کراچی! عظمت صحابہ، ریلیوں اور کانفرنسوں کی بہار
{ منیارہ نور }کالم نگار ۔نوید مسعود ہاشمی
ملک بھر میں عظمت صحایہ ریلیوں اور کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے… جمعتہ المبارک کے دن کراچی علماء کمیٹی کے زیراہتمام، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عادل خان کی سرپرستی میں۔۔۔ منعقد ہونے والی عظمت صحابہ کانفرنس ہو … یا ہفتہ کے روز رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن کی زیرقیادت منعقد ہونے والی عظمت صحابہ کانفرنس … بلامبالغہ ان دونوں کانفرنسوں میں کراچی کے لاکھوں عوام نے جس جذباتی انداز میں شریک ہوکر انتہائی والہانہ انداز میں حضرت سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی، سیدنا علی المرتضی، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا ابو سفیان و دیگر تمام صحابہ کرام، امہات المومنین اور اہل بیت اطہار کی عظمتوں کے نعرے بلند کئے وہ اپنی مثال آپ تھے۔
اگر پاکستانی میڈیا کی آنکھ میں ذرہ برابر بھی حیاء کا مادہ موجود ہوا۔۔۔ تو میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہر غیر جانبدار صحافی یہ بات لکھنے پر مجبور ہوگا کہ۔۔۔ جمعہ کے دن اہلسنت دیوبند مکتبہ فکر اور ہفتہ کے دن اہلسنت بریلوی مکتبہ فکر کے علماء نے کراچی کے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکالے، لیکن کہیں پر نہ زبردستی دوکانیں بند کروائیں، نہ گاڑیوں کو آگ لگائی … نہ زور زبردستی سے لوگوں کو عظمت صحابہ ریلیوں میں نکالنے کی کوشش کی … نہ کراچی کی سڑکوں کو بند کیا گیا نہ ہی ان لاکھوں افراد پر مشتمل ریلیوں اور کانفرنسوں کی حفاظت کیلئے حکومت کو قومی خزانے سے کروڑوں روپے پھونکنے پڑے، نہ کہیں توڑ پھوڑ ہوئی اور نہ ہی بدامنی کا کوئی واقعہ پیش آیا، پشاور میں7 مارچ کو منعقد ہونے والی مولانا فضل الرحمن کی عظیم الشان ختم نبوتۖ کانفرنس ہو، کراچی میں اہلسنت کے دیوبند اور بریلوی مسلک کی۔۔۔ عظمت صحابہ کانفرنسیں ہوں ، پاکستانی میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز نے ان تینوں عظیم عوامی اجتماعات سے جس ”بیگانگی” اور اجنبیت کا مظاہرہ کیا … اسے دیکھ کر اب عوام یہ بات کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اس میڈیا کا نہ جمہوریت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عوام سے۔۔۔
اتوار کے دن مسلک اہلحدیث سے وابستہ عوام کراچی پریس کلب تک عظمت صحابہ مارچ کررہے ہیں… عظمت صحابہ ریلیوں، ناموس صحابہ ، مارچز اور کانفرنسوں کو دیکھ کر صاف نظر آرہا ہے۔۔۔ کہ پاکستان میں بسنے والے اکثریتی اہلسنت عوام سخت بے چینی۔۔۔ اور اضطراب کا شکار ہیں … فرانس میں نبی مکرمۖ کے توہین آمیز خاکے چھاپنے کا معاملہ ہو،یا اسلام آباد اور کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام صحابہ کرام کی گستاخیوں کے معاملات، ان گستاخانہ واقعات نے پوری قوم کو پریشان کر ڈالا ہے … عوام سوال اٹھا رہے ہیں ، فرانس تو کافر ملک ہے، وہاں حکومت بھی انہی کی ہے لیکن پاکستان تو ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے … یہاں کی حکومت ابھی تک گستاخان صحابہ و اہل بیت کو گرفتار کرکے عبرتناک سزائیں کیوں نہیں دلواسکی؟
ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت اگر ریاست مدینہ کے جنت مکین۔۔۔ خلفاء اربعہ کے گستاخوں کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے … تو پھر اس ملک کی اکثریتی عوام کس در پہ جائے؟ کہاں سے انصاف مانگے؟ سات ارب سے زائد دنیا کی آبادی میں صرف ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ مسلمان… جبکہ5 ارب سے زائد مشرک، ہندو، عیسائی ، یہودی ، پارسی، غرضیکہ غیر مسلم ہیں ۔۔۔ جو ہمارے نبی آخر الزمانۖ کی نبوتۖ و رسالتۖ کو نہیں مانتے … مسلمانوں نے کبھی کافروں کو ڈنڈے کے زورپر نہ کلمہ پڑھانے کی کوشش کی اور نہ ہی ان سے یہ مطالبہ کیا کہ خاتم النبیین ۖکو تم بھی اپنا نبی تسلیم کرو، ہاں البتہ یہ ضرور کہا کہ کافروں کو آقا و مولیٰۖ کی گستاخی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، اور یہ مطالبہ بالکل جائز اور انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔
