس لیےضروری ہےکہ جو ریاستیں رسمی طور پر مذمت کر رہی ہیں حقیقی طور پر جنگ کو روکنے کی کوشش کریں۔جنگ نہ رکے تو ایران کا ساتھ دے کرمستقل خطرے سےنمٹا جا سکتا ہے۔مشرق وسطی کا خطہ پہلے ہی آگ میں جل رہا ہے،اس جنگ سےآگ مزید پھیلے گی۔ایران کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ جنگ لڑے۔بعض حلقے شایداس جنگ کی سنگینی سے واقف نہ ہوں لیکن حقائق یہ ہیں کہ یہ جنگ بہت بڑےعلاقے کو شدید متاثر کرے گی۔ممکن ہےکچھ دن کے بعد جنگ مزید شدت اختیار کر لےتو اس وقت جنگ کو روکنا مشکل کی حد تک ناممکن ہو جائے گا۔لازمی بات یہ نہیں کہ یہ جنگ اسرائیل جیت لے،اگر ایران فتح حاصل کرتا ہے تو مشرق وسطی میں زبردست تبدیلیاں آجائیں گی۔اس وقت ایران کی کمزور پوزیشن کے مدنظر کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل شکست نہیں حاصل کرسکتا لیکن حالات بعض اوقات انسانی خواہشات کے برعکس الٹ جاتے ہیں۔بہرحال امن کے لیے ضروری ہے کہ جنگ کو روکا جائے تاکہ مزید انسانوں کا خون نہ بہے۔انسانی زندگیاں بچانی چاہیے۔انسانی زندگی قیمتی ہوتی ہے چاہے اسرائیلی کی ہو یا ایرانی کی،ضروری ہے کہ قیمتی جانوں کو قتل ہونے سے بچایا جائے۔