گاوں کی زندگی

تحریر ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈمیڈلسٹ

جب سے شہر میں آیا ہوں میری گاؤں سے محبت پہلے سے بڑھ گئی ہے میرا دل کرتا ہے میں یہاں سے ہمیشہ کے لیے بھاگ جاؤں لیکن کہتے ہیں نا کبھی کبھی آپ کو کسی نے باندھا بھی نہیں ہوتا اور آپ اُس جگہ سے ہِل بھی نہیں سکتے۔
میرے گاؤں میں وہ سب کچھ ہے جو شہروں میں نہیں ہوتا، خالص ساگ، خالص دودھ ، خالص مکھن،وغیرہ اور وہاں کہنا بھی نہیں پڑتا کہ دودھ 90 روپے والا یا 140 والا چاہیے وہاں صرف دودھ ہوتا ہے جسے خالص کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیوں کہ وہاں ملاوٹ کو اب بھی گناہ سمجھا جاتا ہے صبح صبح لوگ نماز کے بعد درانتی لے کر کھیتوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور جانوروں کے لیے چارے کا بندوست کر کے پھر خود ناشتہ کرتے ہیں ،
میرے گاؤں کے بچے آج بھی ساتھ والے گاؤں میں پیدل چل کر سکول جاتے ہیں جہاں میں اور میرے دوست بھی جایا کرتے تھے لیکن اب وقت کافی بدل چکا ہے میں کبھی گاؤں میں جاؤں تو میں اُن راستوں پر ضرور چلتا ہوں جہاں میں نے اپنا بچپن گزارا اور اپنے بچپن میں اُن راستوں پر ساتھ چلنے والوں کو بہت مِس کرتا ہوں ، اور پریشان اس لیے بھی ہوتا ہوں کہ ہمارے رستے میں رونق لگانے والے سارے درخت لوگوں نے کاٹ دیے ہیں، ہم بچے اُن درختوں کو اپنا دوست سمجھتے تھے یوں لگتا تھا جیسے ہمارے آنے پر اُن کی چھاؤں گھنی ہو جاتی تھی اب ویرانیاں ہی ویرانیاں ہوتی ہیں ، اور وہ جو بزرگ بابے ہمیں گندم والی زمین سے گزرنے سے روکتے تھے وہ بابے فانی جہاں سے رُخصت ہو چکے ہیں ، وہ زمانہ اب صدیوں بعد بھی نہیں آنے والا دوست یار سب ایک دوجےسے بچھڑ کر اپنے اپنے مقدر کے ساتھ چل رہے ہیں .
گاٶں والے لوگ عظیم لوگ

ڈاکٹرمحمد اقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)