اسی طرح خاتم النبیین ۖ کے صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا چوالیس ہزار ہے … اگر کوئی شخص صحابہ کرام کی مقدس جماعت کو نہیں ماننا چاہتا تو نہ مانے … لیکن کبھی اسلام آباد، کبھی لاہور، کبھی کراچی کے چوکوں، چوراہوں اور سڑکوں پر نکل کر صحابہ کرام یا اہل بیت عظام کی توہین کرنا … نہ صرف اللہ اور اس کے رسولۖ کے احکامات کا مذاق اڑانے۔۔۔ بلکہ پاکستان میں بسنے والی اکثریتی اہلسنت عوام کے دلوں پر وار کرنے کے بھی مترادف ہے، حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت اور اس کے ادارے اسلام آبا د میں حضرت سیدنا صدیق اکبر کے گستاخ ملعون کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے … حکومت کے اس سرد طرز عمل اور مجرمانہ غفلت نے پاکستان کے اسی فیصد اہلسنت مسلمانوں کو سخت مضطرب اور مشتعل کر دیا ہے۔
حکمرانوں نے ایک بھیڑ چال پکڑی ہوئی ہے۔۔۔ کہ کبھی گورنر ہائوس اور کبھی کسی مہنگے ہوٹل میں۔۔۔ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے ناموں پر مختلف فرقوں کی بیورو کریٹ ٹائپ شخصیات کو جمع کرکے مختلف قسم کے۔۔۔ اعلامیے جاری کرکے یہ سمجھا جاتا ہے کہ باقی سب اچھا ہے۔
حالانکہ یہ بات قطعاً درست نہیں ہوتی… افسوس کہ ہماری ”صحافت” کی غیر جانبداری موت کے گھاٹ اتر چکی، وگرنہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر دوسروں کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے تو… پھرچوکوں اور چوراہوں پر اسی فیصد سے زائد اہلسنت آبادی کی مقدس شخصیات کی… توہین کرنا، کون سا دین ہے؟ مولانا اشرف علی تھانوی کے، مشہور زمانہ مقولے ”کسی کے مسلک کو چھیڑو مت اور اپنا مسلک چھوڑو مت” پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، شیعہ ہوں یا سنی ، یہ پاکستان میں بسنے والی وہ حقیقت ہے۔۔۔ کہ جس سے انکار کرنا سورج کی شعاعوں کو ہتھیلی سے۔۔ چھپانے کے مترادف ہے … یقینا پاکستان کی اسلامی نظریاتی اساس اور جغرافیائی حدود کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ عوام کو آپس میں لڑا دیا جائے، یہود و نصاریٰ، ہنودو، مجوس کی اس قسم کی مکروہ سازشوں کا توڑ کرنے کے لئے لازم ہے۔۔۔ کہ حکومت بروقت اور انصاف پر مبنی ایکشن لے۔
اسلام دشمنوں کی سازشیں کامیاب ہوتی ہی۔۔۔ اس وقت ہیں کہ جب حکومت کسی خاص وجہ سے تعصب کا شکار ہوکر بروقت اقدام نہ کرے۔۔۔ اور عدلیہ مظلوموں کو انصاف فراہم نہ کرسکے، جمعہ کے دن ہم نے گاڑی جامعہ بنوری ٹائون سے متصل تھانے۔۔۔ کی دیوار کے ساتھ پارک کی، اور وہاں سے شارع قائدین کی طرف سفر شروع کیا … مزار قائد سے لے کر شارع قائدین تک انسانی سروں کی اک فصل تھی۔۔۔ کہ جو لہلہاتی ہوئی نظر آئی، میں اپنے صحافی دوستوں کے ساتھ پیدل ہی… عظمت صحابہ کے متوالوں کے نعرے سنتے ہوئے شارع قائدین پر پہنچا … تو ساتھی دوستوں نے سٹیج پر چلنے کی دعوت دی۔۔ جسے اس خاکسار نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ عشق صحابہ کے… جانبازوں کے درمیان کھڑے رہنے سے ان کے ذاتی تاثرات کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ… جو ایمانی حلاوت ملتی ہے میں اس سے محروم نہیں ہونا چاہتا، وہ لاکھوں تھے… اور سٹیج پہ کھڑا ہوا کوئی بیباک خطیب ان سے صحابہ، صحابہ، صحابہ، صحابہ کا ورد کروا رہا تھا … صحابہ، صحابہ، صحابہ کا… یہ ورد میرے کانوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا … سٹیج سے بہت دور ہونے کی وجہ سے میں ”خطیب” کو پہنچاننے میں ناکام رہا، تحقیق اور جستجو کے بعد… پتہ چلا کہ وہ مولانا اورنگ زیب فاروقی تھے۔











