عزائم #محرم الحرام و صفر کا احترام اور امیر عباس خان سیال

تحریر علی امجد چوہدری

پہلی بار میں نے امیر عباس خان سیال میں واضح تبدیلی دیکھی ہے اور میں expect نہیں کر رہا تھا کہ ان کی گفتگو میں اتنی flexibility بھی ہو سکتی ہے ہوا کچھ یوں کہ صدر انجمن تاجران چوہدری اختر جاوید میئو کی رہائش گاہ پر ان کے صاحبزادے غلام مصطفیٰ کی کوریج لینگویج کورس اکیڈمی کے افتتاح کے بعد ایک پرتکلف عشائیہ تھا جس میں چند مہمان شریک تھے اور یہ عشائیہ ایک open debate تھا امیر عباس خان سیال بھی خوشگواری موڈ میں تھے اور یوں اس open debate میں کھل کر گفتگو کا موقع ملا ماضی میں ان کے حوالے سے عمومی تاثر رہا ہے کہ یہ جارح مزاج ہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ان کے اس رویے سے بھی شکایت ہے کو وہ عموی طور پر بڑے جاگیرداروں کے حوالے سے رکھتے ہیں( عوام کی ایک بڑی تعداد گزشتہ عام انتخابات میں ان کی شکست کی وجہ بھی ان کی مبینہ انتقامی سیاست کو سمجھتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھول جاتی ہے کہ ن لیگ کے لیئے انتہائی ناموافق حالات میں بھی امیر عباس نے 60000 ووٹ حاصل کیئے اور چند ہزار سے رنر اپ رہے )مگر حیران کن امر ہے کہ یہ شکایت غریب طبقہ نہیں کرتا ) مگر رواں ہفتے کے اوائل میں ان کی گفتگو optimism سے بھرپور تھی ان کا یہ فقرہ کہ اب جدوجہد ووٹ کی نہیں خدمت کی ہوگی اب مثبت competition خدمت کا ہوگا شہر اور گردونواح میں میگا پروجیکٹس میں اپنے اور پرائے کے درمیان discrimination نہیں ہوگی چہلم کے بعد وہ پیدل میونسپل کمیٹی احمد پور سیال گڑھ مہاراجہ سمیت مختلف حصوں کو وزٹ کریں گے بغیر کسی تفریق کے ہر دہلیز پر جائیں گے اور لوگوں کی ان شکایات کو بھی جانچنے کی کوشش کریں گے جو ان کے لبوں پر نہیں آتیں اگر امیر عباس خان سیال اپنے ان عزائم پر جمے رہتے ہیں اور پھر سے ناعاقبت اندیش مشیران کے غلط مشوروں کا شکار نہیں ہوتے تو یہ اس تحصیل کے لیئے نوید سحر ہوگی