ترقی سےعروج تک۔۔۔ذیشان المانی کی کہانی۔۔۔ محمد شہزاد خان کے قلم سے سٹارنیوزپر۔۔۔
“دوست تو بھائی کی طرح ہوتا ہے”
کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ اتنا پڑھا لکھا تو نہیں تھا لیکن اس کے اندر ٹیلنٹ اور بولنے کی صلاحیت بہت ہی کمال کی تھی۔
وہ لڑکا تقریبا 12 سال کا تھا تو اس کا والد وفات پا چکا تھا۔ اس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا تھا۔ میں اسے بچپن ہی جانتا تھا لیکن اس سے میرا پہلا سلام دعا اس کی 13 سال کی عمر میں ہوا۔ میں کسی کام کے سلسلے میں لاہور جا رہا تھا تو میں فیس بک چلاتا تھا اور میری فیس میسنجر میں میسج آیا شہزاد یار کیسے ہو! یار میں نے تجھے بار بار دیکھا ہے لیکن آپ سے سلام و دعا نہیں کر سکا تو میں نے کہا بھائی سے سلام دعا کر لیں۔ دل تو بہت خوش ہوا میں سوچ بچار میں پڑ گیا بندے نے کیسے یاد کیا۔ یہ تقریبا 2018 کی بات ہے میں نے اسی دنوں ایک ملتان کا نیوز پیپر جوائن کیا تھا اس اخبار کا نام قوم کا سفیر تھا
اس بندے کو بھی میڈیا سے شروع سے لگاؤ تھا۔ مگر مالی حالات کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسی دنوں مجھے ملتان سے کارڈ مائک اور لوگو بھیجا گیا تھا۔ اس اللہ کے بندے نے مجھے میسج کیا یار اپنا ایک بار مائک تو دے دو میں نے ایک پروگرام کرنا ہے۔ میں نے کہا یار تم نئے بندے ہو پتہ نہیں کیا کرؤ گے۔ میں نے اسے منع تو نہ کیا لیکن اس کو مائک اور لوگو دے دیا۔ وہ فورا بعد روڈو سلطان اڈے پہ آیا انہی دنوں اُوچ روڈ پر ایک روڈ کا افتتاح ہو رہا تھا۔ اس روڈ کا افتتاح کرنے صاحبزادہ محبوب سلطان آئے ہوئے تھے۔ وہ بندہ جس نے میرے سے مائک لیا تھا وہ محبوب سلطان کے پاس گیا اور دھیمی آواز میں کہا کہ میں آج آپ کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں۔ ساتھ کھڑے سیاسی لوگوں نے کہا یار تو کیا مذاق کرے گا اپنا انٹرویو رہنے دے اور اپنا مائک اٹھا گھر کو جا۔ اس لڑکے نے مجھے کہا کہ ایسا کرو اپنے موبائل کو پن لگاؤ۔ اور مائک کو اَن کرو میں نے مائک اَن کیا اس نے شروع سے ہی ایسے سوال کرنے شروع کر دیے اور ایسے کمال کے سوال پوچھے کہ سارے حیران رہ گئے۔ باتوں باتوں میں وہ ہمارے بڑے ایم این اے صاحب باتوں میں پھنس گئے۔ اپ نے جو سب سے پہلا سوال کیا اپ نے کہا کہ اپ نے ہمارے جھنگ کی ترقی کے لیے کون کون سے کام کیے ہیں۔ اور ہمارے غریب لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ محبوب سلطان صاحب ان سوالات کا جواب صحیح انداز میں نہ دے سکے۔ اور پروگرام کو اختتام کی جانب کرنے لگے۔ وہاں پر کھڑے لوگوں نے اس بندے کو اتنی داد دی اتنی داد دی کہ وہ بہت خوش ہوا۔ پھر وہ جہاں بھی جاتا جہاں بھی پروگرام کرتا کبھی بھی نہیں گھبرایا۔ پھر اس کے بعد اس بندے سے بہت سے یوٹیوبر سوشل میڈیا ورکر اور نیوز چینل کے مالکان نے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ پلیز اپ ہمیں ٹائم دیں ہم اپ کو اچھی سی جاب دیتے ہیں۔
اگر اپ نے ابھی بھی اس بندے کو نہیں پہچانا تو اپ کی سوچ و بچار و ذہنی کمزوری تو بنتی ہے۔ جی اس بندے کا تعلق ضلع جھنگ کے پسماندہ علاقہ ٹبہ گہلی کا رہائشی اینکر پرسن ذیشان المانی، جی ہاں اپ نے بالکل صحیح پہچانا۔ اپ کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ پورا جھنگ کیا پورا پنجاب کیا پورا پاکستان اپ کو اچھی طرح جانتا ہے
