اجالا ویلفیئر سوسائٹی
تحریر ۔محمد شہزاد خان
“اجالا ویلفیئر سوسائٹی ایک سوسائٹی نہیں بلکہ غریب لوگوں کے لیے بھلائی کے ساتھ ساتھ خیر خواہی بھی ہے”
پچھلے دنوں کی بات ہے ایک بندے کو روڈو سلطان میں اچانک ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے تو وہ زندگی کی آخری لمحات کی کشمکش میں پڑا ہوتا ہے۔ اس کا اس وقت کوئی ولی وارث نہیں ہوتا۔ سارے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کیا کریں اچانک کسی کے دماغ میں سوچ آتی ہے۔ یار روڈو سلطان میں ایک ایسا ادارہ بھی ہے جو غریب لوگوں کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ بیمار لوگوں کا بھی خاص خیال رکھتا ہے۔ وہ بندہ اپنا موبائل فون نکالتا ہے اور اجالا ویلفیئر کے افس میں کال کرتا ہے۔ جی سر اپ اجالا ویلفیئر کے افس سے بات کر رہے ہیں۔ اگے سے کال ریسیو ہوتی ہے وہ کہتے ہیں جی بالکل آپ نے صحیح کال ملائی۔ آپ حکم کریں آپ کو کیا پریشانی ہے۔ کال والا بندہ پوچھتا ہے آپ وارث خان کے بھائی بات کر رہے ہیں، جی جی بالکل میں وہی بات کر رہا ہوں میرا نام شفقت خان ہے۔ آپ حکم کریں کیا پریشانی ہے، سر ہمارے علاقے میں ایک بندے کو اچانک ہارڈ اٹیک آگیا ہے تو اس کی فیملی بہت پریشان ہیں۔ سر آپ پریشان نہ ہوں اپ ہمیں مکمل ایڈریس بتائیں ہم اونلی پانچ منٹ میں اپ کے پاس ہوں گے۔ بس وہ کال کاٹتا ہے اور اجالا ویلفیئر کی مکمل ٹیم اپنی ریسکیو ایمبولینس کو سیدھا کرتے ہیں اور روڈ سلطان کے ویرانے علاقے کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ ٹھیک پانچ منٹ گزرتے ہیں کہ ایمبولنس اس وقوعہ پر پہنچ جاتی ہے۔ وہ اس ہارڈ کے مریض کو رورل ہیلتھ سینٹر روڈو سلطان ایڈمیٹ کر دیتے ہیں۔ روڈو سلطان کے مشہور ڈاکٹر ایم بی بی ایس حافظ بلال ظفر اپنی زیر نگرانی اس مریض کا علاج کرتے ہیں۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد مریض کی حالت بالکل اچھی محسوس ہونے لگ جاتی ہے۔ اس مریض کے گھر والے ڈاکٹر صاحب اور اجالا ویلفیئر کی ٹیم کو دل سے دعائیں دیتی ہیں۔ اور اس مریض کی ماں کہتی ہے اللہ پاک آپ کو رنگ لائے آپ نے میرے بچے کی جان بچائی اللہ پاک آپ کو اسی دنیا میں اجر عطا فرمائیں گے، یہ اجالا ویلفیئر سوسائٹی پورے روڈو سلطان میں بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ پچھلے دنوں کی بات ہے کہ روڈو سلطان مدھرے والی پل کے ساتھ جنوب کی جانب ایک بہت ہی غریب فیملی رہتی ہے جس کا کوئی کمانے والا نہیں ہے۔اس گھر میں چار بھائی رہتے ہیں اور سارے ہی ذہنی معذور کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی معذور ہیں۔ یخ سردیوں میں اجالا ویلفیئر کی ٹیم نے وہاں جا کر ان کو بند جوتے،گرم کمبل اور کھانے پینے کی اشیاء بلکل مفت میں دے کر آئے۔ آج کل کے دور میں کسی کو مفت چیز بھی دینا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، یہ صرف میں چند باتیں بتا رہا ہوں جو میں نے اپنی انکھوں سے دیکھی ہیں، اس کے علاوہ بھی میں اجالا ویلفیئر سوسائٹی فیس بک پیج پر کافی پوسٹیں پڑھتا رہتا ہوں۔یہ روڈو سلطان کی واحد ویلفیئر سوسائٹی ہے جو مخلص ہو کر کام کر رہی ہے کسی غریب خاندان کی لڑکی کی شادی کرنی ہو اس کو جہیز کا سامان دینا ہو، کسی تڑپتے ہوئے مریض کو علاج کے ساتھ ساتھ اس کی جان بچانے کے لیے سر دھڑ کی محنت لگا کر کوشش کرنی ہو، یا کسی غریب بے سہارا کو اس یخ سردی میں مکان چھت دیوار یا واش روم نلکا دینا ہو، میں سمجھتا ہوں اس ویلفیئر کے بعد کوئی ویلفیئر نہیں ہو سکتی۔ پچھلے دنوں کی بات ہے کہ میرے ماما جان کی طبیعت اچانک خراب ہو جاتی ہے۔ پورے جھنگ والے جواب دے دیتے ہیں۔ یہ مریض نہیں بچ سکے گا اس کو گھر لے جاؤ، میں پورے ایمانداری اور دعوے سے کہتا ہوں اجالا ویلفیئر نے بڑی محنت کر کے میرے ماموں جان کو ملتان نشتر ہسپتال میں داخل کروایا وہاں ان کی ٹریٹمنٹ کروائی ۔ ہمارا پورا خاندان کیا ہمارا پورا علاقہ اس اجالا ویلفیئر سے دلی طور پر بہت خوش ہوا۔ میں جتنی بھی مثالیں دوں بہت کم ہیں۔ اجالا ویلفیئر سوسائٹی کی مکمل ٹیم بہت ہمت اور حوصلے سے کام کر رہی ہے۔ میں جتنی بھی داد دوں بہت کم ہیں۔ ایک دن آئے گا کہ اجالا ویلفیئر کی ٹیم پورے جھنگ میں کیا پورے پنجاب میں کیا بلکہ پورے پاکستان میں پھیل جائے گی۔ ہماری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ دعائیں ہیں کہ اللہ پاک اس ٹیم کے ایڈمن شفقت خان اور اس کی مکمل ٹیم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سدا آباد رکھے۔ میں عوام الناس سے بھی اپیل کروں گا کہ اس مخلص اجالا ویلفیئر سوسائٹی کے ساتھ اپنے حسب توفیق مالی طور پر اپنا حصہ ڈالا کریں۔ اور آخرت میں اعمال کا اضافہ کریں، یاد رہے غریب کے دل سے نکلی ہوئیں دعائیں کبھی ضائع نہیں کی جاتیں۔ اللہ پاک اس مخلص ٹیم کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے آمین????????










