انڈیا پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش نہ کرے ورنہ۔۔۔۔۔
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
انڈیاپاکستان کاپانی روکنےکی کوشش نہ کرےورنہ۔۔۔۔۔
عالمی ثالثی عدالت نے8_اگست کو ایک فیصلہ سنایا، جس کے مطابق بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے بلا روک ٹوک استعمال کے لیے چھوڑ دے۔پاکستان نےعالمی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیاہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فیصلہ بھارت کو زیادہ سے زیادہ پانی زخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔عالمی ثالثی عدالت نے فیصلہ حقائق کی بنیاد پر دیا ہے۔انڈیا پاکستان کا پانی روکناچاہتا ہےاور پانی روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔1960میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں ایک معاہدہ ہوا جو سندھ طاس معاہدہ کہلاتا ہے۔انڈیا کےاس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرواورپاکستان کے اس وقت کےسربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔سندھ طاس معاہدہ ہونے کے بعدامید پیدا ہو گئی تھی کہ دونوں ممالک کے کاشتکارخوشحال ہو جائیں گے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ،جہلم اور چناب پر پاکستان کا کنٹرول رہے گا۔اس معاہدے کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہےاور انڈیا کو ان دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی بنانے کا حق ہے لیکن اس پانی کو ذخیرہ کرنا یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق نہیں ہے۔مشرقی دریاؤں یعنی راوی،بیاس اور ستلج کاکنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں رہے گااور انڈیا کو ان دریاؤں پر پراجیکٹ وغیرہ بنانے کا حق ہے،پاکستان ان پر اعتراض نہیں کر سکتا۔یہ معاہدہ ابھی تک بھی موجود ہےاور دونوں ممالک اس معاہدے پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔پاکستان کا اس معاہدے پر عمل کرنےکےباوجودانڈیا بددیانتی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل انڈیا نے پاکستان کا پانی روک دیا۔انڈیا نے پاکستان کاپانی روک کر بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کی۔ماضی میں اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا رہا،حالانکہ جنگیں بھی لڑی گئیں اور تعلقات بھی انتہائی کشیدہ رہے۔کچھ عرصہ قبل انڈیا نےپانی روک دیا۔پاکستان اس مسئلے کوعالمی ثالثی عدالت میں لے گیااورعالمی عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے بلا روک ٹوک استعمال کے لیے چھوڑ دے۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بھی ایک بیان دیا ہے کہ بھارت پاکستان سے ایک بوند پانی بھی چھین نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک نےپانی بند کرنے کی دھمکی دی ہے،دوبارہ کوئی حرکت کی تو ان کاایساحشر کریں گےکہ وہ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔وزیر اعظم کے یہ الفاظ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اگر پانی بندکردیا گیا تو پاکستان بہت بڑے قحط کا شکار ہو جائے گا۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےپانی کی کمی ہو رہی ہے اور دریاؤں کے پانی کی وجہ سےخوشحالی ہے۔پانی کی بندش سے ناقابل تلافی نقصان پہنچےگا۔پانی بند کرنے کی صورت میں جنگ چھڑ سکتی ہےاور یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔انڈیا پانی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے،بہتریہی ہے کہ انڈیا کو ابتدا ہی سی روک دیا جائے ورنہ بعد میں بہت ہی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کی بہتری کے لیے ہے۔انڈیا کی بجائے اگر پاکستان نےپانی روکنے کی حرکت کی ہوتی تو پوری دنیا میں بھونچال آگیا ہوتا۔پاکستان نےہمیشہ معاہدےکےوقار کو ملحوظ خاطر رکھا،لیکن انڈیا اپنی بدنیتی ظاہرکرتا رہا ہے۔وزیراعظم پاکستان نےانڈیا کو پیغام دے کر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہےکہ ایسی حرکت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔انڈیا اس پیغام کو سنجیدگی سے لے گا،کیونکہ کچھ عرصہ قبل جھڑپ میں بھارت کو خاصی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔اگر انڈیانے پانی روکنے کی کوشش کر بھی لی پاکستان اس کو سبق سکھا سکتا ہے۔
پانی کے بغیر زندگی کاتصور محال ہے۔پاکستان میں ڈیم انتہائی کم ہیں،کیونکہ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سےڈیم بنائے نہیں جا رہے۔ڈیم نہ بنا کر پاکستان بہت بڑا خسارہ برداشت کر رہا ہے۔کالا باغ ڈیم بنا کربہت بڑےسنگ میل کو عبور کیا جا سکتا ہے،لیکن غیر ملکی سازشیں اور اندرونی مصلحتیں ڈیم کو بننے سے روک رہی ہیں۔کالاباغ ڈیم پربے معنی اعتراض کیے جاتے ہیں،حالانکہ وہ اعتراضات آسانی سے دور کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان کو کالا باغ ڈیم کے علاوہ دیگر ڈیم بھی فوری طور پر بنانے چاہیے تاکہ ملک میں خوشحالی آسکے۔اگر کوئی مسائل حقیقی نوعیت کے بھی ہیں تو ان کو حل کر کےکالا باغ ڈیم بناناچاہیے۔انڈیا پاکستان کا پانی روک کرجنگ لڑے بغیر شکست دے سکتا ہے۔پاکستان نےتھوڑی سی کمزوری بھی دکھائی تو انڈیا حاوی ہو جائے گا،اس لیے انڈیاکے سامنے کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔انڈیا کو دو ٹوک جواب دے کراس قسم کی حرکت سے روکا جا سکتا ہے۔پاکستان کا جو حق تسلیم کیا گیا ہے اس کو انڈیا بھی تسلیم کرےاور کسی قسم کی سرگرمی سے باز رہے۔یہ واضح ہے کہ پاکستان اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ دستبرداری کا مطلب مکمل تباہی ہوگا۔پانی جیسی ضرورت کوآسانی سے نہیں چھوڑا جا سکتا،یہ بات انڈیا کو جتنی جلدی سمجھ آجائے بہتر ہے۔
انڈیا پانی روک کر پاکستان کی خوشحالی کو بدحالی میں تبدیل کر سکتا ہے۔دریاؤں کے پانی سے کئی رقبہ جات سیراب کیے جاتے ہیں نیز پینے اور دیگر ضروریات کے لیے بھی دریائی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی رک گیا تو رقبہ جات بھی خشک ہو جائیں گےاور پانی کی بھی شدید کمی ہو جائے گی۔انڈیا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ پاکستان کبھی برداشت نہیں کرے گاکہ اس کا پانی رک جائے،لیکن یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ انڈیا بھی جوابی رد عمل کے لیےتیار رہے۔جوابی ردعمل کا مطلب ہوگا کہ انڈیاجنگ کے لیے تیار ہو جائے۔بقول وزیراعظم کہ ایک بوند پانی بھی روکنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔واقعی اگر ایک بوند پانی کی بھی روکی گئی تواس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے۔










