کسانوں کی خودمختاری کی جانب ایک مؤثر قدم

تحریر: محمد زاہد مجید انور

زرعی ترقی کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان کی فلاح و بہبود معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ چھوٹے درجے کے کسان جو ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ مہیا کرتے ہیں، بدقسمتی سے مالی سہولتوں، ذخیرہ اندوزی کے جدید ذرائع، اور مارکیٹ تک براہ راست رسائی جیسے مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔اسی زمینی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب رورل سپورٹ پروگرام (PRSP) نے ایک شاندار اور انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب عابد سعید کی قیادت میں PRSP نے حال ہی میں نعمت کولیٹرل مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (NCMCL) کے ساتھ ایک اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد چھوٹے پیمانے کے کسانوں کو مالی طور پر بااختیار بنانا اور ان کی زرعی پیداوار کو بہتر انداز میں مارکیٹ میں متعارف کروانا ہے۔اس شراکت داری کی نمایاں خصوصیات:1. منظور شدہ ویئر ہاؤس کی سہولیات اس معاہدے کے تحت کسانوں کو اپنی فصل محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے منظور شدہ اور معیاری گوداموں تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے فصل کے ضیاع کو روکا جا سکے گا اور مارکیٹ کی مناسب قیمت ملنے تک پیداوار کو محفوظ رکھا جا سکے گا۔2. الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسیپٹ (EWR) سسٹم یہ ایک جدید نظام ہے جس کے ذریعے کسان اپنی ذخیرہ کردہ فصل کے بدلے الیکٹرانک رسید حاصل کرتے ہیں، جو مالیاتی اداروں کے لیے ضمانت کا کام دیتی ہے۔ اس کی بدولت کسان بینکوں یا مائیکروفنانس اداروں سے بآسانی قرض حاصل کر سکتے ہیں، بغیر کسی روایتی سیکیورٹی یا زمین کے کاغذات کے۔3. مالی شمولیت اور قرض کی سہولت اس اقدام سے چھوٹے کسانوں کو مالیاتی نیٹ ورک میں لایا جائے گا، جو عموماً ان سے دور ہوتا ہے۔ کم شرح سود پر قرض، بروقت مالی معاونت، اور بینکوں تک رسائی ان کے مالی بوجھ کو کم کرے گی۔4. مارکیٹ تک رسائی میں بہتری اس شراکت داری کے ذریعے کسان براہ راست منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں اپنی فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا اور وہ کمیشن ایجنٹوں یا بیوپاریوں کے استحصال سے بچ سکیں گے۔یہ معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ چھوٹے کسانوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ پنجاب رورل سپورٹ پروگرام اور NCMCL کی مشترکہ کاوش سے پاکستان میں زرعی ترقی کو نئی جہت ملے گی۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ ملک کی مجموعی زرعی پیداوار اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔وقت کا تقاضا ہے کہ دیگر سرکاری و نجی ادارے بھی ایسے اقدامات میں شریک ہوں تاکہ زرعی شعبہ ایک بار پھر معیشت کا مضبوط ستون بن سکے۔یہ شراکت داری اس بات کی غمازی ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور سمت درست ہو تو چھوٹے اقدامات بھی بڑے انقلابات کا باعث بن سکتے ہیں۔ کسان مضبوط ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