پی پی 130

تحریر عمران مہدی

احمد پور سیال حلقہ پی پی 130میں سیاسی پارہ شدت اختیار کرگیا۔ میدان سجنے لگے۔۔۔۔دل دہلنے لگے ۔ دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں۔ رن کانپنے لگا۔ گھمسان کی جنگ کے طبل بج گئے۔۔۔۔ ماحول گرما گیا۔بڑے بڑے بڑوں کے ساتھ بڑی بڑی پلاننگ کرنے لگے۔ سر جوڑنے لگے۔

خان امیر عباس خان سیال ۔

شیر اپنی کچھار میں شکار کے لیے بے قرار۔ اپنی دھاڑ کی ہیبت سے وحشت طاری کرتے ہوئے ۔جھپٹنا پلٹنا ایک ہی وارسے کام تمام کرنے کے لیے تاک لگائےشیروں کے جتھے کے ساتھ شہر شہر نگر نگر شکار کی تلاش میں تیار ۔ دوڑیں لگے گئیں۔ پے در پے وار سے ہمیشہ کے لیے راج کے حصول کے لیے پرعزم امیدوار ۔

رانا شہباز احمد خان ۔

اپنی تمام تر توانائیوں کو یکجا کر کے تمام کارگر ہتھیاروں سے لیس شیر کا شکار کرنے کے لیے حلقہ میں جال بننے لگا۔ ماہر شکاری اپنی چالوں سے شیر کو ہراساں کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔خود کو نظریاتی ثابت کر کے میدان میں ڈٹ کے کھڑا ہے۔۔ دوڑیں لگیں گی۔ پےدر پے وار ہوں گے۔

نواب نوازش علی خان سیال

تیسری قوت عقاب کی طرح نظر جمائے اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہے۔ وہ وار پہ وار کرے گا۔ اس کے ہاتھ شیر لگا یا شکاری زخمی ضرور کرے گا ۔ دوڑیں لگے گیئں۔ میدان سجے گا۔

الحاج نذر عباس خان سیال

سیاست عبادت سیاست خدمت سیاست فلاح سیاست محبت کے نام سے بہت عزت کمائی ہے۔ وہ اس بار پوری پلاننگ سے میدان میں اتر رہا ہے۔ اور صیح معنی میں حقیقی حقدار بن کر وہ بے داغ بے باک لیڈر بن کے میدان میں اتر رہا ہے۔ دوڑیں لگیں گی۔ نعرے لگیں گے۔

جنگ کے طبل بج چکے ہیں۔ تمام سپہ سالار اپنے اپنے کمانڈروں سمیت میدان کی جانب بڑھنے لگے ہیں۔ قلب میمنہ میسرہ سے ہو گی یلغار۔۔ ہو گا ٹکراؤ تصادم

شور اٹھے گا۔لگیں گے نعرے ۔ بڑے بڑے سورما میدان میں اتریں گے۔ جیت کی لگن میں ہوں گے بلند و بانگ دعوے۔ اپنے اپنے مورچے سے ہوں گے وار پہ وار
دیکھنا یہ ہے کہ زمینی حقائق کس کروٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔سہرا کس کے سر سجتا ہے ۔ کون ہو گا فاتح ۔۔۔کالم لکھیں گے ہمارے ساتھ جڑے رہیے گا۔

تحریر عمران مہدی۔۔۔سماجیات۔۔۔۔محمودکوث