بجلی کی لوڈ شیڈنگ

تحریر عبدالستار سپرا

یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے
تقریبا چار سالوں سے سے پاکستانی عوام کا جو حال ہے یہ تو کسی غریب سے غریب تر ملک میں بھی نہیں ہوتا عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے افسران خود کو ملک کا بادشاہ تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کو رہائش گاہ پانی بجلی ٹیلی فون ہر قسم کی مارات مفت دی جاتی ہیں تو یہ کیسے کام کریں گے
بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے ہر بیس گھنٹے بعد بجلی اتی ھے صرف ایک گھنٹہ لوگو کا جینا حرام کر دیا ھے ساتھ ساتھ پانی کی مشکلات بھی بڑھ گیء گیس پائپ لائن میں تقریباً تین سال سے جمم چکی ہے پانی والے کی مرضی آجاے یا نہ آئے کیونکہ کہ ہم ہیں پاکستانی بجلی گیس نہ پانی دریائے سندھ کے پانی میں بھی گندگی شامل ہے لکڑی اور کوہلہ غریب عوام اور سفید پوش انسان خرید نہیں سکتے بجلی گیس پانی کے بل ثواب کی نیت خلوص پیارے ومحبت کے ساتھ پوری طرح خدمت میں پیش کیا جاتے ہیں جیسے غریب عوام سردیوں میں اے سی چلا رہیں ہیں اگر کوئی شکایت درج کروائی ہو تو فون تک اٹھنا گوارا نہیں کرتے جیسے عوام کے فون کا بل یا پیکج یہ لگا کر دیتے ہیں
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
حکومت پاکستان سے گزارش ہے اگر لوٹ مار اور بجلی گیس پانی کی چوری کو یہ رکو نہیں سکتے عوام کی فریاد نہیں سنا سکتے تو اس سے بہتر ہے یہ محکمے بند ہی کردیں ان مفت کی تنخواہیں لینے والے سے بہتر ہے کوئی اور متبادل تلاش کریں کسی بھی ملک میں وہ کوئی بھی محکمے ہوں وہ حکومتی خزانے کو نقصان نہیں پہنچتا اپنے ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں کوئی بھی ادارہ ہے وہ ملکی سطح پر ناقابل تلافی نقصان دے رہا ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافے کر رہیں ہیں ان کی وجہ سے آج ملک پاکستان کی معیشت کا یہ حال ہے کوئی ملک پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں سبز باغ دکھائے والے بھی کرسی ملنے کے بعد خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں کیا جو ملک
لا الہ الا اللہ کے نعرے پر حاصل کیا گیا ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان اس کو اس کردار تک پہنچانے والوں کے خلاف کاروائیاں کیوں نہیں ہوتی اگر ہوتی ہیں تو مافیاں کیوں مل جاتی ہیں یہ انصاف کے رکھوالوں بھی ملک کو نقصان پہنچانے والے اداروں سے بھی بڑھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے بھی جیتیں گے اپنے ملک پاکستان کو نقصان پہنچانے والے کا دے کر یہی سچ ہے یہی حقیقت کوئی مانے یا نہ مانے کیونکہ جس ملک میں انصاف نہیں ہوتا وہ ملک ترقی نہیں کرتے تباہ و برباد ہوتے ہیں اور یہی حال ہمارے ملک پاکستان کا ہے
شام تک بک گیا سارے شہر کا جھوٹ
اور میں سچ لیے شام تک بیٹھا رہا