کوئی جھگڑا ہی نہیں بنتا ہے تقدیر کے ساتھ.

غزل شاعر حسرت خان خٹک
انتخاب ماجد راندھاوا

کوئی جھگڑا ہی نہیں بنتا ہے تقدیر کے ساتھ.
کھول زنجیر کو خود نت نئی تدبیر کے ساتھ.

خواب بننے کے لیے روز ہی سو جائیے آپ.
جاگیے روز مگر خواب کی تعبیر کے ساتھ.

عالمِ دہر کوئی لمس کی تدبیر بھی ہو.
اب گزارا نہیں ہو سکتا ہے تصویر کے ساتھ. ????

حسنِ تحریر بجا ہائے یہ خوشبو لیکن.
اس نے اک پھول بنا بھیجا ہے تحریر کے ساتھ.

گھر کا آنگن ہے میاں جنگ کا میدان نہیں.
مسئلے گھر کے کبھی حل ہوئے شمشیر کے ساتھ.

رشتہ مضبوط سے مضبوط ہوا جاتا ہے.
ترا تخریب کے ساتھ اور مرا تعمیر کے ساتھ. ????

قتل کرنے کی کھلی چھوٹ ہے تم کو لیکن
زہر کو بیچنا اس پر لکھی تاثیر کے ساتھ.

شدتِ ہجر میں قربت کا بہانہ پا کر.
اپنی تصویر لگا دی تری تصویر کے ساتھ.

جاگتے دور میں کس کس کو جگایا جائے.
جہل کی مجھ سے نہیں بنتی مری پیر کے ساتھ.

عربی میں بھی پڑھا دیجیے مجھ کو لیکن.
ساتھ اردو میں بتا دیجیے تفسیر کے ساتھ.

موت کو کاہے کی جلدی کہ مجھے لے جائے.
گرچہ ہر کام کیا میں نے ہے تاخیر کے ساتھ.

سانپ پہلے بھی فراوانی سے موجود رہے.
میں نے بچھو بھی کئی پالے ہیں کف گیر کے ساتھ.

کس نے رہنا ہے یہاں دائم و قائم حسرت.
کس کی بن پائی ہے اس عالمِ غم گیر کے ساتھ ????

حسرت خان خٹک. ????