سانحہ روڈو سلطان 16 مئی 1999.

(سماجیات)

کالم نگار عمران مہدی

درد ناک کہانی, خوفناک حادثہ, قیامت صغری, دل دہلا دینے والے مناظر ۔۔۔۔۔ سماعتیں آج تک فیصلہ سے قاصر ہیں۔ کہ دھماکے کی آواز زیادہ تھی یا چیخوں کی ۔

آگ اتنی بلند ہوئی کہ کئی میلوں تک لوگ ورطہ حیرت میں آگئے۔

تباہ کن مناظر, آگ کی لپیٹ میں سینکڑوں لوگ گر رہے تھے۔ بھاگ رہے تھے۔ لاشوں پہ لاشے گررہی تھیں۔ لوگ جل کر راکھ میں تبدیل ہوئے۔ اعضا بکھرے ہوئے تھے۔

افراتفری کا عالم تھا ۔آہل ٹینکر کی آگ نے جلا کر کوئلہ بنا دیا تھا ۔ کچھ چند قدم پہ کچھ نہر میں گرے۔ تباہی اس دن روڈو سلطان موت و آگ کا کھیل کھیل رہی تھی۔

راقم کے کئی قیمتی کلاس فیلوز لقمہ اجل بنے۔ لاشیں اتنی خوفناک تھیں کہ پہچان سے باہر تھیں ۔ کوئی بھی لاش اٹھا کر اپنے پیارے کا نام دے کر دفنایا جا رہا تھا ۔

ایڑیاں رگڑتے , تڑپتے , مرتے۔ کہیں سر تو کہیں دھڑ کہیں اعضا تھے ۔ نادر علی خان مجھے پل پل سنبھالتے رہے۔مگر جائے وقوعہ پہ اک موٹڑ سائیکل پہ کلمہ لکھا تھا اسے آگ چھو نہ سکی۔ اللہ اکبر۔

ہر چہرہ سوگوار تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر گھرمیں صف ماتم تھی۔ کہرام برپا تھا۔

لوگ لالچ میں آگئے۔ دودھ گندے پانی میں انڈیل کے تیل بھرنے لگے۔ اور کاتب تقدیر صفحہ تقدیر پہ تباہی لکھ رہا تھا
روڈو سلطان کا قبرستان اک دن میں بھر گیا تھا ۔شہر کی شام پہ شفق کی سرخی دیر تک داستان رقم کرتی رہی۔ اور پھر گہری مایوس رات کے سائے گھمبیر ہو گئے۔

اس طرح کے حادثے سے سبق سیکھنا جاہیے۔

والسلام ۔ عمران مہدی ۔۔۔۔