پھر اس بندے سے امریکہ سے ایک بندے عدیل نے رابطہ کیا کہ میں اپ کو تمام فیکلٹی دیتا ہوں کیمرہ دیتا ہوں مائک دیتا ہوں کیمرا سٹینڈ دیتا ہوں اپ ہمارے ساتھ کام کریں۔ پھر ذیشان نے بسم اللہ پڑھ کر چینل پہ کام کرنا شروع کر دیا۔ پھر کیا بنا کہ کچھ ہی دنوں بعد چینل مونیٹائز ہو گیا چینل کا نام تھا رئل پاکستان۔ پھر اپ کے ویوز ملین میں چلے گئے اور سبسکرائب ہزاروں میں۔ تو وہ جہاں بھی جاتا جس جگہ بھی پروگرام کرنے جاتا ہے میں کیمرہ مین کے طور پر اس کے ساتھ ہوتا۔ وہ سب دل کی بات ہے مجھے شیئر کرتا۔ میں بھی کوئی بات اس سے نہ چھپاتا۔ دن گزرتے گئے دن گزرتے گئے کافی مہینے ہو گئے۔ اپ کا نام پورے پاکستان میں مشہور ہو گیا بڑے بڑے اینکر بڑے بڑے سیاست دانوں نے آپ سے رابطہ کرنا شروع کر دیا کہ اپ ہمارا بھی انٹرویو کریں۔ ذیشان بھی اپنی مرضی کا مالک تھا۔ جو اس کا دل کرتا ہے وہی کرتا۔ پھر اس کے بعد روڈو سلطان کی عظیم شخصیت ملک صدیق نے اپ سے رابطہ کیا کہ میں نے ایک نیا چینل بنایا ہے اپ ہمارے چینل پہ کام کریں۔ چینل کا نام تھا ڈیلی پوسٹ پاکستان۔ پھر اس کے بعد ذیشان المانی نے اس چینل پہ کام کرنا شروع کر دیا۔ چینل پہ اتنا کام کیا کہ کچھ ہی دنوں بعد چینل کی گروتھ ہو گئی۔ اور چینل کے ویوز ملین میں چلے گئے۔ پھر اس کے بعد لاہور سے کچھ سوشل ورکر اور اینکرز نے اپ سے رابطہ کیا۔ کہ اپ ہمارے افس آئیں، اپ ہمارے افس میں کام کریں ہم اپ کو اچھی مالی امداد اور اچھی خاصی تنخواہ دیں گے۔
پھر اپ نے لاہور کے ایک مشہور یوٹیوب چینل و فیسبک پیج Pioneer World پر کام کرنا شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ اس چینل پر ایک ہی ہفتے میں تین سے چار ویڈیوز ملین میں پہنچ گئیں۔ پھر دن گزرتے گئے کارواں چلتا گیا۔ پھر اپ پاکستان کے سیٹلائٹ اور نیشنل چینل پر اپنے پروگرام ریکارڈ کرواتے رہتے ہیں۔ اور اللہ پاک نے اپ کو ایسی ترقی دی کہ اپ کو بچہ بوڑھا ہر کوئی جانے لگ گیا۔ پھر اپ اتنے مشہور ہوئے کہ اپ کو لاہور سے ایک فیمیل اینکر نے رابطہ کیا کہ اپ کے بولنے کی صلاحیت کمال کی ہے پھر آپکی اس لڑکی سمن الیاس سے فرینڈ شپ ہو گئی۔ پھر کچھ مہینے وہ آپ سے رابطہ کرتی رہی۔پھر بات واٹس ایپ تک پہنچ گئی۔ باتیں ایسی ہوئی ایسی ہوئی کہ کمال ہی ہو گیا۔ کہ لڑکی نے شادی کی آفر کر دی۔ پھر دونوں کی رضا مندی سے شادی ہوگئی۔ پھر دونوں کی لاہور میں بڑے دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ اب وہ دونوں بندے ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔
یاد رہے اس سے گزرا ہوا وقت کبھی نہیں بھول سکتا
اس کی تمام تصاویر جو اس کےِ ساتھ بنی ہوئی ہے یا جو بھی پروگرام میں یا انٹرویو پہ بنائی گئی سبھی ویڈیوز میرے پاس موبائل کی گیلری میں سیو ہیں۔
اور انشاءاللہ گزرا ہوا وقت گزرنے والا وقت اور اور جو نیکسٹ آنے والے وقت میں سبھی یاد رہے گا۔ میرا دوست جہاں بھی رہے جس جگہ بھی رہے خوش رہے اپ کے لیے دل سے دعائیں ہیں???????? ۔
باقی دوست بھی اپنی راۓ دے سکتے ہیں۔شکریہ










