خواتین بازی لے گئیں — ضلع سیالکوٹ میں تاریخ رقم
تحریر: محمد زاہد مجید انور
پاکستان کی بیوروکریسی میں خواتین کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں، مگر ضلع سیالکوٹ نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے انتظامی قیادت میں خواتین کو بھرپور نمائندگی دی ہے۔ اس وقت نہ صرف ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ایک خاتون افسر ہیں بلکہ چاروں تحصیلوں — سیالکوٹ، ڈسکہ، سمبڑیال اور پسرور — میں بھی خواتین اسسٹنٹ کمشنر تعینات کی گئی ہیں۔ یہ اقدام ایک انقلابی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو صنفی مساوات، خواتین کی قیادت پر اعتماد اور اداروں میں مثبت تبدیلی کی جانب اشارہ ہے۔نیا دور — نئی قیادت سیالکوٹ جو کہ ایک صنعتی و تجارتی شہر ہے، جہاں برآمدات، کھیلوں کا سامان اور سرجیکل آلات دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں، وہاں کی انتظامی قیادت کا خواتین کے سپرد ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ملک اب خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کو دل و جان سے تسلیم کر رہا ہے۔تحصیل در تحصیل — خواتین افسران کی جھلک:ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ: ایک فعال، باصلاحیت اور ویژنری خاتون افسر، جو ضلع کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ عوامی رابطہ، ترقیاتی منصوبے اور قانون کی حکمرانی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ: شہری معاملات میں نظم و ضبط، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، اور سہولیات کی فراہمی میں ان کا کردار نمایاں ہے۔اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ: ایک زیرک اور متحرک افسر جو عوامی خدمت کو عبادت سمجھتی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال: امن و امان کے قیام، شفاف انتظامیہ اور دیہی علاقوں کی بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔اسسٹنٹ کمشنر پسرور: تعلیم، صحت اور سماجی بھلائی کے شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی ان کی شناخت بن چکی ہے۔ایک مضبوط پیغام — خواتین کچھ بھی کر سکتی ہیں سیالکوٹ انتظامیہ کا یہ فیصلہ صرف خواتین کی تقرری نہیں، بلکہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ پاکستانی عورت اب محض کسی دفتر کا جزو نہیں بلکہ فیصلہ ساز ہے، رہنما ہے اور معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔یہ ان والدین کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہ وقت ہے ان سوچوں کو بدلنے کا، کہ اب بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کا ہنر بھی رکھتی ہیں۔خاتون قیادت کے مثبت اثرات خواتین افسران عموماً شفافیت، نرمی، مگر نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی پہچان رکھتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے دفاتر میں ایک دوستانہ مگر پیشہ ورانہ ماحول پروان چڑھتا ہے، اور عوام کو انصاف کے حصول میں بھی آسانی میسر آتی ہے۔ایک روشن مثال۔۔۔۔سیالکوٹ میں خواتین کی بطور انتظامی سربراہ تعیناتی ایک قومی مثال بن چکی ہے۔ امید ہے کہ دیگر اضلاع بھی اس روایت کو آگے بڑھائیں گے اور خواتین کو بھرپور مواقع فراہم کریں گے تاکہ وہ ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔کیونکہ جب عورت سنبھالتی ہے تو صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ پورا معاشرہ سنورنے لگتا ہے۔










