تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور ضلعی انتظامیہ کا کردار
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
*وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر صوبے بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی اسی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں اور ضلعی افسران اس مہم کو پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کی براہ راست نگرانی میں رجانہ چوک میں پیرا فورس نے بھرپور آپریشن کیا۔اس کارروائی کی قیادت سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر صدف ارشاد نے کی،جبکہ انفور سمنٹ آفیسر پیرا فورس تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد ابوذر بھی ہمراہ تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ غیر قانونی تھڑے، ریڑھیاں اور دکانوں کے آگے بڑھائے گئے شٹرز کے شیڈز کو ختم کر دیا۔ یہ منظر اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ انتظامیہ اب صرف اعلانات یا بیانات پر اکتفا نہیں کر رہی، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے شہریوں کو صاف، کشادہ اور خوبصورت ماحول فراہم کرنے کے مشن پر کاربند ہے۔تجاوزات صرف راستوں کو تنگ نہیں کرتیں بلکہ معاشرتی بدصورتی اور شہریوں کے روزمرہ معمولات میں مشکلات کا باعث بھی بنتی ہیں۔ عوام جب سڑکوں پر پیدل چلنے یا ٹریفک میں رواں دواں ہونے کے بجائے رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں تو یہ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ ایسے میں حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی قابلِ تحسین اقدام ہے، کیونکہ یہ شہریوں کے مفاد اور اجتماعی فلاح کی ضامن ہےصدف ارشاد نے بجا طور پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں، کیونکہ یہ مہم کسی فرد یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ عوامی مفاد کے لیے ہے۔ اگر شہری اس میں مثبت کردار ادا کریں تو نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ قانون کی بالادستی کا عملی ثبوت بھی سامنے آئے گا۔ بصورت دیگر، جیسا کہ افسر نے واضح کیا، سخت کارروائی سے گریز ممکن نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سلسلہ وقتی مہم تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل بنیادوں پر اس کا تسلسل قائم رکھا جائے۔ ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے کاروباری طبقے کے لیے متبادل اور منظم جگہیں فراہم کرے تاکہ روزگار کے ذرائع متاثر نہ ہوں۔ ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جس میں شہری سہولت بھی محسوس کریں اور محنت کش طبقہ بھی اپنے رزق سے محروم نہ ہو۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر عوام اور انتظامیہ ایک پیج پر ہوں تو شہر کو حقیقی معنوں میں خوبصورت، کشادہ اور قانون کی حکمرانی کا مظہر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مہم اس بات کا پیغام ہے کہ تبدیلی ممکن ہے، بس ضرورت اجتماعی عزم اور تعاون کی ہے۔*













