بھیک مانگنے کا انوکھا انداز

تحریر۔ ،مظہر حسین باٹی

گذشتہ روز ایک کام کے سلسلے خانیوال جا رہا تھا راستے میں کبیروالا کے قریب پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی بھائی ایک منٹ کے لیے رکنا میں نے آپ سے بات کرنی ہے میں رک گیا جس پر وہ شخص اپنی سواری سے نیچے اتر آیا اور مجھے سلام لینے کے بعد کہنے لگا میں مسافر شخص ہوں ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا ہوں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میری سواری میں پٹرول نہیں ہے میں نے فیکٹری تک پہنچنا ہے مجھے کچھ پیسے دے دیں میں نے سوچے بغیر اسے کچھ رقم دے دی جب میں نے رقم اسے دی تو وہ شرمندگی سے نیچے منہ کر گیا جس پر میں نے منہ پھیر لیا تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو نوجوان شخص بہت تندرست اور ہٹا کٹا تھا بہرحال رقم لینے کے بعد وہ اپنی سواری پر تیزی سے آگے نکل گیا چند کلومیٹر سفر کرنے کے بعد میں نے اسے روڈ کنارے دیکھا جس کے پاس پانچ چھ نوجوان مزید بھی کھڑے تھے میں ان کے پاس بغیر رکے اپنا سفر جاری رکھا جب میں خانیوال ایک آفس پہنچا تو وہاں پر موجود ایک دوست نے میرا حال احوال پوچھنے کے بعد مجھے بتانے لگا کہ میں روزانہ کبیروالا خانیوال اور جھنگ روڈ پر سفر کرتا ہوں راستے میں مجھے روزانہ نوجوان ملتے ہیں روڈ سے سائیڈ پر روک کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس پٹرول نہیں،کھانے کے پیسے نہیں ہیں ،موٹر سائیکل خراب ہو گیا ہے،گھر میں فاقے ہیں راشن وغیرہ لے جانا ہے ایسی باتیں کرکے کہتے ہیں کچھ ہماری ہیلپ کر دو ہمیں کچھ رقم دے دو جس پر دو تین بار تو میں نوجوانوں کو کچھ رقم دی لیکن بعد میں جب ان کو عادی مجرم کی طرح دیکھا تو اب کہیں نہیں رکتا یہ صورتحال سن کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیا یہ لوگ واقعی مجبور ہیں جو روڈز پر ہر مسافر سے بھیک مانگتے ہیں اور لوگ ان کے بہکاوے میں آکر ان کو کچھ سپورٹ کر جاتے ہیں میرے خیال کے مطابق یہ نوجوان پیشہ ور بھکاری بن چکے ہیں اپنی سواریوں پر دور دراز کے علاقوں میں نکل جاتے ہیں شام تک روڈز پر بھیک مانگتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں ایسے نوجوان کو چاہیے کہ کوئی مزدوری کر لیں کسی فیکٹری میں ملازمت کر لیں ،رہڑی ٹھیلے پر بھی اشیاء خودونوش فروخت کرکے باعزت روزی کمائی جا سکتی ہے لیکن یہ نوجوان بھیک مانگ پر گزارا کرتے ہیں مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر بہت افسوس ہوا،ہمارے علماء کرام،سیاسی حضرات ،عوامی و سماجی حلقوں کو چاہیے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ان نوجوانوں کی تربیت کریں تاکہ یہ نوجوان باعزت روزی کما سکیں۔
مزید اس معاملے پر روشنی اہل دانشور ڈال سکتے ہیں۔