ایس ایچ او انسپکٹر غلام محی الدین بھوانہ انچارج چوکی سمندوانہ ناصر خان بلوچ اور قصہ چند گھنٹوں کا
تحریر علی امجد چوہدری 
کل اتوار تھا working day نہیں تھا مگر تھانہ احمد پور سیال اور چوکی سمندوانہ میں کل کا دن بھی full of working تھا ایس ایچ او محی الدین تھانے میں اور انچارج چوکی سمندوانہ ناصر خان بلوچ چوکی میں موجود تھے شام کے 4 بجے کال موصول ہوئی کہ کئی ملین مالیت کے جانور چوری ہو چکے ہیں اور چور فرار بھی ہو چکے ہیں جانوروں کے مالک غم سے نڈھال تھے کیونکہ ان پر انجانے کا خوف طاری تھا اور انہیں لگ رہا تھا کہ یہ جانور شاید اب انہیں نہ مل سکیں پولیس چوکی سمندوانہ انچارج ناصر خان بلوچ کی قیادت میں پلک جھپکتے ہی پہنچی ایس ایچ او انسپکٹر غلام محی الدین بھی ایکشن میں آگئے یہ کاروائی consistently رات گئے تک چلی اس دوران پولیس اہلکار دکھانے پینے سے بھی دور رہے کیونکہ یہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے انچارج چوکی ناصر خان کی قیادت میں پولیس پارٹی نے رات گئے حیران کن طور پر کئی ملین مالیت کے جانور فوری طور پر ریکور کر لیئے آج چوکی میں فتح پور کے رہائشی افراد کا تانتا بندھا ہوا تھا یہ لوگ ایس ایچ او انسپکٹر غلام محی الدین چوکی انچارج ناصر خان بلوچ اور چوکی کے دیگر اہلکاروں کی صلاحیتوں اور محنت کے گرویدہ ہو چکے تھے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے بڑی تعداد میں آئے تھے ان کے خیال میں پولیس نے انہیں ناامیدی سے امید دی ہے اب کچھ لوگوں کے لیئے یہ محض پولیس کا فرض تھا مان لیتے ہیں باالکل ایسے ہی ہے مگر اتوار کے روز ایس ایچ او کا گھر کی بجائے تھانے میں اور انچارج چوکی ناصر خان بلوچ کا گھر کی بجائے چوکی میں موجود ہونا اپنے فرائض سے کچھ بڑھ کر ہی ہے اور اس کی ستائش بنتی ہے کیونکہ یہ غیر معمولی ہے
علی امجد چوہدری









